Live Madinah

makkah1

dushwari

فلسطینی شہدا کے جسد خاکی واپس نہ کرنے کیلئے اسرائیلی قانون سازی

مقبوضہ بیت المقدس ۔13نومبر2017(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کے داخلی سلامتی کے وزیر گیلا اردان نے پارلیمنٹ سے ایک نیا قانون منظور کرانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ اس نام نہاد قانون کے تحت صہیونی حکام کو فلسطینی شہدا کے جسد خاکی ان کے ورثا کے حوالے نہ کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق گیلاد اردان نے ایک نئے مسودہ قانون کی تیاری شروع کی ہے۔اس قانون کے تحت فلسطینی شہدا کے جسد خاکی ان کے ورثا کو نہ دینے کا اختیار حاصل کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس قانون کی منظوری کے بعد شہید ہونے کے بعد اسرائیلی فوج کے قبضے میں آنے والے کسی فلسطینی کے جسد خاکی پر اسرائیلی حکام اپنی مرضی کا فیصلہ کرسکیں گے۔ صہیونی ریاست شہدا کے جسد خاکی ان کے لواحقین کے حوالے کرنے کی پابند نہیں ہوگی۔ یوں فلسطینی مزاحمتی خاندانوں اور مزاحمتی تنظیموں کو اسرائیل کے خلاف کارروائیوں سے باز رہنے کے لیے دبا ؤڈالا جاسکے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی شہدا کے جسد خاکی واپس کرنے سے فلسطینیوں میں صہیونی ریاست کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب فلسطینی شہدا کے جسد خاکی واپس نہیں کیے جائیں گے تو ان کی تدفین نہیں ہوگی اور نماز جنازہ کا اہتمام بھی نہیں ہو گا۔خیال رہے کہ اکتوبر 2015 کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ القدس کے دوران اسرائیلی فوج نے دسیوں فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد ان کے جسد خاکی اپنے قبضے میں لیے۔ ان میں سے کئی شہدا کے جسد خاکی تا حال صہیونی فوج کے پاس ہیں۔