Live Madinah

makkah1

dushwari

کابل میں ہندوستانی سفارت خانے کے قریب بم دھماکہ، 80 افراد ہلاک، 350 زخمی(مزید اہم ترین خبریں )

کابل۔ 31؍مئی۔(فکروخبر/ذرائع)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں صدر کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانوں کے قریب آج ہوئے زبردست کار بم دھماکے میں 80 افراد ہلاک اور دیگر 350 زخمی ہو گئے۔ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کے خدشہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کابل پولیس کے ترجمان بشیر مجاہد نے بتایا کہ دھماکہ جرمن سفارت خانے کے دروازے کے قریب ہوا، جس کے قریب متعدد دوسرے اہم احاطے اور دفاتر بھی واقع ہیں۔ فوری طور پر یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ حملے کا اصل ہدف کیا تھا۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ کابل میں جرمن سفارت خانے کا کوئی ملازم زخمی ہوا ہے یا نہیں۔ دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ جائے حادثہ سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع سینکڑوں گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کی ذمہ داری ابتک کسی بھی دہشت گرد تنظیم نے نہیں لی ہے۔

اس دوران وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ کابل میں ہوئے زبردست بم دھماکے میں ہندوستانی سفارت خانے کے کسی بھی ملازم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ کار بم دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد محترمہ سوراج نے ٹویٹ کیا، "خدا کا شکر ہے کہ کابل میں ہوئے زبردست دھماکے میں ہندوستانی سفارت خانے کے تمام ملازمین محفوظ ہیں۔" دھماکہ ڈپلومیٹک ایریا میں جرمن گیٹ کے قریب ہوا۔ یہاں آس پاس کئی ممالک کے سفارت خانے ہیں۔ دھماکہ کافی طاقتورتھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دہشت گردوں کی جانب سے کئے گئے دھماکے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس واقعہ میں مارے گئے لوگوں کے خاندانوں کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلدصحت مند ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ مسٹر مودی ان دونوں چار ممالک کے دورے کے دوسرے مرحلے میں ا سپین پہنچے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اس دھماکے کے سلسلے میں گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان تمام طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور وہ اس جنگ میں افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ دہشت گردی کو حمایت کرنے والی قوتوں کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مارے گئے لوگوں کے خاندانوں کے تئیں تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت مند ہونے کی دعا کی ہے۔

ہم الحدیدہ میں فوجی کارروائی رکوانے میں کامیاب رہے:عالمی ایلچی

31؍مئی۔(فکروخبر/ذرائع)اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد نے سلامتی کونسل میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ الحدیدہ میں ممکنہ فوجی کارروائی کو کامیابی سے رکوا دیا گیا ہے۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن کی تازہ صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور عالمی ایلچی نے کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں کو جنگ زدہ ملک میں قیام امن کے لیے کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔اسماعیل ولد شیخ احمد نے کونسل کو بتایا کہ یمن میں اس وقت لڑائی جاری ہے اور اس وجہ سے اسلحہ عام ہو رہا ہے اور بارودی سرنگیں پھیلائی جارہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حوثی تحریک سے وابستہ ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے دسیوں شہریوں کو ہلاک اور زخمی کردیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ یمن میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑنے سے قریباً پانچ سو اموات ہوچکی ہیں اور ہزاروں لوگ بیمار پڑے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر کے سربراہ اسٹیفن اے او برائن نے بتایا ہے کہ تنازعے کے نتیجے یمنی شہریوں کو ہلاک کیا جارہا ہے اور انھیں ان کے بنیادی حقوق اور ضروریات زندگی سے محروم رکھا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یمن کو اس وقت دنیا میں خوراک کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ خوراک اور ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ ملکی معیشت ابتر ہوچکی ہے اور یمنی اداروں کی آبادی کے مطالبات اور تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت ماند پڑ چکی ہے۔یمن میں ہیضے کی وبا پھوٹنے کے حوالے او برائن کا کہنا تھا کہ ہیضے سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور متاثرین میں ایک تہائی کیس بچوں کے ہیں۔ہیضے کی یہ وبا ملک میں جاری لڑائی کی وجہ سے پھیلی ہے۔

ایران کی ملیشیاؤں کے مقابلے کے لیے امریکی منصوبے اور عسکری آپشنز

واشنگٹن -31؍مئی۔(فکروخبر/ذرائع)امریکی اسپیشل آپریشنز کے نائب کمانڈر جنرل تھامس ٹاسک نے باور کرایا ہے کہ اُن کی قیادت اس وقت پینٹاگون کے مطالبے پر ایران کے حوالے سے تجربات اور مشقیں کر رہی ہے.. اور اسپیشل آپریشنز کی قیادت کا کام عسکری اور سیاسی قیادت کو آپشنز دینا ہے۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں ایک لیکچر کے دوران کہی۔
ایران کے نیٹ ورکس اور ایجنٹس
جنرل ٹاسک نے انکشاف کیا کہ اُن کی قیادت کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ تمام امکانات کے لیے منصوبے وضع کریں۔ اس وقت منصوبہ ساز خاص طور پر ایران کے نیٹ ورکوں اور اس کے ایجنٹوں کے خلاف توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ انہوں نے مذکورہ نیٹ ورکوں کو ایرانی ساختہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ان کو اپنے اور دیگر علاقائی اور عالمی طاقتوں کے درمیان بفر زون کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
امریکی جنرل نے واضح کیا کہ یہ نیٹ ورک مشرق وسطی کے ممالک کے علاوہ ، افریقہ ، جنوبی امریکا اور یورپ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایران انہیں مالی رقوم فراہم کر کے اپنے مفاد کے لیے کام لیتا ہے۔ جنرل ٹاسک نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران نے شام میں پاسداران انقلاب اور اپنی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی مدد کے لیے اپنی مسلح افواج کے افسران کو بھیجا۔
جنرل ٹاسک نے واضح کیا کہ امریکی منصوبوں میں اکثر طور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ساتھ براہ راست مقابلے کا منظر نامہ پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ تاہم امریکا اور حلیف طاقتوں کے درمیان تعاون کی تجویز دی جاتی ہے تا کہ ایران کے لیے کام کرنے والی ان طاقتوں کے اثر کو کم کیا جا سکے۔
ایران کی جانب سے دائمی کشیدگی
ادھر سینٹرل ریجن کے سابق نائب کمانڈر امریکی ریٹائرڈ ایڈمرل مارک فوکس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا مگر ایران کے تصرفات ہمیشہ کشیدگی اور تناؤ کے طرف لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی پانی میں امریکی بحریہ کے ایرانی افواج کے ساتھ رابطے پیشہ ورانہ نوعیت کے ہیں جو بین الاقوامی پانی میں تمام فریقوں کے حق کی عکاسی کرتے ہیں۔ فوکس کے مطابق ایران مستقبل میں شام اور عراق جیسے مقامات پر بھی لبنانی حزب اللہ کا تجربہ دہرانے کے لیے کام کرے گا۔
ایران کسی طور ٹرمپ سے تصادم نہیں چاہتا
دی امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ میں ایران سے متعلق مطالعہ تیار کرنے والے میتھیو میک آئنز کا کہنا ہے کہ ایران حالیہ عرصے میں عراق میں اپنے رسوخ میں کامیاب ہو گیا ہے اور بہت سے سرکاری ذمے داران وزیر اعظم حیدر العبادی کے بجائے ایران سے احکامات اور ہدایات حاصل کرتے ہیں۔میتھیو نے خبردار کیا کہ عراق میں داعش پر قابو پانے کے بعد ایران کے لیے جگہ خالی ہو جانے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ کے دوران عراق درحقیقت ایرانی سکیورٹی نظام کا ایک حصہ بن چکا ہے لہذا عراق میں توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔امریکی ذمے داران اور مذکورہ محقق کی جانب سے یہ مواقف ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کی ہے۔ امریکی صدر نے اس حوالے سے 3 ماہ کی مہلت کا اعلان کیا۔ میک آئنز کے مطابق موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی نیوکلیئر معاہدے کے متن کے سبب تشویش لاحق ہے تاہم ایران موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ تصادم کا خطرہ مول نہیں لے گا۔