dushwari

(۱۵؍جون ۱۸۵۷ء ؁ کی شہادت کے موقع پر)

شمیم اقبال خاں

ہندوستان میں جب بھی جنگ آزادی کے سورماؤں کا ذکر آتا ہے تومسلمانوں کے دو ایک نام مجبوراً لے لیے جاتے ہیں ان میں ایک نام مولانا ابوالکلام آزاد کا ہے اور دوسرا نام شہید اشفاق اللہ خاں کا۔ان دو ناموں کے علاوہ کسی سطح پراور کوئی نام نہیں لیا جاتالیکن اگر ایمان داری سے فہرست تیار کی جائے تو فرقہ پرستوں کی آنکھیں تعجب سے پھیل جائیں گی۔یہ دوسری جنگ آزادی کا حال ہے، پہلے جنگ آزادی کے مسلم سورماؤں کا تو کوئی ذکر ہی نہیں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی نئی نسل اپنے اسلاف کی جنگ آزادی کی حصہ داری سے بالکل انجان ہے۔اسے کبھی کبھی احساس شرمندگی بھی ہوتی ہوگی کہ ہمارے اسلاف یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے۔

(فکروخبر تحقیقی مضمون )

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ پرانے چراغ میں فرماتے ہیں ......
میری طالبِ علمی کا زمانہ اور میرے لکھنے پڑھنے کی عمر کا بچپن اور مولانا کے علم وتصنیف کی عمر کا سن کہولت .......اس عرصہ میں کبھی ہمارے گھر کو بھی رونق بخشتے او رکبھی ہم مولانا عبد الباری کے دولت کدہ (شبستان سعادت ) پر حاضر ہوکر ان کی زیارت وصحبت کی سعادت حاصل کرتے ۔ اس دور وزمانۂ قیام کے دوتأثرات باقی رہ گئے ہیں ۔ ایک ان کی شیریں گفتاری ، شگفتہ بیانی دوسری ان کی نورانی صورت ، خندہ پیشانی ۔ ان دونوں صفتوں نے مل کر ان کی شخصیت میں دلآوازی اور دلکشی پیدا کردی تھی اور کسی طرح ا ن کی موجودگی یا گفتگو طبیعت پر بار نہیں ہوتی تھی .. اور جو ان کی صحبت میں ایک مرتبہ بیٹھ جاتا وہ یہ کہتا ہوا اٹھتا ؂

(29رجب یوم وفات کے موقع پر خصوصی تحریر)

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ایک زمانہ میں امت مسلمہ کے اندر گیارہ یا اس سے بھی زیادہ مکاتب فکر کا رواج تھااور شرق و غرب میں اتنی ہی تعداد کے ائمہ کی پیروی کی جاتی تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ کچھ مکاتب فکر معدوم ہوتے گئے اور تاریخ کا حصہ بن گئے،جیسے اندلس میں جب مسلمانوں نے قدم رکھا تو کم و بیش ایک یا ڈیڑھ صدی تک وہاں امام اوزاعی رحمۃ اﷲ علیہ کی فکر غالب رہی لیکن بعد میں فقہ مالکی نے اس کی جگہ لے لی۔یہی صورت حال پوری امت میں رہی کہ ایک جگہ پر کسی ایک فکر نے غلبہ پائے رکھا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اس فکر پر کوئی دیگر مدرسہ غالب آگیا۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES