رواں ہفتے منگل کے روز واشنگٹن میں ترکی کے سفیر کی قیام گاہ کے سامنے شدید نوعیت کے جھگڑے میں 9 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن امریکا کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ مذکورہ جھڑپ کی وڈیو اکثر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے نشر کی۔ تاہم جمعرات کے روز اسی واقعے سے متعلق سامے آنے والی ایک نئی وڈیو میں ترک صدر گاڑی کی کھڑکی سے سڑک پر ہونے اس لڑائی کاجائزہ لیتے دکھائی دے رہے ہیں ، بعد ازاں وہ گاڑی سے باہر نکل آئے۔

مظاہرین اور ترک سکیورٹی فورسز کے اہل کاروں کے درمیان یہ تصادم خون ریز نوعیت کا تھا۔ اسی واسطے امریکا نے واقعے پر ترکی کے سامنے اپنی گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔ معروف ریپبلکن سینیٹر جان مکین نے ترک سفیر کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر ترکی نے ملامت کا ذمے دار کردستان لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کو ٹھہرایا ہے۔ تاہم واشنگٹن پولیس کے سربراہ نے اس واقعے کو پر امن احتجاج کرنے والوں پر ایک "وحشیانہ حملہ" قرار دیا۔

ایردوآن کے 10 محافظین بمقابلہ 25 سے 30 مظاہرین

پولیس سربراہ نے بتایا کہ "دو مظاہرین شدید زخمی ہوئے جن کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ترک صدر کی وہائٹ ہاؤس میں اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کے دن ہونے والا یہ تصادم دو گروپوں کے درمیان تھا جن میں سے ایک نے کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی کا پرچم اٹھایا ہوا تھا"۔

بدھ کے روز ترکی کے سفیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کی تعداد 25 سے 30 کے قریب تھی ، ایردوآن کے 10 کے قریب محافظین نے "اپنا دفاع" کرتے ہوئے ان کا مقابلہ کیا۔

جمعرات کے روز سامنے آنے والی وڈیو میں ایمبولینس کی گاڑیوں کے سائرن اور تصادم میں شریک عناصر کا غُل غپاڑہ بھی سنائی دے رہا ہے۔ وڈیو میں 1:12 (ایک منٹ اور بارہ سیکنڈ) حق ایردوآن ترک سفیر کی رہائش گاہ کے دروازے کے پاس کھڑی اپنی گاڑی سے نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں تا کہ صورت حال کا زیادہ بہتر طور جائزہ لے سکیں۔ کچھ دیر اس منظر کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہ ظہرانے کے لیے ترک سفیر کے گھر کی میز پر موجود تھے۔