Live Madinah

makkah1

dushwari

ایران میں نظام مخالف احتجاجی تحریک ، 8000 افراد گرفتار

تہران :12؍جنوری2018(فکروخبر/ذرائع)ایران کے مختلف شہروں میں نظام کے خلاف احتجاجی تحریک کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں نوجوان پیش پیش ہیں جبکہ ایرانی فورسز نے بھی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جار ی رکھا ہوا ہے اور اب تک کم سے کم آٹھ ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ایرانی نظام گرفتار مظاہرین کی تعداد کو خفیہ رکھنے کی کوشش کررہا ہے لیکن بعض ارکان پارلیمان اور سیاست دان بڑے پیمانے پر ہونے والی اس پکڑ دھکڑ کا اعتراف بھی کررہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے پارلیمان کے ایک رکن محمود صادقی نے کہا تھا کہ اب تک کل 3700 سے زیادہ افراد کو احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔2 جنور ی کو تہران کے ڈپٹی گورنر نے صرف تین روز میں 450 افراد کی گرفتاریوں کی اطلاع دی تھی۔ایران کے وسطی صوبے کے مختلف شہروں میں 30 اور 31 دسمبر کو 396 ا فراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان میں 65 کم عمر لڑکے تھے اور ا ن میں سے بیشتر کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔صوبہ گلستان کے ڈپٹی گورنر نے 3 جنوری کو یہ اطلاع دی تھی کہ گورگان میں قریبا 150 مزاحمت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے بعد شہر میں امن قائم ہوگیا ہے۔ایران میں جاری اس احتجاجی تحریک کا 28 دسمبر کو مشہد شہر سے آغاز ہوا تھا ۔اس شہر کے ڈپٹی پراسیکیوٹر کے بہ قول 3 جنوری تک 138 افراد کو گڑ بڑ پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔صوبہ کرمان میں پولیس نے 80 افراد کو گرفتار کر کے حکام کے حوالے کیا ہے۔اہواز اور صوبہ خوزستان کے دوسرے شہروں میں قریبا 1600 افراد پکڑے گئے ہیں۔دریں اثنا ایرانی مزاحمتی تحریک نے تمام شہریوں اور بالخصوص نوجوانوں پر زوردیا ہے کہ وہ گرفتار افراد اور ان کے خاندان کی حمایت کریں اور ان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر نکلیں ۔اس نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس ، سلامتی کونسل ، یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کی حکومتوں کے علاوہ امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرفتار مظاہرین کی رہائی کے لیے ایرانی حکومت پر دبا ڈالیں اور ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کریں ۔اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے مختلف شہروں میں قیدیوں سے ناروا سلوک اور دوران حراست تشدد سے متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات منظرعام پر آئی ہیں۔اس نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قیدیوں پر تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کریں ۔