dushwari

(29رجب یوم وفات کے موقع پر خصوصی تحریر)

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ایک زمانہ میں امت مسلمہ کے اندر گیارہ یا اس سے بھی زیادہ مکاتب فکر کا رواج تھااور شرق و غرب میں اتنی ہی تعداد کے ائمہ کی پیروی کی جاتی تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ کچھ مکاتب فکر معدوم ہوتے گئے اور تاریخ کا حصہ بن گئے،جیسے اندلس میں جب مسلمانوں نے قدم رکھا تو کم و بیش ایک یا ڈیڑھ صدی تک وہاں امام اوزاعی رحمۃ اﷲ علیہ کی فکر غالب رہی لیکن بعد میں فقہ مالکی نے اس کی جگہ لے لی۔یہی صورت حال پوری امت میں رہی کہ ایک جگہ پر کسی ایک فکر نے غلبہ پائے رکھا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اس فکر پر کوئی دیگر مدرسہ غالب آگیا۔

(21رجب یوم وفات کے موقع پر خصوصی تحریر)

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

رات گئے ایک شخص امیرالمونین کے دروازے پر دستک دیتاہے اور آدھی دنیاکا حکمران اپنے گھرسے باہر نکل آتاہے،وہ شخص اپنے ہاتھ میں پکڑی اشرفیوں کی بھری تھیلی امیرالمومنین کی طرف بڑھاتاہے اور عرض کرتاہے اتنے سو میل دور فلاں بستی سے آیاہوں اور یہ مال زکوۃ آپ کی خدمت میں پیش کرتاہوں،امیرالمومنین نہایت افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ مال راستے میں تقسیم کردیاہوتامیرے پاس لانے کی کیاضرورت تھی؟؟،نوواردعرض کرتاہے یاامیرالمومنین سارے راستے آواز لگاتاآیاہوں کہ لوگو زکوۃ کامال ہے کوئی تو لے لو،لیکن سینکڑوں میل کے اس سفر کوئی زکوۃ لینے والا نہ تھا۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES