Live Madinah

makkah1

dushwari

محمودعباس کی شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے شاہی محل میں ملاقات

الریاض ۔8نومبر2017(فکروخبر/ذرائع) فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی گزشتہ روز سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ان کے شاہی محل میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران صدر عباس نے سعودی فرمانروا کو فلسطینی دھڑوں اسلامی تحریک مزاحمت حماس اور فتح کے درمیان مصر کی ثالثی سے طے پائے مصالحتی معاہدے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کے دوران صدر محمودعباس نے فلسطین کی موجودہ صورت حال، امریکی مساعی میں قضیہ فلسطین کے حل کیلئے ہونے والی سفارتی اور سیاسی کوششوں، فلسطینیوں میں مصالحتی معاہدے کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

فلسطینی صدر اور سعودی فرمانروا کے ددرمیان ہونے والی بات چیت میں دو طرفہ تعاون کے فروغ، ترقی اور استحکام میں باہمی تعاون پر اتفاق کیاگیا۔خیال رہے کہ فلسطینی صدر مصر کے دورے کے بعد اچانک سعودی عرب پہنچے ہیں۔ ان کا یہ دورہ سعودی غیراعلانیہ ہے جس کے نتیجے میں کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی عرب داخلی سطح پر کئی اہم تبدیلیوں سے گذر رہا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان کے وزیراعظم سعد حریری نے گذشتہ ہفتے کے روز سعودی عرب میں وزارت عظمی سے استعفے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی کی الریاض میں جبری نظر بندی، سابق اور موجودہ وزرا سمیت اہم شہزادوں کے خلاف کریک ڈان جیسے واقعات کے باعث سعودی عرب عالمی اور علاقائی توجہ کا مرکز ہے۔سعودی عرب میں ڈرامائی تبدیلیوں کے باوجود صدر محمود عباس کو شاہ سلمان کی طرف سے فوری طور پر ریاض پہنچنے کو کہا گیا تھا۔ دو ہفتے قبل امریکی صدر کے مشیر اور داماد جارڈ کوشنر نے سعودی عرب کا خفیہ دورہ کیا اور اس دورے کے دوران انہوں نے شاہ سلمان سے بھی ملاقات کی تھی۔اسرائیلی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کے مشیر اور شاہ سلمان نے ملاقات کے دوران فلسطین میں ایرانی اثرو نفوذ کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ نیزدونوں رہ نماں نے حماس کی قیادت کے حالیہ دورہ ایران پر تشویش کا بھی اظہار کیا۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ فلسطینی تنظیموں حماس اور فتح نے مصر کی ثالثی کے تحت ایک مصالحتی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت فلسطین میں تمام انتظامات قومی حکومت کے سپرد کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے بعد حماس کی قیادت نے ایران کا دورہ کیا۔گذشتہ روز سعودی عرب کے دورے کے دوران فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی، تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن حسین الشیخ، انٹیلی جنس چیف ماجد فرج، صدر کے مشیر مجدی الخالدی، اور سعودی عرب میں متعین فلسطینی سفیر بھی موجود تھے۔شاہ سلمان سے ملاقات کے وقت ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز، وزیر مملکت اور شاہ سلمان کے مشیر شہزادہ ڈاکٹر مصور بن متعب بن عبدالعزیز، وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز، کابینہ کے رکن ڈاکٹر مساجد بن محمد العیبان اور وزیر خارجہ عادل الجبیر موجود تھے۔