اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 17 فروری 2017ء سے 22 مارچ تک شمالی عراق کے شہر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے خلاف لڑائی کے دوران کم سے کم 307 عام شہری جاں بحق اور 273 زخمی ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے جنیوا میں قائم مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے ترجمان رابرٹ کولفیل نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ہلاکتوں کی تعداد لڑائی میں شامل فریقین کے اعدادو شمار سے کافی مختلف ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دنوں کے دوران مغربی موصل میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اطلاعات آئی ہیں کہ 23 مارچ سے 26 مارچ کے دوران مزید 95 عام شہری مارے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ مغربی موصل میں عراقی فوج اور عالمی اتحادی فوجیں داعش کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔ گنجان آباد شہر میں جاری لڑائی کے دوران عام شہریوں کا بے پناہ جانی نقصان ہوا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے حالیہ ایام میں مغربی موصل میں فضائی اور زمینی حملوں کے دوران عام شہریوں کے مارے جانے کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔

عراق میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر زید رعد الحسن نے ایک بیان میں کہا ہے یہ وہ امریکا کی طرف سے شروع کی گئی تحقیقات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ بات سامنے آنی چاہیے کہ آیا مغربی موصل میں شہریوں کے قتل عام کا قصور وار کون ہے۔ انہوں نے جنگی حکمت عملی تبدیل کرنے اور بے گناہ شہریوں کو جنگ کا ایندھن بنانے سے گریز کا مطالبہ کیا۔

عراقی حکومت اور ذرائع ابلاغ کےمطابق عام شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار داعش ہے کیونکہ داعش مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کررہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق مغربی موصل سے گذشتہ مہینے 2 لاکھ شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اب بھی داعش کے زیر تسلط علاقوں میں چھ لاکھ افراد کے موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔