Live Madinah

makkah1

dushwari

امریکا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرسکتا ہے ،امریکی میڈیا کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام سے خطے میں تشدد کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے 

واشنگٹن03؍ڈسمبر2017(فکروخبر/ذرائع)امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا جسے اب وہ پورا کرسکتے ہیں۔امریکی صدر کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے فیصلے پر شدید غم وغصے اور رد عمل سامنے آنے کی توقع ہے۔

اس اقدام کے نتیجے میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کے شکار مذاکرات کی بحالی کے امکانات مزید کم ہوجائیں گے۔امریکی خفیہ اداروں اور فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اقدام سے خطے میں تشدد کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیلی عربوں سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلا کر شدت پسندی کی طرف مائل کرسکتا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں موجود امریکی تنصیبات پر بھی حملوں کے خدشات کئی گناہ بڑھ جائیں گے۔ادھر فلسطینی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگرامریکا نے اپنا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا توامن عمل ختم کردیں گے۔ عرب لیگ نے بھی بیان جاری کیاہے کہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے سے تشدد کو فروغ ملے گا۔