Live Madinah

makkah1

dushwari

اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں فلسطینی نوجوان شہید، تین زخمی(مزید اہم ترین خبریں )

مقبوضہ بیت المقدس ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)قابض اسرائیلی فورسز نے فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں الجلزون پناہ گزین کیمپ میں ایک فلسطینی نوجوان کو گولیاں مار کر شہید اور تین کو زخمی کر دیا۔العربیہ کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ایک فلسطینی شہری کی صہیونی فوج کی فائرنگ میں شہادت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کی شام مشرقی رام اللہ میں واقع الجلزون پناہ گزین کیمپ میں پیش آیا۔اسرائیلی فوج نے حسب معمول فلسطینی نوجوان پر فائرنگ کا جواز تراشنے کے لیے اس کی طرف سے فائرنگ کا دعویٰ کیا ہے۔ قابض فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چار فلسطینی نوجوانوں نے بیت ایل کالونی کے قریب فوجیوں پر سنگ باری کے ساتھ فائرنگ بھی کی تھی جس پران کے خلاف گولی چلائی گئی۔

عینی شاہدین نے صہیونی فوجیوں پر سنگ باری کے واقعے کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے ایک کار میں سوار چار فلسطینی نوجوانوں پر ایک فوجی کنٹرول ٹاور سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی موقع پر ہی دم توڑ گیا اور تین زخمی ہوگئے۔ زخمی ہونے والے فلسطینیوں میں ایک زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ شہید اور زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی عمریں 17 سے 20 سال کے درمیان ہیں۔

صہیونی فوج نے ادھیڑ عمر فلسطینی پر وحشیانہ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی 

مقبوضہ بیت المقدس ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کی قابض سکیورٹی فورسز کے اہلکار مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں سے کس انداز میں انسانیت سوز سلوک کرتے ہیں اور انھیں کس طرح ہراساں کرتے اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں،اس کی عکاسی کرتی ایک نئی ویڈیو گزشت روز سامنے آئی ہے۔اس ویڈیو میں مقبوضہ بیت المقدس میں ایک شاہراہ کے کنارے ایک اسرائیلی سکیورٹی افسر نے ایک ادھیڑ عمر فلسطینی ٹرک ڈرائیور کو روک رکھا ہے۔اس کو کیوں روکا گیا ہے؟ یہ واضح نہیں ہوا لیکن اس ویڈیو میں اسرائیلی افسر اس بے یارو مددگار ڈرائیور کو سفاکانہ انداز میں سر میں ٹکر ماررہا ہے، ڈنڈے اور تھپڑ رسید کررہا ہے اور ساتھ ساتھ منھ سے گالیاں بھی بک رہا ہے۔ایک مرحلے پر اس اسرائیلی افسر کو ٹرک ڈرائیور کو حرام زادہ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی اولاد کہتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے۔یہ واقعہ مبینہ طور پر مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے وادی الجوز میں پیش آیا تھا۔بعض لوگوں نے اس اسرائیلی افسر کو روکنے کی کوشش کی تو وہ ان پر چڑھ دوڑا اور انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔واضح رہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قابض اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں کسی فلسطینی کی اس طرح بے توقیری اور ہراساں کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ آئے دن ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی پولیس اہلکار یا فوجی گولیاں مار کر شہید کردیتے ہیں اور پھر وہ یہ من گھڑت کہانی بیان کردیتے ہیں کہ مقتول فلسطینی نے ان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تھی۔

فیفافلسطین میں قائم یہودی کالونیوں میں فٹ بال میچوں پر پابندی عائدکرے ،عالمی تنظیموں کا مطالبہ 

زیورخ ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ شہروں میں قائم کی گئی متنازعہ یہودی کالونیوں میں فٹ بال میچوں کے انعقاد پر پابندی عاید کرے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ، آفاز سول آرگنائزیشن اور "European Middle East Progect" نے عالمی فٹ بال فیڈریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے اور دوسرے مقبوضہ فلسطینی شہروں میں موجود یہودی کالونیوں میں فٹ بال میچوں کے انعقاد پر پابندی عاید کرے۔انسانی حقوق کی تینوں عالمی تنظیموں نے فیفا سے کہا ہے کہ قانونی طورپر فیفا متنازع یہودی کالونیوں میں کھیل کی عالمی سرگرمیوں کے انعقاد کا مجاز نہیں۔ یہودی کالونیاں انسانی حقوق کے مسائل کی وجہ سے متنازع ہیں۔ اس لیے فیفا کے لیے ان کالونیوں میں بین الاقوامی فٹ بال میچ منعقد کرانے سے سختی سے گریز کرنا چاہیے۔ تینوں گروپوں نے اسرائیلی فٹ بال فیڈیریشن سے بھی غرب اردن میں قائم یہودی کالونیوں میں فٹ بال میچ کرانے سے گریز کا مطالبہ کیا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے یہ مطالبہ زیورخ میں منعقدہ بین الاقوامی مانیٹری کمیٹی کے اجلاس کے دوران پیش کیا ہے۔ اس کمیٹی میں دنیا کے مختلف خطوں میں فٹ بال کے انعقاد کے بارے مختلف پہلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شہید فلسطینی کا مکان چاروں اطراف سے سیل، فضائی نگرانی بھی جاری

صہیونی فوج کی بھاری نفری نے مشین گنوں سے لیس شہیدکے مکان کو گھیرے میں لے رکھا ہے ،عینی شاہدین 

مقبوضہ بیت المقدس۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں اسرائیلی فوج نے جبل المکبر کالونی میں ایک شہید فلسطینی شہری فادی قنبرکے مکان کا مسلح اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سیمٹی بلاک کے ذریعے محاصرہ کرلیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق جنوب مشرقی بیت المقدس میں جبل المکبر کالونی میں صہیونی فوج نے جگہ جگہ ناکے گا کر فلسطینیوں کو شہید فادی قنبر کے گھرکی طرف آنے سے روک دیا گیاہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کی بھاری نفری مشین گنوں سے لیس پولیس کی گاڑیوں نے شہید فادی قنبرکے مکان کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ شہید کے گھر کے باہر چاروں اطراف میں سیمٹ کے بھاری بھرکم بلاک کھڑے کیے گئے ہیں۔زمینی نگرانی اور محاصرے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی جاسوس طیاروں کی مدد سے فضائی نگرانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔صہیونی فوج کی طرف سے شہید کے مکان کو سیل کردیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہید کے والد القنبر اور اس کے بھائی منذر کو حراست میں لینے کے بعد المسکوبیہ حراستی مرکز میں ڈال دیا گیا ہے۔اس وقت گھر میں شہید کی اہلیہ اور اس کے چار بچے موجود ہیں۔ بڑے بیٹے کی عمر سات سال جب کہ سب سے چھوٹا نو ماہ کا ہے۔خیال رہے کہ 28 سالہ فادی القنبر کو اسرائیلی فوج نے جنوری میں بیت المقدس کے جنوبی قصبے صور باہر میں گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔

صہیونیوں کی اکثریت ایران کے جوہری پروگرام پرمعاہدے کے خلاف ہے ،سروے

مقبوضہ بیت المقدس۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل میں رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے میں کہا گیا ہے کہ 58 فی صد صہیونیوں نے کہا ہے کہ جنگ کی صورت میں وہ اسرائیل کی موجودہ سیاسی قیادت پر اعتماد کا اظہار نہیں کریں گے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں میئر داگان اسٹریٹیجک سیکیورٹی سینٹر کے زیراہتمام کئے گئے سروے میں کہا گیا ہے صہیونیوں کی اکثریت ایران اور مغرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کے خلاف ہے۔رپورٹ کے مطابق سروے کے دوران500 صہیونیوں سے رائے لی گئی۔ ان میں سے 85 فی صد نے کہا کہ وہ ایران اور مغرب کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام پرطے پائے معاہدے کے خلاف ہیں۔سروے میں حصہ لینے والے 43 فی صد صہیونیوں نے ملک کی موجودہ امن وامان کی صورت حال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جب کہ 27 فی صد نے اپنی ذات کیحوالے سے پریشانی کا اظہار کیا۔اسرائیلیوں کی اکثریت نے ملک کی موجودہ معاشی ابتری پربھی تشویش کا اظہار کیا۔ 69 فی صد نے کہا کہ وہ مہنگائی اور بے روزگاری کے بڑھتے طوفان سے خوف زدہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر 68 فی صد نے کہا کہ وہ ٹرمپ کو اسرائیل کے لیے قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔

بندوق کی گولی کے بعد فلسطینیوں پر منشیات کا صہیونی بم گرادیا گیا

فلسطینی قوم کو منشیات کا عادی کرنے کی مجرمانہ سازش کے پیچھے صہیونی ریاست کا ہاتھ ہے،وزارت داخلہ 

غزہ ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کی منظم دہشت گردی کے تمام سفاکانہ حربوں میں ناکامی کے بعد اب صہیونی ریاست نے فلسطینیوں کی نئی نسل تباہ کرنے کیلئے انہیں منشیات کے سمندر میں غرق کرنے کی نئی پالیسی اختیارکی ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ دو سال کے دوران غزہ کی پٹی میں منشیات کے دھندے میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فلسطینی حکام کے مطابق منشیات کا جتنا مواد رواں سال کے پہلے ایک ماہ کے دوران قبضے میں لیا گیا ہے اتنا سال 2016 کے پورے بارہ ماہ میں قبضے میں نہیں لیا گیا۔ اس کے علاوہ رواں سال ابتدائی چند ماہ کے دوران غزہ میں منشیات کے مکروہ کاروبار میں ملوث قوم دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کے دوران کئی مشتبہ افراد کوحراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے۔غزہ میں وزارت داخلہ کے حکام نے کہا ہے کہ غزہ کے علاقے سے پکڑی جانے والی منشیات کی بھاری مقدار سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلسطینی قوم کو منشیات کا عادی کرنے کی مجرمانہ سازش کے پیچھے صہیونی ریاست کا ہاتھ ہے۔ رواں سال کے دوران غزہ کو اسمگل کی گئی جتنی منشیات پکڑی گئی وہ اسرائیل سے اسمگل کی گئی تھی۔ رواں سال کے دوران غزہ سے چرس کے 1250 پیکٹ اور دیگرمنشیات کی 4 لاکھ گولیاں ضبط کی گئیں۔

اسرائیلی فوج نے غرب اردن سے فلسطینی رکن پارلیمان کو گرفتار کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا

جنین ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین سے تعلق رکھنے والے فلسطینی پارلیمنٹ کے رکن ابراہیم دحبور کو حراست میں لینے کے بعد جیل منتقل کردیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرابہ فلسطینی قصبے سے تعلق رکھنے والے فلسطینی رکن پارلیمنٹ کو گذشتہ روز اسرائیلی فوجیوں نے ان کے گھر سے حراست میں لیا۔اسیر فلسطینی رہنما کی بیٹی رحمہ دحبور نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان کے گھر کا اچانک محاصرہ کرنے کے بعد ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ اس وقت ان کے والد گھر میں موجود تھے۔ اسرائیلی فوجیوں نے انہیں ایک فوجی گاڑی میں ڈالا اور ان کی گاڑی بھی ضبط کرنے کے بعد نامعلوم سمت کی طرف لے گئے۔خیال رہے کہ رواں ماہ کے دوران اسرائیلی فوج تین فلسطینی ارکان پارلیمان کو حراست میں لے چکی ہے۔ 9 مارچ کو خاتون رکن پارلیمنٹ سمیرہ الحلایقہ کو شمالی الخلیل کے الشیوخ قصبے سے حراست میں لیا اور 21 مارچ بہ روز منگل الخلیل کے جنوبی قصبے الظاھریہ سے رکن قانون ساز کونسل محمد الطل کو حراست میں لے لیا۔محمد دحبور کی گرفتاری کے بعد اسرائیلی زندانوں میں قید فلسطینی ارکان پارلیمان کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ ان میں تحریک فتح کے مروان البرغوثی کو پانچ بار عمر قید اور عوامی محاذ کے سربراہ احمد سعدات کو تیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

فلسطینی نوجوان کی انتظامی حراست کے خلاف مسلسل 12ویں روز سے بھوک ہڑتال جاری 

رام اللہ ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی جیل میں انتظامی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج فلسطینی اسیر محمود علی سعادہ نے گذشتہ بارہ دن سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق 41 سالہ علی سعادہ کا تعلق غرب اردن کے نابلس شہر میں حوارہ قصبے سے ہے۔ انہوں نے بارہ روز قبل انتظامی حراست کے خلاف بطور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔کلب برائے اسیران کے مطابق اسیر سعادہ کو اسرائیلی فوج نے 36 روز تک الجلمہ حراستی مرکز میں پابند سلاسل رکھا جہاں اسے ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ سعادہ 16 فروری 2017 سے اسرائیلی زنداں میں قید ہیں۔

اسرائیلی فوجی عدالت نے رکن پارلیمان سمیت متعدد فلسطینیوں کو قید کی سزاؤں کا حکم دیدیا

الخلیل ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی فوجی عدالتوں کی طرف سے نہتے فلسطینیوں کو بلا جواز انتظامی حراست کی سزائیں سنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ روز اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم سے تعلق رکھنے والے اسیر انور زبون کو انتظامی حراست کی سزا دینے کے بعد انہیں چار ماہ کیلئے پابند سلاسل کردیا گیا۔فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق انور زبون کو رواں ماہ مارچ کے اوائل میں حراست میں لیا گیا تھا۔فلسطینی رکن پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر فلسطینیوں کو بھی انتظامی حراست کی سزائیں دی گئیں۔ اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے شعبہ اسیران کی طرف جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی عدالت نے غسان عسی ھرماس کو چار ماہ، محمود کریم عیاد کو چھ ماہ، خالد ابراہیم ذویب کو چار ماہ اور حسن محمد وردیان کو چار ماہ کے لیے انتظامی حراست میں ڈال دیا گیا۔ تمام اسیران کی قید ختم ہونے کے بعد اس میں دوبارہ توسیع کی جاسکتی ہے۔

اسلحہ حماس کا زیور ہے، فلسطین سے باہر کسی پرنہیں اٹھائیں گے،موسی ابو مرزوق

غزہ ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسی ابو مرزوق نے کہا ہے کہ اسلحہ حماس کا زیور ہے مگر اس کا استعمال صرف قابض دشمن کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ حماس بیرون ملک کسی کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے گی۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی پٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حماس کے بانی اور فلسطینی قوم کے ہردلعزیز پیشوا الشیخ احمد یاسین شہید نے قوم کو سر اٹھا کر جینے کا سبق دیا دشمن کے ظلم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا نہیں۔انہوں نے کہا کہ فلسطین صرف غزہ یا مغربی کنارا نہیں۔ دونوں فلسطینی علاقے ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ڈاکٹر الزھار نے کہا کہ فلسطین کی سرحدیں ایک طرف لبنان اور دوسری طرف شام اور مصر سے متصل ہیں۔ سمندر کے کنارے سے دریائے اردن تک پورا علاقہ فلسطین ہے اور اس میں سے ایک انچ بھی دشمن کو نہیں دی جاسکتی۔ایک دوسریسیاق میں حماس رہ نما نے کہا کہ قومی مفاہمت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اسرائیلی دشمن کے ساتھ سیکیورٹی تعاون اور اپنے شہریوں کے خلاف دشمن کی مدد قبول کرلیں۔انہوں نے کہاکہ فلسطینی مجلس قانون ساز قوم کا نمائندہ قانون ساز ادارہ ہے۔ اس کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور قانون ساز کونسل کے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔حماس کے بانی لیڈر الشیخ احمد یاسین کی تیرہویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ الشیخ احمد یاسین نے ثابت کیاہے کہ جسمانی عذر قومی ایشوز سے لاتعلق ہونے کا کوئی جواز نہیں۔

الشیخ احمد یاسین نے آزادی فلسطین کے پروگرام کی بنیاد رکھی،السنوار

فلسطینی تحریک آزادی کا سفر اسی گھر سے شروع کیا،احمد یاسین کی رہائش گاہ کے دورہ پر اظہار خیال

غزہ ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے غزہ کی پٹی کے صدر یحیی السنوار نے کہا ہے کہ الشیخ احمد یاسین شہید نے جہاد اور حماس کے قیام سے تحریک آزادی فلسطین کی بنیاد رکھی۔ الشیخ احمد یاسین شہید کے آزادی کے پروگرام کے نتیجے میں انتفاضہ کا شعلہ روشن کیا اور قابض دشمن کے خلاف مزاحمت کی بنیاد رکھی۔یحیی السنوار نے غزہ کی پٹی میں حماس کے بانی الشیخ احمد یاسین شہید کی سابقہ رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اپنے جسم پر قدرت نہ رکھنے کے باوجود پوری قوم کے خادم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے تحریک آزادی فلسطین کے پروگرام کی بنیاد رکھی اور اپنے خون سے اس عظیم مقصد کو آگے بڑھانے کا درس دیا۔الشیخ یاسین شہید کی رہائش گاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے السنوار نے کہا کہ فلسطینی تحریک آزادی کا سفر اسی گھر سے شروع کیا اور پورا فلسطین اس تحریک کا مرکز ہے۔اس موقع پر حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر اسماعیل ھنیہ، سیاسی شعبے کے ارکان خلیل الحیہ، روحی مشتہی اور دیگر موجود تھے۔

قابض اسرائیلی فوج کے مختلف شہروں میں چھاپے، 12فلسطینی گرفتار

صہیونی فوج کی گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے خلاف فلسطینی شہریوں کے احتجاجی مظاہرے

مقبوضہ مغربی کنارا ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں گزشتہ روز اسرائیلی فوج کے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران ایک درجن فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق قابض فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں چھاپوں کے دوران شہریوں کو زدو کوب کیا۔ گھروں میں توڑپھوڑ کی اور قیمتی سامان جس میں نقدی اور زیورات شامل ہیں لوٹ لیے۔مقامی ذرائع کے مطابق جمعرات کو علی الصباح قابض اسرائیلی فوج نے شمالی شہر قلقیلیہ میں گھر گھر تلاشی کے دوران سات فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔ہمارے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق قلقیلیہ کے نواحی علاقے مشاتل السبع میں اسرائیلی فوج کی کوئی 20 گاڑیوں نے شہری آبادیوں میں داخل ہو کر فلسطینیوں کو زدو کوب کیا۔ صہیونی فوج کی گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے خلاف فلسطینی شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔ صہیونی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ان پر لاٹھی چارج کیا۔ قابض فوج کی طرف سے فلسطینی شہریوں پر آنسوگیس کی اندھا شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کئی فلسطینی دم گھٹنے سے متاثر ہوئے ہیں۔اسرائیلی فوج نے سابق فلسطینی اسیر تحسین العدل کو اس کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ گرفتار کیے گئے دیگر فلسطینیوں کی شناخت فراس ابو علبہ، ایک ہی خاندان کے تین افراد ولید ، حمزہ اور وسیم الحوتری، ایمن رفیق آشتیوی اور نادر عامر کے ناموں سے کی گئی ہے۔ادھر عزون قصبے میں اسرائیلی فوج کی گھر گھر تلاشی کی مہم کے دوران فلسطینی شہریوں کی گاڑیوں کی بھی تلاشی لی گئی۔نابلس شہر میں جمعرات کو علی الصباح اسرائیلی فوج کی چھاپہ مارکارروائیوں کے دوران المعاجین کالونی سے برا ابو نواس، مشرقی نابلس میں بیت فوریک سے بشار عبدالحفیظ ملیطات اور یوسف الشلبی کو حراست میں لیا گیا ہے۔

فلسطینی شہدا کے جسد خاکی روکے جانے کے خلاف فلسطینیوں کا احتجاجی مظاہرہ 

بیت لحم۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)فلسطینی شہدا کے جسد خاکی روکے جانے کے خلاف فلسطینی شہریوں نے ایک بار پھر احتجاج شروع کیا ہے۔ گذشتہ روز غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم میں شہدا کے جسد خاکی روکے جانے کے خلاف فلسطینی شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج کی تحویل میں موجود شہدا کے جسد خاکی ان کے ورثا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ شہدا کو اسلامی طریقے سے سپرد خاک کیا جاسکے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیت لحم میں شہدا کے جسد خاکی کیلئے نکالے گئے جلوس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ان فلسطینی شہدا کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جن کے جسد خاکی صہیونی فوج نے اپنے قبضے میں لے رکھے ہیں۔احتجاجی مظاہرے میں شہدا کے ورثا، انسانی حقوق کے کارکنوں، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے ارکان کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ اس موقع پر مظاہرین نے شہدا کے جسد خاکی واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شہدا کے جسد خاکی واپس لینے کے لیے نکالی جانے والی ریلی کے شرکا پر تشدد کیا۔ تشدد کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوگئے۔خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے سنہ 2015 کے بعد سے سیکڑوں فلسطینیوں کو ماورائے عدالت شہید کیا۔ ان شہدا میں سے سات کے جسد خاکی اب بھی اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔ جن کی واپسی کے لیے ان کے اہل خانہ بے قرار ہیں۔

اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ،ایک فلسطینی نوجوان شہید، تین زخمی

رام اللہ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)قابض اسرائیلی فورسز نے فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں الجلزون پناہ گزین کیمپ میں ایک فلسطینی نوجوان کو گولیاں مار کر شہید اور تین کو زخمی مردیا۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ایک فلسطینی شہری کی صہیونی فوج کی فائرنگ میں شہادت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ واقعہ گزشتہ روز جمعرات کی شام مشرقی رام اللہ میں واقع الجلزون پناہ گزین کیمپ میں پیش آیا۔شہید فلسطینی کی شناخت محمد محمود الحطاب کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 17 سال بتائی جاتی ہے۔اسرائیلی فوج نے حسب معمول فلسطینی نوجوان پر فائرنگ کا جواز تراشنے کے لیے اس کی طرف سے فائرنگ کا دعوی کیا ہے۔ قابض فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چار فلسطینی نوجوانوں نے بیت ایل کالونی کے قریب فوجیوں پر سنگ باری کے ساتھ فائرنگ بھی کی تھی جس پران کے خلاف گولی چلائی گئی۔عینی شاہدین نے صہیونی فوجیوں پر سنگ باری کے واقعے کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے ایک کار میں سوار چار فلسطینی نوجوانوں پر ایک فوجی کنٹرول ٹاور سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی موقع پر ہی دم توڑ گیا اور تین زخمی ہوگئے۔ زخمی ہونے والے فلسطینیوں میں ایک زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ شہید اور زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی عمریں 17سے 20سال کے درمیان ہیں۔اس واقعے کے فوری بعد اسرائیلی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہید ہونے والے فلسطینی کی میت قبضے میں لے لی۔صہیونی فوج کی طرف سے کہا گیاہے کہ فلسطینیوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بیت ایل یہودی کالونی میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ جب انہیں روکا گیا تو انہوں نے فوجیوں پر پٹرول بم پھینکے اور سنگ باری کی۔

اردنی حکومت نے بیت المقدس کی حفاظت کیلئے ملازمین کی تعداد بڑھانے کا اعلان کردیا 

قبوضہ بیت المقدس ۔25مارچ(فکروخبر/ذرائع)اردن کی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی مقدسات کی حفاظت اور دیکھ بھال کیلئے محکمہ اوقاف کے ملازمین کی تعداد بڑھا کرایک ہزار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اردنی وزیربرائے مذہبی امور ڈاکٹر وائل عربیات کی زیرصدارت عمان میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں اردنی وزارت مذہبی امور کے دیگرعہدیداروں نے شرکت کی۔اس موقع پرانہوں نے کہا کہ حکومت بیت المقدس اسلامی اور مسیحی مقدسات کی حفاظت کیلئے ملازمین کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مادی اور معنوی امداد میں بھی اضافہ کرے گی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ اس فیصلے پرکب تک عمل درآمد کریں گے۔قبل ازیں ڈاکٹر عربیات نے اردنی پارلیمنٹ میں فلسطین کمیٹی کے چیئرمین یحیی السعود سے بھی ملاقات کی۔اس موقع پرکمیٹی کے ارکان اور اردنی وزیر کیدرمیان ہونے والی بات چیت میں مسجد اقصی کے خلاف صہیونی سازشوں اور اسلامی مقدسات پر حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اردنی وزیر نے فلسطین میں اذان پر پابندی کے فیصلے کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ اذان پر پابندی آسمانی مذاہب کی تعلیمات اور نین الاقوامی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔