Live Madinah

makkah1

dushwari

مقبوضہ بیت المقدس کے تعلق سے امریکی صدر کے فیصلہ کی دنیا بھر میں شدید تنقید ، پڑھئے مختلف ملکوں کے مذمتی بیانات

مقبوضہ بیت المقدس 07؍ دسمبر 2017(فکروخبر /ذرائع) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے فیصلے پر  دنیا کے اکثر ممالک نے اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کو ناحق قرار دیا ہے۔ فلسطینی صدر سمیت حماس رہنماؤں اور عالم اسلام کی متعدد شخصیات نے بھی اس فیصلہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے حالیہ فیصلہ کی وجہ سے دنیا کو امن وسکون غارت ہوگیا ہے اور مسلمانوں میں شدید برہمی پائی جارہی ہے۔ خود پوپ فرانسس نے بھی اس فیصلہ کو کشیدگی بڑھنے کی وجہ قرار دیا ہے۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان نے امریکا پر جہنم کے دروازے کھول دیے: حماس
عرب اور مسلمان ممالک اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات ختم کردیں، اسماعیل رضوان

غزہ ۔7دسمبر7دسمبر2017(فکروخبر/ذرائع) فلسطینی اسلامی تحریک مزاحمت ’حماسْ نے امریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے فیصلے پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ حماس نے باور کرایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام نے امریکی مفادات کے خلاف ’جھنم کے دروازے‘ کھول دیے ہیں۔حماس کے مرکزی رہ نما اسماعیل رضوان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے فیصلے کے بعد خطے میں امریکی مفادات اب داؤ پر لگ چکے ہیں۔ امریکی صدر نے القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرکے تباہی کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ انہوں نے عرب اور مسلمان ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات ختم کردیں اور اپنے ہاں متعین امریکی سفارت کاروں کو نکال باہر کریں۔درایں اثناء تنظیم آزادی فلسطین کے جنرل سیکرٹری صائب عریقات نے امریکی صدر کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے نے تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کے تمام امکانات ’تباہ‘ کر دیے ہیں۔صائب عریقات کا کہنا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے تعمیری اقدامات کے بجائے تخریبی عمل کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کرامریکا خطے میں قیام امن کے کسی بھی عمل سے اب بہت دور جا چکا ہے۔

 

بیت المقدس عرب اور اسلامی شہر ، یہی اس کی شناخت باقی رہے گی، شیخ السدیس

مکہ مکرمہ۔7دسمبر7دسمبر2017(فکروخبر/ذرائع) حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اور حرم مکی شریف کے امام وخطیب شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے کہا ہے کہ بیت المقدس عرب اور اسلامی شہر ہے اور یہی اس کی شناخت باقی رہے گی۔ انہوں نے حرمین شریفین کے علماء کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول اور تیسرا حرم شریف ہے۔ یہ رسول اکرم ﷺ کی جائے اسراء بھی ہے۔ مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس کے حوالے سے سعودی عرب کا اصولی موقف ہے۔ بانی مملکت شاہ عبد العزیز سے لے کر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز تک مملکت کے تمام فرمانرواوں نے قضیہ قدس کی حمایت کی ہے ۔؂

 

دنیا پہلے ہی خوفزدہ ہے ‘ امریکی فیصلہ کشیدگی بڑھائے گا ‘ پوپ فرانسس

روم ۔7دسمبر2017(فکروخبر/ذرائع) عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسسں نے کہا ہے کہ دنیا مین پہلے ہی کم تنازعات اور خوف موجود تھا جو امریکہ کی طرف سے ایک اور متنازعہ فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے مزید کشیدگی بڑھے گی تاہم امریکی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر پوپ فرانس نے اپنے ردعمل میں کہا کہ تنازعات نے دنیا کو پہلے ہی خوفزدہ کر رکھا ہے ۔مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنا کر کشیدگی کا نیا عنصر شامل نہ کریں ۔ واضح رہے کہ پوپ فرانس کتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا میں جنہوں نے مسلم دنیا کے تعلقات میں بہتری لانے کے لئے کافی کوشش کی ہیں۔ 

 

القدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں،محمود عباس

امریکی اقدام سے فلسطینی کی تحریک آزادی میں مزید شدت آئے گی، امریکی اقدام کے بعد فلسطینیوں کو قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے،ٹرمپ کا سفارتخانے کی منتقلی سے متعلق اعلان دراصل امریکا کا امن عمل کی نگرانی سے دست کشی کا اعلان ہے،صدر فلسطین
راملہ ۔7دسمبر2017(فکروخبر/ذرائع) فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے واشنگٹن کے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے اعلان کو قیام امن کی کوششوں پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے اسے سختی سے مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام سے فلسطینی کی تحریک آزادی میں مزید شدت آئے گی۔ انہوں نے امریکی اقدام کے بعد فلسطینیوں سے قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صدر محمود عباس نے ٹرمپ کے فیصلے کے رد عمل میں کہا کہ القدس عظیم اور قدیم فلسطینی ریاست کا درالحکومت ہے جس کی شناخت ایسے فیصلوں سے تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ابو مازن نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا سفارتخانے کی منتقلی سے متعلق اعلان دراصل امریکا کا امن عمل کی نگرانی سے دست کشی کا اعلان ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینی قیادت دوست ملکوں کے مشورے سے اس سلسلے میں فیصلے کرنے میں مصروف ہے اور آنے والے دنوں میں فلسطینیوں کی جانب سے معاملے کی پیروی کے لئے دوست ملکوں سے رابطے کئے جائیں گے۔بدھ کے روز وائٹ ہاوس میں خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے القدس کو امریکا کا درالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور وزارت خارجہ کو ہدایت کی وہ واشنگٹن کا سفارتخانہ تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کی تیاری کریں۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے تاریخ کا ایک ایسا غیر منصفانہ فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں مشرق وسطی میں دیر پا قیام امن کی کوششیں تباہ ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اقدام پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جوابی اقدامات پر غور کریں گے۔صدر عباس نے کہا کہ وہ جلد ہی مرکزی کونسل کا اجلاس بلا کر امریکی صدر کے القدس بارے فیصلے کے رد عمل میں اپنے جوابی اقدامات کا اعلان کریں گے۔ابو مازن نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم زعا کے متفقہ مطالبے کو نظرانداز کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صرف صہیونی ریاست کے مفادات پر کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم کے پاس بھی یہ باہمی اتحاد کا تاریخی موقع ہے۔

 

امریکہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنا انتہائی قابل مذمت ہے انڈونیشیاء 

فیصلہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا کو خطرے میں ڈال سکتا ہے صدر جوکوویدودو

سڈنی ۔7دسمبر2017(فکروخبر/ذرائع) انڈونیشیاء نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث بنے گا غیر ملکی خبر رساں اداکے کے مطابق انڈونیشیاء کے صدر جو کہ ویدودو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنا انتہائی قابل مذمت ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ پر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے کیونکہ یہ نہ صرف اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ مشرق وسطیٰ خطے سمیت پوری عالمی برادی کو عدم استحکام سے دو چار کردیگا۔

 

امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے اعلان پر فلسطین میں مکمل ہڑتال 
احتجا جی مظاہر ے کی، امر یکی اور اسرا ئیلی پر چم نذر آ تش 

غزہ ۔7دسمبر2017(فکروخبر/ذرائع) امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے اعلان کے بعد فلسطین میں مکمل ہڑتال کیگئی جب کہ فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ فیصلے سے امریکا کا امن عمل میں ثالث کا کردار ختم ہوگیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اقدام اسرئیل کو فلسطینی سرزمین پر قبضے کو تقویت بخشے گا جب کہ ٹرمپ کا حالیہ اعلان بھی اسرائیل کو انعام دینے کے مترادف ہے۔صدر محمود عباس نے کہا کہ امریکی صدر کا فیصلہ مقبوضہ بیت المقدس کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرے گا اور اس معاملے پر اسرائیل کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔فلسطینی صدر نے کہا کہ ہم قومی آزاد ی حاصل کر کے رہیں گے، امریکی صدر کے اعلان سے امن مذاکرات کو خطرہ اور تشدد پسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے دو ریاستی حل تباہ ہو گیا اور امریکی صدر نے امریکا کو مستقبل میں کسی بھی امن عمل کے لیے نااہل کر دیا ہے۔ ادھر امر یکی اقدام کے خلا ف فلسطینی علا قو ں میں مکمل ہڑتا ک اور احتجا جی مظاہر ے کیے گئے جن میں مظا ہر ین نے امر یکی اور اسرا ئیلی پر چم نذر آ تش کیے ۔