Live Madinah

makkah1

dushwari

اسرائیلی وزیراعظم کی فلسطینی تنظیموں کو کارروائی کی دھمکی

ہمارے خلاف منظم حملہ ہوا تو اس کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرائیں گے، نیتن یاہو

یروشلم ۔13نومبر2017(فکروخبر/ذرائع) اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے فلسطینی مسلح تنظیموں کو گزشتہ ماہ غزہ کی پٹی میں ایک سرنگ پر ہونے والی کارروائی کے خلاف جوابی حملوں سے خبردار کردیا ہے۔نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ 'اب بھی اسرائیل پر حملے کی کوششوں کے خدشات ہیں لیکن ہم اس طرح کا عمل کرنے والوں کو جارحانہ جواب دیں گے جس میں باغی، تنظمیں یا کوئی اور بھی ہوں'۔ان کا کہنا تھا کہ 'کسی بھی صورت میں ہمارے خلاف غزہ سے یا منظم حملہ ہوا تو اس کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرائیں گے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 30 اکتوبر کو ایک کارروائی کی تھی جس کے نتیجے میں حماس اور اسلامی جہاد سے تعلق رکھنے والے 12 فلسطینی جاں بحق ہوگئے تھے۔جس کے بعد فلسطینی تنظیموں کی جانب سے سخت جواب دینے کی دھمکی دی گئی تھی جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان وزارت داخلہ کے یونٹ کے سربراہ میجرجنرل یاوومرد خائی کے عربی زبان میں جاری ایک ویڈیو پیغام کے بعد سامنے آیا ہے۔فلسطین میں کارروائیوں کے لیے قائم اسرائیلی وزارت داخلہ کے یونٹ کے سربراہ جنرل یاوومردخائی نے 30 اکتوبر کی کارروائی کے حوالے سے اس پیغام میں کہا تھا کہ اسرائیل 'نے اپنے خودمختار علاقے میں ایک دہشت گرد سرنگ کو تباہ کردیا ہے'۔اسرائیلی جنرل کا کہنا تھا کہ 'ہم اسلامی جہاد کی جانب سے اسرائیل کے خلاف منصوبہ بندی کے حوالے سے باخبر ہیں اور وہ آگ سے کھیل رہے ہیں جس کا نقصان غزہ کے رہائشیوں کو ہوگا'۔انھوں نے سخت جواب دینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ 'یہ واضح کردینے دیں کہ اسلامی جہاد کی جانب سے کوئی حملہ کیا گیا تواسرائیل سخت جواب دینے کے لیے پرعزم ہے اور یہ صرف اسلامی جہاد کے لیے نہیں ہوگا بلکہ حماس بھی شامل ہوگی'۔اسرائیلی جنرل نے اسلامی جہاد کے سربراہوں رمضان شلالہ اور زید نخیلہ کا نام لے کر اپنا واضح پیغام دیا۔دوسری جانب اسلامی جہاد نے اسرائیلی جنرل کے پیغام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'دشمنوں کی جانب سے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی دھمکی جنگ کا اعلان ہے جس کا ہم جواب دیں گے'۔ان کا کہنا تھا کہ سرنگ کو اڑانے کا 'جواب دینے کا حق رکھتے ہیں'۔واضح رہے کہ فلسطین کے دو بڑی جماعتیں حماس اور الفتح کے درمیان آپس کے اختلافات کو ختم کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور معاہدے کے مطابق الفتح یکم دسمبر سے غزہ کا کنٹرول بھی سنبھال لے گی۔