Live Madinah

makkah1

dushwari

شام : امریکی اتحادیوں کا اسکول پر فضائی حملہ، 33 افراد ہلاک(مزید اہم ترین خبریں)

شام :23مارچ(فکروخبر/ذرائع)شام کے شمالی صوبے الرقہ میں ایک اسکول پر امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملے میں تینتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اس اسکول میں جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد قیام پذیر ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ داعش کے زیر قبضہ قصبے المنصورہ میں واقع اس اسکول پر منگل کی صبح یہ فضائی حملہ کیا گیا تھا۔یہ اسکول داعش کے مضبوط گڑھ الرقہ شہر سے قریباً تیس کلومیٹر دور واقع ہے۔رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سےبتایا ہے کہ اسکول میں الرقہ ،حلب اور حمص سے بے گھر ہونے والے خاندان رہ رہے ہیں۔وہ فضائی حملے کے بعد کئی گھنٹے تک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے لاشیں نکالتے رہے ہیں اور صرف دو افراد کو زندہ نکالا جاسکا ہے۔داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے خبریں اکٹھی کرکے جاری کرنے والے ایک اور گروپ نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ  الرقہ کو بڑی خاموشی سے تباہ کیا جارہا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے بھی اس فضائی حملے کی اطلاع دی ہے اور امریکا کی قیادت میں اتحاد پر دسیوں شہریوں کی ہلاکتوں کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اسکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔امریکا کی قیادت میں اتحاد نے مارچ کے اوائل میں ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس کے شام اور عراق پر فضائی حملوں میں غیر ارادی طور پر 220 شہری ہلاک ہوگئے ہیں لیکن جنگی واقعات کی مانیٹرنگ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

اسرائیلی عدالت نے فلسطینی پارلیمنٹ کی خاتون رکن پر فرد جرم عائدکردی

الخلیل ۔23مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کی عوفر فوجی عدالت نیگزشتہ روز منگل کو زیرحراست فلسطینی قانون ساز کونسل کی خاتون رکن سمیرہ حلایقہ کے خلاف فرد جر عائد کرنے کے بعد اس کے کیس کی سماعت آئندہ اتوار تک ملتوی کردی ہے۔فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی عدالت سے مسلسل چوتھی بار حلایقہ کی مدت حراست میں توسیع کی گئی ہے۔فلسطینی پارلیمنٹ کی رکن سمیرہ حلایقہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عدالت کی طرف سے حلایقہ کے مقدمہ کی سماعت آئندہ اتوار تک ان کے وکیل کی درخواست پر ملتوی کی گئی ہے۔ خاتون سیاست دان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران اپنی موکلہ کے خلاف عاید فرد جرم کا باریکی سے جائزہ لیں گے۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی حکام کی طرف سے عاید کردہ فرد جرم میں سمیرہ حلایقہ کی ثقافتی، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کی فیس بک سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔فلسطینی خاتون رہ نما نے صہیونی عدالت میں پیش کی گئی فرد جرم مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فرد جرم کا مقصد سمیرہ کو نام نہاد دعوں اور الزامات کی آڑ میں پابند سلاسل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ سمیرہ خلایقہ اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے پارلیمانی بلاک اصلاح وتبدیلی سے فلسطینی قانون ساز کونسل کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ 53 سالہ ذیابیطس سمیت کئی دوسرے امراض کا شکار ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ضمیر ان کے کیس کو فالو کر رہی ہے۔ سمیرہ الحلایقہ کے خلاف ماضی میں بھی صہیونی ریاست کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے کے الزام میں مقدمات چلائے جاتے رہے ہیں۔

حماس کو فنڈنگ کے الزام میں ترک تنظیم کے فلسطینی ملازم گرفتار

فنڈنگ کے الزام کا دعوی یکسر بے بنیاد ، من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ ہے ، حماس 

مقبوضہ بیت المقدس ۔23مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی فوج نے ترکی کے ایک امدادی ادارے کے فلسطینی ملازم کو حراست میں لینے کا دعوی کیا ہے جس پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ ترکی سے فلسطینی تنظیم حماس کو فنڈز منتقل کرنے میں ملوث رہا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سنسرشپ شعبے کی طرف سے ایک فلسطینی شہری کی گرفتاری کی تفصیلات مشتہر کرنے کی اجازت دی ہے جس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ پولیس نے ترکی کے ایک امدادی ادارے سیوابستہ فلسطینی کو حراست میں لیا ہے۔دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے صہیونی پولیس کے اس دعوے کو یکسر بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے فلسطینی شہری کی گرفتاری کو سنگین جرم قرار دیا ہے۔اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 2 پر نشر کی گئی ایک رپورٹ کا عربی ترجمہ فلسطینی مقامی خبر رساں ایجنسیصفا نے کیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے ترکی کے امدادی ادارےTIKA کی غزہ کی شاخ کے ڈاریکٹر محمد مرتجی کو دو ماہ قبل حراست میں لیا تھا۔ اس پر حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کو رقوم فراہم کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔صہیونی حکام کے دعوے کے مطابق محمد مرتجی 2008 اور 2009 میں حماس کے عسکری ونگ القسام کے ساتھ وابستہ تھا اور اس کی ذمہ داریوں میں تنظیم کے لیے جنگجو بھرتی کرنا تھا۔ اس نے جدید ہتھیاروں کی تیاری، سرنگیں کھودنے، عسکری تربیت حاصل کرنے اور اپنے گھر میں دستی بموں کی فیکٹری بنا رکھی تھی۔ ترک امدادی ادارے کے ساتھ وابستگی کے بعد فلسطینی فلسطینی مزاحمت کار نے بیرون ملک سے القسام بریگیڈ کے لیے فنڈز حاصل کیے اور انہیں تنظیم کو فراہم کیا تھا۔دوسری جانب حماس نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کو قطعی بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک امدادی اداریٹیکا کے ریجنل ڈائریکٹر محمد مرتجی کو جعلی اور من گھڑت الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے کہا ہے کہ محمد مرتجی کی گرفتاری غزہ کے محصورین کی مدد کرنے والے اداروں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کی صہیونی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔

اسرائیلی حکام نے عالمی تحریک BDS کے بانی رکن کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا

مقبوضہ بیت المقدس ۔23مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی حکام نے مقبوضہ فلسطینی شہرحیفا سے صہیونی ریاست کی بائیکاٹ کی عالمی تحریک BDS کے ایک بانی رکن کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق صہیونی پولیس نے حیفا شہر سے بائیکاٹ تحریک کے رکن عمر البرغوثی کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے عمر البرغوثی کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اورکہا ہے کہ ان کی فلسطینی شہریوں بالخصوص رام اللہ میں املاک ہیں۔ ان کی جیولری کی دکانیں، ٹیکنالوجی کے آلات اور دیگر اشیا کی دکانیں ہیں۔ ان کی سالانہ آمد 7لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ البرغوثی اسرائیل کے خلاف جاری عالمی بائیکاٹ تحریک کے بانیوں میں شامل ہیں۔ وہ اب تک فلسطین اور بیرون ملک جامعات میں اسرائیلی بائیکاٹ کی حمایت میں لیکچر بھی دے چکے ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ شہر عکا سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان خاتون سے شادی کی ہے۔ تاہم انہوں نے سنہ 1997 میں اسرائیل کی شہریت حاصل کی تھی۔اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق عمر البرغوثی کی گرفتاری ٹیکس کی عدم ادائیگی کے باعث عمل میں لائی گئی ہے۔ وہ لاکھوں ڈالر کا ٹیکس چوری کرچکے ہیں۔ تاہم ان کی گرفتاری نے کئی سوالات بھی جنم دیے ہیں۔ بالخصوص ان کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حال ہی میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک نیا مسودہ قانون منظور کیا ہے جس میں بائیکاٹ تحریک میں شامل کارکنان کو اسرائیل میں داخل ہونے سے روکنے کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ بائیکاٹ تحریک کا کوئی بھی کارکن صہیونی ریاست میں داخل ہونے پر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی انتظامیہ نے 30فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی سزاؤں کا حکم دیدیا

رام اللہ ۔23مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی حکام کی طرف سے زیرحراست 30 فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق کلب برائے اسیران کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسیران کو 2 سے 6 ماہ قید کی سزائیں سنائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامی حراست کی یہ سزائیں 13 مارچ کے بعد دی گئی ہیں۔ کلب کے مندوب محمود الحلبی نے بتایا کہ انتظامی حراست کی سزا پانے والوں میں 12 ایسے فلسطینی شامل ہیں جو پہلے سے صہیونی زندانوں میں پابند سلاسل ہیں۔ انتظامی حراست کی سزا پانے والوں میں محمد محمود عوض، محمد عبد اللہ حرب، جنین، عبد الفتاح مال جرب، عیس طلب السنادی، محمد سامی غنیم، فاد محمد القب، عبد الرحیم بسام حماد، فارس حسنی شواہن، زریا عبد الحمید عویدات، نور محمد زین، عبد الرحمن حسین قواسمی،سیف مصطف ناصر، مصطف فہمی بلوط، میر نزار خواجا، لی ساطی شقر، طولرم،ادی منذر رداد، غسان عیس ہرماس،حسین محمد مرداوی، علی عبد الرحمن جرادات، یاد عمر حمد، محمد رم طقاطق، بیت لحم، صلاح الدین یمن دویات، شادی محمد جرار، جنین، حمود ریم عیاد، خالد براہیم ذویب، سن محمد وردیان، محمد حسین شلش، سامی محمد بیراوی، نادر عبد الحلیم النتش اور شادی محمد شولی شامل ہیں۔

اسرائیلی فوجی کیمپ سے اسلحہ چوری کرنے کا لزام میں، دو فلسطینی گرفتار

جنین ۔23مارچ(فکروخبر/ذرائع)سرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین سے تعلق رکھنے والے دو فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن پر ایک فوجی کیمپ سے اسلحہ چوری کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی شہریوں نے ایک اسرائیلی کیمپ میں گھس کر آتشیں اسلحہ جس میں بم اوردیگر عسکری سامان شامل ہے چوری کیا تھااور حال ہی میں اسرائیلی ا فواج نے طوباس سے دو فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے۔ انہوں نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی کیمپ سے اسلحہ چوری کرچکے ہیں۔اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے شاباک نے دو روز قبل تیاسیر کے مقام پر چھاپہ مار کر آ پی جی، کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ چوری کرنے میں ملوث رہے ہیں۔حراست میں لیے گئے فلسطینیوں میں 30 سالہ جمعہ عامر اور 58 سالہ غانم ابو محسن اور 19 سالہ یزید ابو علی کے ناموں سے لی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی پامالی میں امریکا اسرائیل کی پشت پناہی کررہا ہے،حماس

غزہ ۔23مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطین میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا فلسطین میں قابض اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے معاملے کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بحث کیلئے پیش کرنے کا اعلان صہیونی ریاست کی طرف داری کا واضح ثبوت ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیاں فلسطینی نہیں بلکہ وہ غاصب کررہے ہیں جن کا فلسطین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فوزی برھوم نے کہا کہ امریکی موقف صہیونی ریاست کو فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال، انسانی حقوق کی پامالیوں اور جنگی جرائم کے تسلسل کی کھلی چھٹی دینے کے مترادف ہے۔حماس کے ترجمان نے کہا کہ امریکا کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے معاملے کو انسانی حقوق کونسل میں پیش کرنے کے امریکی اعلان کے خلاف فلسطینی قوم کو آپس میں متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا مل کر فلسطینیوں کے حقوق غصب کرنا چاہتے ہیں۔ امریکا فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں اسرائیلی ریاست کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

اسلامی جہاد کے رہنما پر قاتلانہ حملے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ،اسلامی جہاد

رمضان شلح پر قاتلانہ حملے کی خبریں صہیونی دشمن اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنٹوں کی پھیلائی افواہیں ہیں

غزہ ۔23مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسلامی جہاد نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے جماعت کے سیکرٹری جنرل رمضان شلح پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلامی جہاد کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت کے سیکرٹری جنرل رمضان شلح پر قاتلانہ حملے کی کسی خبر کا علم نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے۔اسلامی جہاد کے شعبہ اطلاعات ونشریات کے ذمہ دار داد شہاب کا کہنا ہے کہ رمضان شلح پر قاتلانہ حملے کی خبریں صہیونی دشمن اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنٹوں کی پھیلائی افواہیں ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں۔خیال رہے کہ بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق خبر دی تھی کہ اسلامی جہاد کے رہ نما رمضان شلح پر بیروت دورے کے دوران قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا تاہم اس حملے میں وہ محفوظ رہے تھے۔

غرب اردن میں عارضی سکون کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے ،اسرائیل

مقبوضہ بیت المقدس ۔23مارچ(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کے داخلی سلامتی کے ذمہ دار اداریشاباک نے تسلیم کیا ہے کہ فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہروں میں حالیہ امن عارضی ہے۔ مگر یہ عارضی امن وسکون کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہوتا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے داخلی سلامتی کے ذمہ دار ادارے شاباک کے چیئرمین نداف ارگمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ غرب اردن اور 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں موجودہ امن عارضی اور دھوکا ہے اسرائیلی پارلیمنٹ کی خارجہ و دفاع سے متعلق امورکمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں حالیہ امن وسکون دھوکہ اور گمراہ کن ہے۔ حماس اور عالمی دہشت گرد غرب اردن اور شمالی فلسطینی علاقوں میں فدائی حملوں کیلئے مسلسل منصوبہ بندی کررہے ہیں۔مسٹر ارگمان کا کہنا ہے کہ غرب اردن میں موجودہ امن شاباک کی طرف سے نئے اسالیب کے استعمال کا نتیجہ ہے۔ شاباک نے فلسطینی علاقوں میں انسداد مزاحمت کے لیے موثر مہم چلائی جس کے نتیجے میں فلسطینی علاقوں میں کسی حد تک امن قائم ہوا ہے تاہم یہ امن عارضی ہے۔شاباک کے چیف کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی کے دوران کئی اہم چیزیں سیکھیں۔ فلسطینیوں کی مزاحمت کے خلاف جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معلومات کا بھرپور طریقے سے استعمال کررہے ہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس چیف کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے گذشتہ کچھ عرصے کے دوران 400 مشتبہ فلسطینی مزاحمتی حملہ آورگرفتار کئے ہیں۔

اسرائیلی جیل میں دو فلسطینی قیدیوں نے انتظامی حراست کیخلاف بھوک ہڑتال شروع کردی

رام اللہ ۔23مارچ(فکروخبر/ذرائع)فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبہ شہر الخلیل سے تعلق رکھنے والے دو فلسطینی شہریوں نے اسرائیلی زندانوں میں بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بطور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کردی ہے ۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے اذنا قصبے سے تعلق رکھنے والے اسیر اکرم فسیسی نے اپنی انتظامی حراست میں چھ ماہ کی توسیع کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔اسیر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ فسیسی نے بغیر کسی الزام کے جیل میں ڈالنے اور چھ ماہ کی دوبارہ قید کی سزا سنانے کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسیر اکرم فسیسی رام اللہ کے قریب عوفر نامی فوجی جیل میں پابند سلاسل ہے۔خیال رہے کہ اسیر اکرم فسیسی کو 19 ستمبر 2016 کو حراست میں لیا تھا۔ اس کا تعلق فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد سے ہے۔الخلیل شہر کے جنوبی قصبے بیت عوا سے تعلق رکھنے والے اسیر رافت شلش گذشتہ چھ روز سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ گذشتہ 15 ماہ سے انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل ہے۔