Live Madinah

makkah1

dushwari

اعلان بالفور کے خلاف اردن میں مظاہرے، اسرائیلی پرچم نذرآتش

مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم ، بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر برطانوی حکومت کے خلاف نعرے درج تھے 

عمان :06؍نومبر2017(فکروخبر/ذرائع)فلسطین میں یہودیوں کے قومی وطن کے قیام کے لیے برطانوی حکومت کی طرف سے جاری کردہ بدنام زمانہ اعلان بالفور کے ایک سو سال پورے ہونے پر گذشتہ روز اردن میں مظاہرے کئے گئے۔ ان احتجاجی مظاہروں کی کال مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ اسلامک ایکشن فرنٹ کی طرف سے دی گئی تھی۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اردن کے صدر مقام عمان سمیت ملک کے کئی شہروں میں اعلان بالفور کے سو سال مکمل ہونے پر برطانیہ کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے گئے۔وسطی عمان میں اسلامک ایکشن فرنٹ کے ہیڈ کواٹر کے باہر ہزاروں شہریوں نے جمع ہو کر اعلان بالفور نا منظور کے نعرے لگائے۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم ، بینرز اور کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر اعلان بالفور جاری کرنے پر برطانوی حکومت کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی گئی تھی۔اس موقع پر مظاہرین نے اسرائیلی پرچم بھی نذرآتش کیے اور صہیونی ریاست کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی حمایت میں نعرے بازی کی۔ مظاہرے میں اخوان المسلمون کے کئی سرکردہ رہ نماں جماعت کے سیکرٹری جنرل محمد الزیود، ڈپٹی سیکرٹری جنرل زکی بنی رشید، مجلس شوری کے چیئرمین عبدالمحسن العزام، جماعت کے ترجمان مراد العضایلہ اور دیگر رہ نماں نے شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے خطاب میں اعلان بالفور کو برطانیہ اور مغربی طاقتوں کے ماتھے پر بدنما داغ قرار دیا۔خیال رہے کہ 2 نومبر 1917 کو برطانوی وزیراعظم آرتھر جیمز بالفور نے یہودی ارب پتی برطانوی رکن پارلیمنٹ کو ایک مکتوب لکھا تھا جس میں اسے یقین دلایا تھا کہ برطانیہ فلسطین میں یہودی ریاست کے قیامکیلئے ہرممکن اقدامات کرے گا۔ اس اعلامیے کو فلسطین میں اسرائیل کے قیام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اعلان بالفور کے ایک سوسال پورے ہونے پر جہاں برطانیہ اور اسرائیل میں جشن منایا جا رہا ہے وہیں فلسطینی قوم اسے یوم سیاہ کے طور پر منا رہی ہے۔ اس حوالے سے عرب ممالک اور مسلم دنیا میں بھی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔