dushwari

تازہ ترین خبر:

بھٹکل : انجمن ڈگری کالج کے زیر اہتمام کل ہند مشاعرہ کا انعقاد

بھٹکل: 12؍فروری2018(فکروخبر نیوز) انجمن ڈگری کالج اینڈ پی جی سینٹر کے زیر اہتمام اور کرناٹکا اردو اکیڈمی کے اشتراک سے 11فروری کی شب کل ہند مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی شعراء کے ساتھ ہندوستان کے مختلف شہروں سے شعراء نے شرکت کی ،اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول گراؤنڈ میں رات نو بجے شروع ہونے والے اس کل ہند مشاعرہ میں مہمانان شعراء کے طور پر جناب ریاض احمد خمار ، یوسف بنارسی بنگلور ، سراج شعلہ پوری ممبئی ، ڈاکٹر کلیم ضیاء ممبئی ،مشتاق گوہر بیلگام ، جناب حمید اکبر گلبرگہ نے شرکت کی ،

شعراء نے حالات حاضرہ اپنا خوبصورت کلام پیش کیا ،ان میں سے بعض ایسے شعر تھے کہ جنہیں سامعین نے خوب پسند کیا اور ان کے اشعار نے سامعین کو داد دینے پر مجبو کر دیاوہیں مقامی شعراء میں جناب سید عبد الرحمن باطن جناب سید اشرف برماور جناب اقبال سعیدی اور نوجوان شعراء میں جناب عفان بافقی ،مولانا سید سالک ندوی ،جناب ابن حسن بھٹکلی نے اپنے منفرد انداز میں کلام پیش کیا اور خوب واہ واہی بٹوری جلسہ کی صدارت کر رہے معروف شاعر جناب عبدالحمید اکبر مقامی شعراع کے کلام کی خوب تعریف کرتے ہوئے اہلیان بھٹکل کو مبارکباد پیش کی ،آخر میں مقامی و مہمان شعراء کی خدمت میں مومنٹو پیش کیا گیا ،خیال رہے کہ جلسہ کا آغاز مشاعرہ کے صدر جناب عبد الحمید اکبر کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا نظامت کے فرائض جناب ریاض احمد خمار نے بحسن خوبی انجام دئیے۔


ابن حسن بھٹکلی 
وہ ہر ایک آزمائش کو مصیبت ہی سمجھتاہے 
جسے اللہ کی حکمت کا اندازہ نہیں ہو


مولوی سید سالک ندوی
پرکیف سماں جنت کا گماں اب ایسے سہانے لمحہ کہاں 
ہر روز پکارا کرتے تھے اس بام سے تم اس بام سے ہم 
نادان تو یہ بھی بھول گیا ہر چیز کو ہے دنیا میں فنا 
ائے حسن سراپا ناز نہ کر واقف ہیں تیرے انجام سے ہم 


مسرت پاشا راہی 
ایسا وحشتناک منظر آج تک دیکھا نہ تھا 
پیڑ تھا شاخیں تھیں پتے تھے مگر سایہ نا تھا 
اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہوگا میرے ذات کا 
میں سبھی کا تھا یہاں کوئی مگر اپنا نہ تھا 

جناب کلیم ضیاء 
پیارو الفت کی بات کرتا ہے چاہ و چاہت کرتا ہے 
جس کے رگ رگ میں بسی ہے نفرت وہ محبت کی بات کرتا ہے 

سید اشرف برماور
یہ بستر کاٹتا ہے رات کو سونے نہیں دیتا 
مجھے آسودہ خود میراہی گھر ہونے نہیں دیتا 
کبھی اپنے پرائے پن سے پلکیں بھیگ جاتی ہیں 
تبسم ننھے بچے کا مجھے رونے نہیں دیتا


سراج شعلہ پوری
میسر عیش ہوتے سب تونگر ہو گیا ہوتا 
سیاست میں جو گھس جاتا سکندر ہوگیا ہوتا 
میں اتنی ڈگریاں لے کر بھی ٹیچر تک نہ بن پایا
پڑھا لکھا نہیں ہوتا منسٹر بن گیا ہوتا



جناب خمار صاحب
علاج نفرت و بغض وعناد کرتا ہوں 
میں دل سے قصد سبیل الرشاد کرتا ہوں 
یہ سوچ کرکہیں مجھ میں انا کا سر نہ اٹھے 
میں اپنے آپ سے خود ہی جہاد کرتا ہوں 

جناب عمران اسلم 
اتنا پتہ تو چل گیا ان چار سال میں 
جنتا نے کیوں چنا نہیں تم کو تھا ساٹھ سال میں 
جی جی کے مرتے تھے سبھی ان ساٹھ سال میں 
مر مر کے جی رہے سبھی دیکھو سب کاحال 

جناب اقبال سعیدی
ذرہ کو جو وسعت دے توصحراء کر دے 
دریا کو سمیٹ لے تو قطرہ کر دے
قادر ہے وہ ہر شئے پہ ہے قدرت اس کی 
وہ چاہے تو بن باپ کے پیدا کر دے 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES