Live Madinah

makkah1

dushwari

حوثیوں نے امدادی سامان کے 63 جہاز اور 550 قافلے لوٹ لئے"(مزید اہم ترین خبریں)

یو این نے یمن میں ہیضہ کے پھیلاؤ کی وارننگ جاری کر دی

دبئی ۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)یمن میں مقامی انتظامیہ کے نائب وزیر عبدالسلام باعبود نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ہمنوا جنگجوؤں نے یمنی عوام کے لئے بھجوائے جانے والے امدادی سامان کے 63 بحری جہاز اور 550 امدادی کانوائے لوٹ لئے ہیں۔"بھوک اور غربت حوثی مںصوبہ" کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے باعبود نے واضح کیا کہ حوثی باغیوں کی کارروائیوں سے تقریباً 20 ملین یمنی شہری امداد کے لئے ترس رہے ہیں جبکہ 24 ملین شہری طبی ضروریات کے شدید محتاج ہیں۔علی عبداللہ صالح کے ہمنوا جنگجوؤں اور حوثی باغیوں نے صرف یمنی شہریوں کو بھوک اور ننگ کا شکار بنا کر ان کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار نہیں کیا۔ انہوں نے یمنی شہریوں کو تقریباً آٹھ مہینوں سے تنخواہوں سے محروم کر رکھا ہے۔

یمنی حکومت کا تختہ الٹنے والے انہی انقلابیوں نے وہ تمام امدادی سامان بھی لوٹ لیا ہے جسے دنیا کے مختلف علاقوں سے نہتے اور بے گناہ یمنی عوام کے مسائل کم کرنے کے لئے بھجوایا گیا تھا۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے بھوک، ہیضہ اور تنازعات نے یمن میں ایک ہلاکت خیز تکون بنا رکھی ہے۔ عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ہیضہ یمن کے طول وعرض میں ریکارڈ رفتار سے پھیل سکتا ہے۔ یمن میں یو این کے ہیلتھ کوارڈنیٹر مارک گولڈریک نے بتایا کہ انسانیت کی مددگار انجمنوں کو اگلے چھ مہینوں تک ہیضہ کا علاج کرنے کے لئے کم سے کم 55 ملین ڈالر امداد درکار ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے عالمی ادارے کے رکن ملکوں سے اپیل کی ہے کہ یمن میں انسانیت کو لاحق ہونے والے سنگین نوعیت کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ مالی اور سیاسی تعاون پیش کریں۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کم سے کم ساڑھے تین لاکھ افراد ہیضہ سے متاثر ہوئے جن میں آدھی تعداد بچوں کی تھی۔ یمن کے 19 شہروں میں ہیضہ کے مرض میں مبتلا 370 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

جزیرہ نما سیناء سے اسرائیلی زیرتسلط فلسطینی علاقے پرراکٹ حملہ

مقبوضہ بیت المقدس۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز مصر کے جزیرہ نما سیناء سے غزہ کے نواحی علاقے اشکول میں ایک یہودی کالونی پر راکٹ حملہ کیا گیا تاہم اس حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جزیرہ نما سیناء سے نامعلوم عسکریت پسندوں کی طرف سے غزہ کے قریبی علاقے اشکول میں ایک راکٹ داغا گیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق راکٹ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فوج نے داغے گئے راکٹ کا ملبہ قبضے میں لے کر اس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تاہم اس موقع پر خطرے کے الارم نہیں بجائے گئے۔خیال رہے کہ 10 اپریل کو بھی جزیرہ نما سینا میں ایک راکٹ داغا گیا تھا۔ اس راکٹ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا تاہم شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ 

’اسرائیل نے فلسطینی اقتصادی ترقی کے تمام مطالبات مسترد کردیے‘

رملہ۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)فلسطینی اتھارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے فلسطینی اقتصادی ترقی اور بہتری کے لیے اسرائیل کے سامنے مطالبات کی ایک فہرست پیش کی تھی مگر صہیونی ریاست نے فلسطینی معیشت کی بہتری کی تمام تجاویز اور مطالبات یک جنبش قلم مسترد کردیے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ غرب اردن کے سیکٹر ’C‘ میں فلسطینی اقتصادی پروگرام کی بہتری کے لیے ذمہ داریوں اور سیکیورٹی اختیارات کے مطالبات مسترد کردیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ غرب اردن کے’سیکٹر C‘ کی مکمل نگرانی فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ صہیونی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ غرب سیکٹر سی میں ایک ہوائے اڈے کے قیام کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو اختیارات تفویض کرے۔فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صہیونی حکومت کی طرف سے غرب اردن میں فلسطینی معیشت کی بہتری کے لیے جن اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا ان میں سے کسی ایک عہد وپیمان پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ 

افغان صوبے قندھار میں فوجی اڈے پر حملہ

قندھار۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)افغان صوبے قندھار میں فوجی اڈے پر مسلح افراد کے حملے میں 10 فوجی ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ افغان وزارت دفاع نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ میں پیش آیا۔ جہاں مسلح افراد نے اچکزئی ملٹری کیمپ پر دھاوا بولا۔ حملے میں 10 فوجی ہلاک جب کہ 9 زخمی ہو گئے۔ افغانستان میں برسر پیکار کسی گروپ نے تاحال اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم قندھار میں طالبان انتہائی مضبوط ہیں اس لیے حملے میں بھی ان ہی کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی زابل میں پولیس چوکیوں پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 20 پولیس اہل کار مارے گئے تھے۔

ایران سے دشمنی بڑھانا اچھی بات نہیں، امیرقطر

دوحا۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع) امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور قطر کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ ایران کواسلامی طاقت تسلیم کرتے ہیں ، ایران سے عدوات رکھنا عقل مندی نہیں۔روس سے روابط کے دعووں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک میں قانونی موشگافیوں کا سامنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امیر قطر الشیخ تمیم آل ثانی نے فوجی پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور قطر کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔انہوں نے ایران کو ایک اسلامی طاقت بھی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے عدوات رکھنا عقل مندی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس سے روابط کے دعووں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک میں قانونی موشگافیوں کا سامنا ہے۔امیر قطر نے کہا کہ ہمارے ملک کو دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے بدنام کرنے والے ملکوں اور تنظیموں کا ہر جگہ تعاقب کرتے ہوئے قومی عزت وقار کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ایسے عناصر اور ممالک ہر منصفانہ کارروائی کو مجرمانہ کوشش سے تعبیر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک یا ادارے کو قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کسی کو ہم پر دہشت گردی کا الزام لگانے کا حق نہیں کیونکہ انہوں نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیکر بلیک لسٹ کیا یا وہ حماس اور حزب اللہ جیسی مزاحمتی تنظیموں کو مسترد کرتے ہیں۔ہم مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قطر کے خلاف اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کریں۔ پڑوسی ملکوں کی طرف سے الزامات کا سیل رواں مشترکہ مفادات کے خلاف ہے۔ قطر کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا چاہے دوسرے ملک کی قوم کو بنیادی حقوق سے محروم کیوں نہ کیا گیا ہو۔قطر کی لچک دار پالیسی میں کسی کے ساتھ دشمنی روا نہیں رکھی جاتی۔ ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے امیر قطر نے کہا کہ ایران خطے کی ایک قابل ذکر طاقت ہے اور اسے نظر انداز کر کے علاقائی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ قطر نے ایک ہی وقت میں امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ یکساں تعلقات قائم رکھ کر اپنی لچک دار پالیسی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ایران کے خلاف کشیدگی بڑھانا دانش مندی نہیں۔

بحرین: حکومت مخالف مظاہرین پر فائرنگ،5 افراد ہلاک

منامہ۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)بحرین میں پولیس کی حکومت مخالف مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔واقعہ دارالحکومت مناما کے قریب دراز نامی قصبے پر چھاپے کے دوران پیش آیا جہاں سیکورٹی فورسز نے مذہبی رہنما آیت اللہ عیسیٰ قاسم کے گھر پر چھاپہ مارا۔اس دوران مظاہرہ کرنے والے افراد پر پولیس نے فائرنگ کر دی جس سے5 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق یہاں دہشت گردی اور ایک پولیس اہل کار کیقتل میں ملوث افراد چھپے ہوئے تھے۔بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق چھاپے کے دوران 5 افراد ہلاک ہوئے جب کہ 286 کو حراست میں لیا گیا۔واضح رہے کہ مذہبی رہنما آیت اللہ عیسیٰ قاسم کو ملک بدری کا سامنا ہے۔ بحرین کی حکومت نے تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں پچھلے سال ان کی شہریت منسوخ کر دی تھی۔ 

میزائل تجربات جاری رکھیں گے، ایران کا امریکا کو جواب

تہران۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)ایرانی صدر حسن روحانی نے پاسداران انقلاب کی طرح میزائل پروگرام کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے امریکا کی طرف سے میزائل تجربات روکے جانے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ ایران نے تکنیکی طور پر جس وقت بھی میزائل تجربے کی ضرورت محسوس کی تو تجربہ کرنے میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر نے امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کے سعودی عرب دورے کے دوران تہران سے کیے گئے مطالبے کو مسترد کردیا جس میں انہوں نے ایران سے کہا تھا کہ وہ میزائل تجربات روکے اور خطے میں دہشت گردی سیل ختم کرے۔صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ اگر آج ہم میزائل پروگرام سے دست بردار ہوجاتے ہیں تو بعض لوگ بہت بڑی غلطی کریں گے۔وہ خطے میں نئی کشیدگی کو ہوا دے سکتے ہیں۔ایرانی صدر نے 14 ارب ڈالر کے نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری دی۔ اس بجٹ کا 53 فی صد پاسداران انقلاب کے لیے مختص کیا گای۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میزائلوں کی تیاری اور انہیں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اپ گریڈ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔خیال رہے کہ اتوار کے روز سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی اسلامی، عرب امریکا سربراہ کانفرنس کے دوران ریاض دورے پرآئے امریکی وزیرخارجہ نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی اور میزائل تجربات کا سلسلہ فوری طور پر روک دے تاہم ایران نے سرکاری طور پر امریکی وزیرخارجہ کا مطالبہ مسترد کردیا تھا۔

"ایران سے عدوات عقل مندی نہیں، قطر کے اسرائیل سے تعلقات اچھےہیں"

۔امیر قطر الشیخ تمیم آل ثانی کا فوجی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب

دوحہ۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)قطر کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ انہوں نے دوحا سے پانچ عرب ملکوں کے سفیر نکالنے واپس بلانے سے متعلق کسی قسم کا کوئی بیان نہیں دیا۔یہ بیان انہوں نے قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'قنا' کی جانب سے اس خبر کے بعد جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ قطر نے سعودی عرب، مصر، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات سے اپنے سفیر واپس بلا لئے ہیں۔اس سے قبل منگل کو رات گئے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور قطر کے درمیان تعلقات 'کشیدہ' ہیں۔ انہوں نے ایران کو ایک اسلامی طاقت بھی تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران سے عدوات رکھنا عقل مندی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس سے روابط کے دعووں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک میں قانونی موشگافیوں کا سامنا ہے۔امیر قطر نے کہا کہ ہمارے ملک کو دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے بدنام کرنے والے ملکوں اور تنظیموں کا ہر جگہ تعاقب کرتے ہوئے قومی عزت وقار کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔الشیخ تمیم آل ثانی نے کہا کہ دہشت گردی کی معاونت کے الزامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ الزامات داعش اور دہشت گردوں کے خلاف قطر کی مساعی کو نظر انداز کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی خطرہ ان ملکوں سے ہے جو اسلام کا انتہا پسندانہ نسخہ تیار کرنے کا سبب بن رہے ہیں، ایسے ممالک حقائق کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ایسے عناصر اور ممالک ہر منصفانہ کارروائی کو مجرمانہ کوشش سے تعبیر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک یا ادارے کو قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کسی کو ہم پر دہشت گردی کا الزام لگانے کا حق نہیں کیونکہ انہوں نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیکر بلیک لسٹ کیا یا وہ حماس اور حزب اللہ جیسی مزاحمتی تنظیموں کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قطر کے خلاف اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کریں۔ پڑوسی ملکوں کی طرف سے الزامات کا سیل رواں مشترکہ مفادات کے خلاف ہے۔ قطر کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا چاہے دوسرے ملک کی قوم کو بنیادی حقوق سے محروم کیوں نہ کیا گیا ہو۔امیر قطر نے کسی ملک کا نام لئے بغیر کہا کہ العدید فوجی اڈا بعض پڑوسی ملکوں کی طرف سے لاحق خطرات کی روک تھام اور ملک کے دفاع کا اہم سبب بنے گا۔امیر قطر کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم کی تحریک آزادی کو دہشت گردی کے ساتھ نہ جوڑا جائے بلکہ فلسطینیوں کو ان کے منصفانہ حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا حق دیا جائے۔ قطر، فلسطینی قوم کی حقیقی اور آئینی نمائندہ حماس اور اسرائیل کے درمیان منصفانہ امن پر اتفاق کے لیے تیار ہے۔ قطر دونوں فریقوں حماس اور اسرائیل کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے۔ قطر کی لچک دار پالیسی میں کسی کے ساتھ دشمنی روا نہیں رکھی جاتی۔ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے امیر قطر نے کہا کہ ایران خطے کی ایک قابل ذکر طاقت ہے اور اسے نظر انداز کر کے علاقائی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ قطر نے ایک ہی وقت میں امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ یکساں تعلقات قائم رکھ کر اپنی لچک دار پالیسی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ایران کے خلاف کشیدگی بڑھانا دانش مندی نہیں۔

خان شیخون میں کیمیائی حملے ٹھوس شواہد موجود ہیں: یو این

دبئی۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)اقوام متحدہ کی ایک اہم خاتون اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے شمالی شہر ادلب کے نواحی علاقے کان شیخون میں مبینہ طور پر شامی فوج کی طرف سے نہتے شہریوں کے خلاف ’سیرین‘ گیس کے استعمال کیے جانے کے ناقابل تردید اور ٹھوس شواہد موجود ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی اہلکار ایزومی ناکا میٹسو نے سلامتی کونسل کیاجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بین الاقوامی سطح پر معائنہ کاروں کو تحفظ کی ضمانت حاصل نہیں ہوجاتی کسی وفد کو خان شیخون میں مزید شواہد کی چھان بین کے لیے بھیجنا خطرہ مول لینے کے مترادف ہے تاہم اقوام متحدہ بین الاقوامی سطح پر معائنہ کاروں کے لیے تحفظ کی ضمانت حاصل کرنا چاہتا ہے۔خیال رہے کہ مارچ میں ادلب کے نواحی علاقے خان شیخون میں چار کیمیائی حملوں میں کم سے کم 88 افراد ہلاک اور سیکڑوں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ یہ حملہ شامی اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں میں کیا گیا۔ اقوام متحدہ، امریکا اور اس کے یورپی حلیفوں نے اس حملے کا الزام اسد رجیم پر عاید کیا ہے تاہم صدر بشارالاسد اس حملے کی سختی سے تردید کرتے چلے آرہے ہیں۔سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں اقوام متحدہ کی ہتھیار پھینکنے سے متعلق امور کی ذمہ دار نے کہا کہ عالمی معائنہ کاروں کا تحقیقاتی کمیشن خان شیخون بھیجنے کی تیاریاں جاری ہیں تاہم انہوں نے اس ضمن میں کسی تاریخ کا تعین نہیں کیا۔اقوام متحدہ کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے لیے سرگرم تنظیم کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیشن خان شیخون بھیجنے کی تیاری کررہی ہے تاکہ مزید شواہد اور ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے جاسکیں۔قبل ازیں کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے لیے سرگرم عالمی تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ماہرین نے خان شیخون کے مقتولین، زخمیوں اور متاثر حیوانات کے خون کے نمونے حاصل کیے ہیں جن کے نتائج مثبت سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ انسان وحیوانات کے جسم میں سیرین جیسی مہلک کیمیائی گیس یا اس سے مشابہ مواد کے اثرات پائے گئے ہیں۔سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں تنظیم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ماہرین نے تین لاشوں،10 زخمیوں، پرندوں، مٹی اور نباتات کے نمونوں سے بھی خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کییجانے کے شواہد جاننے کی کوشش کی ہے۔تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل احمد ازومجو نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹیسٹوں کے نتائج یہ بات صاف طور پرواضح نہیں ہورہی کہ آیا خان شیخون میں شہریوں کیخلاف سیرین گیس کا استعمال کیا گیا یا اس سے ملتی جلتی کوئی دوسری گیس استعمال کی گئی تھی۔

بحرین: پولیس نے 286 اشتہاری دہشت گرد گرفتار کر لیے

منامہ۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)خلیجی ریاست بحرین میں پولیس نے عدالتوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں مطلوب 286 اشتہاری دہشت گردوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ گرفتار کیے گئے شدت پسندوں میں کئی بیرون ملک فرار کی کوشش کے دوران پکڑے گئے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پولیس نے اشتہاریوں کے خلاف کارروائی شروع کی اور ان کی گرفتاریوں کے لیے جگہ جگہ پر چھاپے مارے گئے۔ اس دوران الدراز کے مقام پر شیعہ لیڈر عیسیٰ قاسم کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا جہاں سے کئی اشتہاری گرفتار کئے گئے۔قبل ازیں بحرینی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’الداز‘ کالونی میں کارروائی کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔بحرینی پولیس کے ایک عہدیدار نے ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ مصدقہ اطلاعات ملنے کے بعد مفرر اشتہاریوں کے خلاف الدراز کالونی میں کارروائی کی گئی۔ گرفتار شدت پسندوں میں پولیس اہلکاروں پر حملوں اور ان کے قتل میں ملوث دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے چھ کو عیسیٰ قاسم کے گھر سے پکڑا گیا۔پولیس نے دہشت گردی کے الزامات کے تحت عدالتوں سے سزا یافتہ 50 عناصر کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں جیل سے فرار ہونے والیعسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ مفرور عناصر شیعہ لیڈر عیسیٰ قاسم کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

یمن: تعز میں قتل و غارت، باغیوں کی رہائشی علاقوں پر گولہ باری

دبئی ۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)یمن میں باغی ملیشیاؤں نے مسلسل تیسرے روز تعز شہر کے رہائشی علاقوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں شہری جاں بحق اور زخمی ہو گئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کی جانب سے مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے گئے۔مقامی ذرائع کے مطابق الضبوحہ اور الکرامیہ کے علاقوں میں ہونے والی کارروائی میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد نو تک پہنچ گئی جب کہ درجنوں شہری زخمی بھی ہیں۔ادھر شہر کے مشرقی محاذ پر شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جھڑپوں کا آغاز یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کی جانب سے باغی ملیشیاؤں کے ایک بڑے حملے کو پسپا کرنے کے بعد ہوا۔ اس دوران مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کے ذریعے شدید ترین گولہ باری کی گئی اور شہر کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

شراب نہیں پی ،روس سے متعلق سوال پر ٹرمپ غصے میں آئے،حکام کی وضاحت

تل ابیب۔ 25مئی(فکروخبر/ذرائع)امریکی حکام نے وضاحت کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات میں نشے کی حالت میں دکھائی دیئے اور بہت سے لوگوں نے یہ گمان کرلیا کہ انہوں نے شراب پی رکھی تھی، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر ایک فوٹیج پوسٹ کی گئی جس میں ٹرمپ کو نشے کی حالت میں دکھانے کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو سے ملاقات کے وقت شراب پی رکھی تھی۔مگر ان کے چہرے کے تاثرات میں تبدیلی شراب پینے سے نہیں بلکہ روس کے ساتھ مذاکرات میں اسرائیل سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر برہمی کا نتیجہ تھی۔صدر ٹرمپ اس سوال پر بہت زیادہ سیخ پا تھے اور لگ رہا تھا کہ انہوں نے شراب پی رکھی ہے۔سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کے الکحل استعمال کرنے کی مبینہ ویڈیو کے بعد خود امریکی صدر کو اس کی وضاحت کرنا پڑی کہ انہوں نے شراب نہیں پی رکھی تھی۔البتہ ان کے غصے کی وجہ حاضرین میں سے ایک شخص کی طرف سے روس کے ساتھ مذاکرات کے دوران اسرائیل بارے ایک سوال تھا جس پر صدر بہت سے زیادہ برہم ہوئے تھے۔جہاں تک شراب نوشی کا تعلق ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مدت ہوئی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا۔