dushwari

بھٹکل : کا روار ضلع کا دو روزہ تبلیغی اجتماع رقت آمیز دعا ء کے ساتھ اختتام کو پہنچا

ہزاروں فرزندان توحید نے کی شرکت 

بھٹکل۔9 ؍ جنوری۔2018 (فکرو خبر نیوز) گذشتہ دو روز سے بھٹکل جالی روڈ پر واقع کولا گروانڈ میں جاری کاروار ضلع کا اجتماع رقت آمیز دعا کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اختتامی نشست میں کل بعد نما زمغرب منعقد ہو ئی جس میں بنگلورو سے تشریف لا ئے جناب فاروق بھائی نے احکامات ، آخرت اور ایمان ویقین کی مفید باتیں سامنے رکھیں۔ اجتماع میں ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کی ،اجتماع کی آخری نشست سے خطاب کر تے ہو ئے بنگلورو سے تشریف لا ئے دعوت وتبلیغ کے ایک اہم ذمہ دار انجینئر فاروق بھائی نے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ اللہ نے دنیا کو امتحان گاہ بنا یا ہے ،جہاں ہر ایک امتحان سے گذر رہا ہے اچھوں کا بھی امتحان ہے بروں کا بھی ، مالداروں کا امتحان ہے تو فقیروں کا بھی ،صحت مند لو گوں کا امتحان ہے تو بیماروں کا بھی ،ہر ایک کا ہر حال میں امتحان ہے کہ ہم کس طرح کی زندگی گذاررہے ہیں ؟

جب کہ دنیا میں زندگی گذا رنے کے دو ہی راستے ہیں ایک من چاہی زندگی دوسری رب چاہی زندگی ،جس میں انسان اپنی خواہش اور زمانے کے مطابق زندگی گذار رتا ہے ،اور دنیا اسی راستہ پر گامزن ہے ،دوسرا راستہ وہ ہ جس میں انسان اپنے مالک کے بتا ئے ہو ئے طریقوں کے مطابق چلتا ہے ،اب ہمارا امتحان ہے ہم من چاہی زندگی گزا رتے ہیں یا رب چاہی؟؟ اور ہمارا راستہ تو رب چاہی زندگی ہے ہمیں اسی راستہ پر اپنے آپ کو چلا نا ہے ،مو صوف نے زندگی کے اصل مقصد کی طرف توجہ دلاتے ہو ئے کہا کہ مسلمان زندگی گذارنے کے لئے نہیں بلکہ سنوارنے کے لئے آیا ہے ،انسان کے علاوہ دیگر مخلوقات بھی زندگی گذار رہی ہے ،اگر انسان بھی مقصد حیات سے عاری ہو کر زندگی گذارے توانسان اور جانوروں میں کیا فرق باقی رہ جا تا ہے ؟! انسان کی زندگی کا اصل مقصد دعوت دین ہے جس کے لئے وہ مبعوث کیا گیا ہے ، انھوں نے مزید کہا کہ دو نعمتیں ایسی ہیں جو اللہ نے ہر ایک کو بخشی ہے ،کسی کو زیادہ تو کسی کو کم ،لیکن ہر ایک کو اللہ نے وہ نعمتیں دی ہے ،ایک ہے وقت دوسرا مال جو اللہ نے کسی کو زیادہ دیا ہے تو کسی کو کم ،اور انسان ان دو نوں نعمتوں کو بڑی لا پرواہی اور بے دردی کے ساتھ خرچ کر تا ہے ،دعوت وتبلیغ کے ذریعہ انسان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جا تی ہے کہ وقت کہاں لگا نا ہے اور کہاں نہیں لگا نا ہے ؟؟ اور جہاں لگا نا ہے وہاں کتنا لگا نا ہے ؟ اس لئے کہ مال کھو نے سے واپس مل سکتا ہے لیکن وقت ایک بار چلا جا ئے تو پھر اس کو دو بارہ ہاتھ نہیں کیا جا سکتا ، لہذا ہم جا ئزہ لیں کہ دنیا کے لئے ہم دنیا کے لئے کتنا لگا رہے ہیں اور دین کے لئے آخرت کے لئے کتنا لگا رہے ہیں ؟اور مو صوف ہی کی رقت آمیز دعاؤں کے ساتھ اجتماع اختتام پذیر ہوا ،اس کے علاوہ دو روزہ تبلیغی اجتماع میں علمائے کرام اور ذمہ داران نے قرآن و حدیث میں موجود مختلف واقعات کی روشنی میں توحید ، آخرت رسالت اور ذکر معاد کے ذریعہ آخرت کی زندگی کو بنا نے اور زندگی کے اصل مقصد دعوت دین کی طرف توجہ مبذول کرا ئی ،علمائے کرام اور کالج طلباء کے لئے الگ الگ نشستیں بھی منعقد کی گئی تھی ،جس میں علماء کے ساتھ ساتھ طلباء اور دیگر حضرات نے بھی بیرون جماعت اور چار مہینے ،چلے وغیرہ کے لئے اپنے ناموں کا اظہار کیا ،جب کہ کئی جماعتیں آج صبح ہی روانہ ہو گئی ،ایک اندازہ کے مطابق ضلع بھر کے تقریبا بیس ہزار افراد نے شرکت کی ،واضح رہے کہ ضلع کے مختلف حلقوں کے مابین ذمہ داریاں اور کام تقسیم کیا گیا تھا جس کو انھوں نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES