Live Madinah

makkah1

dushwari

مصر: قِبطیوں کی بس پر فائرنگ میں 26 افراد ہلاک(مزید اہم ترین خبریں)

قاہرہ :۔28مئی(فکروخبر/ذرائع)مصر کے جنوبی صوبے المنیا میں دہشت گردی کے تازہ ترین واقعے میں بچوں سمیت کم از کم 26 قِبطیوں کو فائرنگ کر کے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ حملے میں 26 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں اکثر کی حالت تشویش ناک ہے۔ٹوئیٹر پر ایک قِبطی ذمے دار کا کہنا ہے کہ قِبطیوں پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہے۔ادھر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ہنگامی طور پر ایک سکیورٹی اجلاس طلب کر لیا تا کہ المنیا کی اس وحشیانہ قتل و غارت گری کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔ اس دوران مصری وزارت داخلہ نے اسپیشل فورسز کی مدد سے المنیا صوبے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے تا کہ مسلح افراد کو فرار ہونے سے روکا جا سکے۔عینی شاہدین کے مطابق 3 گاڑیوں میں سوار 10 مسلح افراد نے قِبطیوں کو لے جانے والی دو بسوں پر حملہ کر کے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ پہلی بس میں سوار افراد المنیا میں واقع مذہبی مقام "دیر الانباء صاموئیل" جا رہے تھے جب کہ دوسری بس میں المنیا صوبے کے دو دیہات سے تعلق رکھنے والے 16 مزدور سوار تھے۔المنیا کے صوبے کے سکیورٹی سربراہ اور دیگر اعلی اہل کاروں نے جائے واقعہ کا دورہ کیا۔

اس دوران ایمبولینس کی گاڑیاں زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے ہنگامی حرکت میں نظر آئیں۔ سکیورٹی فورسز نے مجرموں کی گرفتاری کے لیے علاقے کا گیھراؤ کر لیا۔ بعض زخمیوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ مسلح افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے اور انہوں نے قبطیوں کی سواریوں پر اندھادھند فائرنگ کر ڈالی۔یاد رہے کہ یہ تازہ حملہ مصر میں قِبطیوں کے دو کلیساؤں پر داعش تنظیم کے حملوں کے ڈیڑھ ماہ بعد کیا گیا ہے۔ کلیساؤں پر کیے جانے والے حملوں میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔دوسری جانب شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے جو اس وقت جرمنی میں ہیں.. اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ کوئی مسلمان اور مسیحی اس کارروائی سے راضی نہیں ہو سکتا جس کا مقصد مصر میں امن و امان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ احمد الطیب نے مصر کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بزدلانہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے واسطے مکمل طور پر متحد ہو جائیں۔مصر کے وزیراعظم شریف اسماعیل نے بھی المنیا صوبے میں پیش آنے والے دہشت گردی کے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے مجرمانہ کارروائی کا شکار ہونے والوں کے لیے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے اپنی تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے مجرموں کے تعاقب اور ان کی فوری گرفتاری کے لیے احکامات جاری کیے ہیں۔

قبطی عیسائیوں کا قتل عام وحشیانہ دہشت گردی ہے،حماس

غزہ ۔28مئی(فکروخبر/ذرائع)اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے گذشتہ روز مصر کی المنیا گورنری میں مصری قبطیوں کی ایک بس پر اندھادھند فائرنگ اور اس واقعے کے نتیجے میں 24افراد کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ قبطی برادری کے شہریوں کا قتل عام منظم دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ المنیا میں جمعہ کے روز ہونے والی دہشت گردی وحشیانہ اور قابل مذمت کارروائی ہے۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ فرقہ پرست عناصر مصر میں مذہبی ہم آہنگی کی فضا کو تباہ کرنے کی سازش کررہے ہیں۔فوزی برھوم نے کہا کہ مصری قبطیوں کی بس پرحملہ بدترین اور وحشیانہ دہشت گردی کی قابل مذمت شکل ہے۔انہوں نے کہا کہ مصری قوم کا دشمن سرزمین مصر میں فرقہ وارنہ دہشت گردی کی سازش کررہا ہے۔ مصری حکومت کو فرقہ پرست عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کرنی چاہیے۔ فوزی برھوم نے کہا کہ مصر میں گذشتہ روز ہونے والی دہشت گردی سے مصر اور مسلم امہ کے دشمنوں کو ہی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز قبطی برادری کے شہریوں کے قتل عام کے واقعے پر حماس کی ہمدردیاں پوری مصری قوم کے ساتھ ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ روز مصر کی المنیا گورنری میں قبطی عیسائیوں کی ایک بس پر فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم 24 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے شہید فلسطینی بچے کا جسد خاکی ورثا کے حوالے کردیا

بیت لحم ۔28مئی(فکروخبر/ذرائع)سرائیلی فوج نے گذشتہ سوموار کے روز شہید کرنے کے بعد قبضے میں لیے گئے فلسطینی بچے کا جسد خاکی گذشتہ روز اس کے والدین کے حوالے کردیا۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہید 15سالہ راید ردائدہ کا جسد خاکی غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم میں مزموریا چیک پوسٹ سے اس کے ورثا کے حوالے کیا گیا جس کے بعد بچے کا جسد خاکی تدفین کے لیے مشرقی بیت لحم کے العبیدیہ قصبے میں لایا گیا ہے۔ جہاں اسے آج ہفتے کو آسودہ خاک کردیا جائے گا۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہید ردایدہ کے اہل خانہ کو اسرائیلی ملٹری رابطہ کار کی طرف سے اطلاع دی گئی تھی کہ شہید کا جسد خاکی بیت جالا اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے وہ اسے وصول کرسکتے ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ روز صہیونی فوج نے شمال مشرقی بیت لحم کی کونٹینر چیک پوسٹ کے قریب راید احد ردائدہ کو گولیاں کار کر شہید کردیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے ردایدہ پر ایک یہودی فوجی پر چاقو سے حملے کی کوشش کا الزام عاید کیا تھا جس کے بعد اسے گولیاں ماری گئیں اور وہ موقع پر دم توڑ گیا تھا۔

سرائیلی رکاوٹوں کے باوجود 50 ہزار فلسطینی شہریوں نے مسجد اقصی میں نماز جمعہ اداکی 

فلسطینی اسیران اپنی آزادی اور وقار کیلئے بھوک اور پیاس کی جنگ لڑ رہے ہیں،فلسطینی عالم دین 

مقبوضہ بیت المقدس۔28مئی(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے نام نہاد سیکیورٹی انتظامات کی آڑ میں بیت المقدس میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کے باوجود 50ہزار فلسطینی مسجد اقصی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسجد اقصی میں نماز جمعہ کی امامت وخطابت کے فرائض الشیخ محمد سلیم نے انجام دیئے۔ انہوں نے خطبہ جمعہ میں ماہ صیام کی فضلیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ماہ صیام کی آمد پرپورے عالم اسلام بالخصوص فلسطینی قوم کو مبارک باد پیش کی۔ الشیخ محمد سلیم نے کہا کہ 50سال سے فلسطینی قوم آزادی کے ساتھ مسجد اقصی میں سجدہ شکر ادا نہیں کرسکی ہے۔فلسطینی عالم دین نے اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینیوں کے ساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اسیران اپنی آزادی اور وقار کیلئے بھوک اور پیاس کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ الشیخ محمد سلیم نے فلسطینی قوم، سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور فلسطینی حکومت پر زور دیا کہ وہ بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیران کی نصرت کے لیے ہرسطح پر تحریک چلائیں۔ نماز جمعہ سے قبل اسرائیلی فوج اور پولیس نے مسجد اقصی کی طرف آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کرکے نمازیوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں تاہم اس کے باوجود غرب اردن ، بیت المقدس اور شمالی فلسطین سے ہزاروں فلسطینی نماز جمعہ قبلہ اول میں ادا کرنے میں کامیاب رہے۔

اجتماعی بھوک ہڑتالی 3فلسطینیوں کی حالت تشویشناک ،ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ 

تمام اسیران پرعزم ہیں ، مطالبات پورے ہونے تک بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے ، فلسطینی اسیران 

رام اللہ۔28مئی(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کی جیلوں میں 17 اپریل سے اپنے حقوق کیلئے بھوک ہڑتال کرنے والے تین فلسطینی قیدیوں احمد سعدات، عاھد غلمہ اور صحافی محمد اسامہ القیق کی حالت تشویشناک ہونے کے بعد انہیں اسپتالوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں فلسطینی اسیران اسرائیل کی بدنام زمانہ اوھلیکدار جیل میں قید ہیں۔ تینوں اسیران خون کی قے کررہے ہیں اور مسلسل بے ہوش ہیں۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسی قراقع نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران نے اپنے مطالبات کی فہرست میں اضافہ کرتے ہوئے ایک نیا مطالبہ شامل کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں جنگی قیدی تسلیم کیا جائے۔اسیران کی طرف سے صہیونی انتظامیہ کو پیغام دیا گیا ہے کہ تمام اسیران بھوک ہڑتال منطقی انجام تک جاری رکھیں گے۔ اس دوران اسرائیلی حکومت کی طرف سے لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت برتنے کے جواب میں اسیران بھی جواب میں اپنے مطالبات بڑھائیں گے۔ادھر دو دو سابق فلسطینی اسیران احمد حسنی عوض اور علی عیسی حسین نے بھی جیلوں میں قید اپنے بھوک ہڑتالی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ دونوں سابق اسیران کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران بھوک ہڑتال جاری رکھتے ہیں۔اسرائیلی جیل میں قید صحافی محمد اسامہ القیق کی اہلیہ فیحا شلش نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ کو بتایا گیا ہے کہ محمد القیق کی صحت غیرمعمولی حد تک خراب ہے۔انہوں نے کہا کہ محمد القیق سے 15مئی سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ جیل میں کس مقام پر قید ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ القیق گذشتہ 24 روز سے مسلسل بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔

اسرائیل میں مخلوط قومی حکومت کی تشکیل کیلئے مذاکرات شروع

مقبوضہ بیت المقدس ۔28مئی(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں مخلوط قومی حکومت کی تشکیل کیلئے ایک بار پھرمذاکرات شروع کئے گئے ہیں۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو ملک میں مخلوط قومی حکومت تشکیل دینے کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت صہیونی کیمپ کو منانے اور حکومت میں شامل کرنے کیلئے مذاکرات شروع کئے ہیں۔ وزیراعظم نیتن یاھو چاہتے ہیں کہ امریکا کی کوششوں سے فلسطینی اتھارٹی کیساتھ ممکنہ مذاکرات سے قبل اسرائیل میں قومی حکومت تشکیل دی جائے جو مذاکراتی عمل میں متفقہ طور پر شامل ہو۔ اسرائیل کی حکمراں جماعت لیکوڈ نے صہیونی اتحاد میں شامل لیبر پارٹی اور ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں تاکہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ کسی بھی قسم کی مذاکراتی کوشش سے قبل اسرائیل میں متحدہ حکومت تشکیل دی جاسکے۔لیکوڈ کے ایک ذریعے کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو ذاتی طور پرصہیونی کیمپ کو حکومت میں شامل کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے نفتالی بینٹ کی جماعت جیوش ہوم کو حکومت میں شامل کیا۔ اب اگر صہیونی کیمپ کو اس میں شامل کیا جاتا ہے تو جیوش ہوم حکومت سے نکل سکتی ہے۔ کیونکہ یہ جماعت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حامی نہیں۔اسرائیلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ امریکا رواں سال جولائی میں مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے کوئی نیا سیاسی اقدام کرے۔ تب تک وزیراعظم نیتن یاھو مختلف سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر مخلوط حکومت کے قیام کو عملی شکل دینا چاہتے ہیں۔

اجتماعی بھوک ہڑتال کا سلسلہ 40ویں دن بھی جاری ،متعددکی حالت تشویشناک

اسیران پرعزم ہیں ،مطالبات پورے نہ ہونے تک بھوک ہڑتال کا سلسلہ جاری رہے گا،کلب برائے اسیران 

رام اللہ۔28مئی(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی جیلوں میں 17اپریل سے مسلسل بھوک ہڑتال کرنیوالے فلسطینی اسیران کی ہڑتال کو 40 دن ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب بھوک ہڑتالی اسیران نے اسرائیلی ہٹ دھرمی کا پورے عزم کے ساتھ مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مزید احتجاجی حربے استعمال کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اسیران کی طرف سے ان کے مطالبات پورے نہ کئے جانے کے بعد انہوں نے پانی پینا اور نمک کا استعمال کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق صحت کی خرابی کے باوجود تمام بھوک ہڑتالی اسیران پرعزم ہیں جب کہ دوسری طرف صہیونی ریاست اور جیل انتظامیہ کی ہٹ دھرمی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ھداریم جیل سے 40 بھوک ہڑتالی اسیران کو حالت خراب ہونے کے بعد اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس دوران فلسطینی مندوب منذر ابو احمد نے چار فلسطینی اسیران محمود السراحنہ، ناصر سویلم، مسلمہ ثابت اور یوسف نزال سے ھداریم جیل میں ملاقات کی۔اسیران کی بھوک ہڑتال کو فالو کرنے والی کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض صہیونی انتظامیہ کی طرف سے بھوک ہڑتالی اسیران کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔اطلاعات ہیں کہ دسیوں بھوک ہڑتالی اسیران کو فیلڈ اسپتالوں میں منتقل کرنے کے بعد مزید سیکڑوں اسیران کو طبی معائنے کیلئے اسپتال لے جانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔اسیر رہنما مروان البرغوثی نے صہیونی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کے خلاف بطور احتجاج پانی پینا بھی چھوڑ دیا ہے۔درایں اثنا انسانی حقوق کی تنظیم ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتال پرامن طریقے سے ختم نہ کی گئی تو اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ انسانی حقوق گروپ کے مطابق فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتال انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ اگر اسیران کے ساتھ بات چیت کرکے ان کی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی جاتی تو اس کے نتیجے میں اسیران کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ 17اپریل کو 1500 فلسطینی اسیران نے اسرائیلی جیلوں میں اجتماعی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت بھوک ہڑتالی اسیران کی تعداد دو ہزار کے قریب ہوچکی ہے۔اسرائیلی زندانوں میں 6500 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ جن میں 500 انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل اسیران، 60 خواتین اور 400 بچے شامل ہیں۔

غزہ کو بجلی کی سپلائی کم کرنا دو ملین لوگوں سے انتقاملینے کی سازش ہے،حماس

غزہ۔28مئی(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے محصورعلاقے غزہ کی پٹی کیلئے بجلی کی سپلائی کم کرنے کے اعلان پر اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کو بجلی کی سپلائی کم کرنا دو ملین لوگوں سے انتقام لینا اور ان کا محاصرہ مزید سخت کرنے کی سازش ہے۔ صہیونی ریاست نیایک ایسے وقت میں جب ماہ صیام شروع ہو رہا ہے غزہ کو بجلی کی سپلائی کم کی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غزہ کے عوام کا معاشی محاصرہ کرنے کی سازشیں کررہا ہے۔حماس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کو بجلی کی سپلائی کم کئے جانے کے نتیجے میں مقامی آبادی پر پڑنے والے منفی اثرات کی تمام ترذمہ داری صہیونی ریاست پرعاید ہوگی۔خیال رہے کہ ایک ماہ قبل فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی پٹی کو فراہم کردہ بجلی کے بلات اسرائیل کو ادا نہ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یہ خدشتہ پیدا ہوا تھا کہ اسرائیل کسی بھی وقت غزہ کو بجلی کی سپلائی روک سکتا ہے۔ اسرائیل غزہ کو یومیہ ایک سو یا ایک سو بیس میگاواٹ بجلی فراہم کرتا ہے۔ا گرچہ غزہ کی پٹی کو درکار بجلی میں یہ مقدار بہت معمولی ہے مگر ایندھن کی قلت کے باعث غزہ کی پٹی میں بجلی پیدا کرنے والے جنریٹر بھی بند ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی فوج اور فلسطینی شہریوں کے درمیان جھڑپیں،5 فلسطینی زخمی،ہسپتال منتقل 

قلقیلیہ۔27مئی (یو این این) قابض صہیونی فوج اور فلسطینی شہریوں کے درمیان مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر قلقیلیہ میں ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم پانچ فلسطینی زخمی ہوگئے۔فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی ایمرجنسی ایمبو لینس سروسز کے ڈائریکٹر منذر نزال نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین فلسطینی زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کیبعد اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اسی قلقیلیہ ہی میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپ میں دو فلسطینی آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے۔

غرب اردن،یہودی آباد کار فلسطینی بچے کو کچل کر فرارہوگیا

الخلیل۔28مئی(فکروخبر/ذرائع)فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل وادی الحصین کے مقام پر ایک یہودی آباد کار نے ایک فلسطینی بچہ گاڑی تلے کچل کر زخمی کردیا۔عینی شاہدینکے مطابق یہودی شرپسند نے پانچ سالہ احمد الجعبری کو اس کے گھر کے قریب گاڑی کی ٹکر مار کر زخمی کیا اور خود فرار ہوگیا۔زخمی بچے کو الخلیل شہر کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔

شام ، امریکی فوج کی بمباری، 100افراد ہلاک،ترجمان اتحادی فوج نے تصدیق کردی 

عام شہریوں کوبمباری سے بچانے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں گے،اقوام متحدہ

دمشق۔28مئی(فکروخبر/ذرائع) شام میں امریکی اتحادی فوج کی بمباری سے بچوں اور خواتین سمیت داعش کے 100 کارکن ہلاک ہوگئے۔امریکی اتحادی فوج نے بمباری شامی شہر دیر الزور کے قصبے المیادین میں کی جو داعش کے قبضے میں ہے۔ مرنے والوں میں داعش شدت پسندوں کے خاندان والے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ امریکی اتحادی فوج کے ترجمان نے بمباری کی تصدیق کردی ہے، مرنے والوں میں 40 بچے شامل ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق مرنے والوں میں داعش جنگجوؤں کے درجنوں رشتے دار بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد المیادین قصبے کی میونسپل عمارت میں پناہ لینے والے تھے۔امریکی فوج نے کہا کہ بمباری سے قبل اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ شہریوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا کہ عام شہریوں کو بمباری سے بچانے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں۔