Live Madinah

makkah1

dushwari

مصالحتی پروگرام میں تمام فلسطینی دھڑے شامل ہوں گے

قاہرہ مذاکرات کا ایجنڈا طے،5 اہم موضوعات زیربحث ہوں گے: حماس

غزہ۔ 12؍ نومبر 2017(فکروخبر/ذرائع)   اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے وضاحت کی ہے کہ فلسطینی جماعتوں کے درمیان 21 نومبرکو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونےوالے مصالحتی مذاکرات میں 5 اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔فلسطین سے عربی میں نشریات پیش کرنے والےالاقصیٰ چینل سے بات کرتے ہوئے حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے بتایا کہ اکیس نومبر کے قاہرہ مذاکرات کا ایجنڈا طے کرلیا گیا ہے۔

ان مذاکرات میں فلسطین میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد، تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو، قومی حکومت کی تشکیل، فلسطینیوں میں وحدت، امن وامان اور شہری آزادیاں اور سماجی مصالحت جیسے موضوعات کو حتمی شکل دی جائے گی۔اس موقع پر فلسطینی تنظیموں کی قیادت کو مصالحتی معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد، غزہ کی پٹی میں حکومت کی عمل داری کی بحالی اور گذرگاہوں کی نگرانی فلسطینی حکومت کے حوالے کیے جانےپر بریفنگ دی جائے گی۔
حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مصرکی زیرنگرانی ہونے والے مصالحتی مذاکرات میں تمام فلسطینی دھڑے شرکت کریں گے۔ اس جامع اجلاس میں قومی مصالحت کو آگے بڑھانے کے لیے حل طلب مسائل کو حل کرنے، قضیہ فلسطین کے مستقبل کا روڈ میپ اور قومی پروگرام کی تیاری اہم موضوعات ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حماس تمام فلسطینی دھڑوں کو مصالحتی پرگرام میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ ہم جسد واحد کے اصول کے مطابق جمہوری شراکت پر یقین رکھتے ہیں تاہم صہیونی ریاست کی طرف سے فلسطینی قوم کو درپیش توسیع پسندانہ چیلنجز کا بھرپور عوامی قوت سے مقابلہ کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ حماس اور فتح کی قیادت نے 12 اکتوبر کو مصرکے دارالحکومت قاہرہ میں ایک مصالحتی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت غزہ کی پٹی کا انتظامی کنٹرول فلسطینی قومی حکومت کے سپرد کیا جانا ہے۔ دونوں جماعتوں نے یکم دسمبر تک تمام اختیارات فلسطینی حکومت کے سپرد کیے جانے سے اتفاق کیا ہے۔