Live Madinah

makkah1

dushwari

اسدی کارندے نے اپنی بکواس کو قرآن بنا ڈالا(مزید اہم ترین خبریں)

قرآن ہمارے تابع اور میری باتیں سورہ فاتحہ ہیں: بشارالجعفری

دبئی ۔02فروری(فکروخبر/ذرائع )شام میں اپنی قوم پر ظلم کے پہاڑ توڑنے میں بدنام بشارالاسد اور اس کے کارندوں پر قرآن پاک اور اسلامی تعلیمات کی توہین کے الزامات آج ایک حقیقت بن کر سامنے آئے ہیں۔ جنیوا میں ائے شامی حکومت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ بشارالجعفری نے اپوزیشن سے مذاکرات کے بارے میں اپنی حکومت کےموقف کو [ناعوذ باللہ] قرآن پاک کی سورہ فاتحہ قرار دے ڈالا۔العربیہ کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے شام اسٹیفن ڈی میسٹورا سے ملاقات سے چندے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بشارالجعفری نے کہا کہ ہم قرآن کو نہیں بلکہ قران ہمیں فالو کر رہا ہے۔

اس کے بعد انہوں نے کتاب اللہ کی کچھ اس انداز میں توہین کی کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بشارالجعفری نے کہا کہ مذاکرات وغیرہ کچھ نہیں ہو رہے ہیں، ہم یہاں صرف غیر مشروط بات چیت کی تیاری کے لیے آئے ہیں۔ وہ بات چیت نہ صرف غیر مشروط ہوگی بلکہ شامیوں کی شامیوں کے ساتھ ہو گی جس میں کوئی بیرونی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔ نیز بات چیت بالواسطہ ہو گی۔ براہ راست کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ پھر انہوں نے اپنے یہ الفاظ دہرائے کہ میری باتوں کو اچھی طرح ذہن نشین کر لو کیونکہ یہ قرآن کریم کی سورۃ الفاتحہ ہے اور فاتحہ القرآن ہمارے تابع ہے۔ بات وہیں ختم نہ ہوئی بلکہ بشارالجعفری نے اپنی بکواس  کو سورہ فاتحہ قرار دینے کے بعدصدق اللہ العظیم کے الفاظ بھی پڑے اور یہ تاثر دینے کی مذموم کوشش کی گویا وہ عام گفتگو نہیں بلکہ قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا۔سوشل میڈیا پر بشارالجعفری کے اس اقدام پر سخت تنقید جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بشارالاسد اور اس کے کارندوں نے نہ صرف ملک وقوم کو تباہ وبرباد کر ڈالا بلکہ پورڈھٹائی کے ساتھ نیا قرآن اور نیا اسلام بھی گھڑنے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے شام کو ایران اور روس کے ہاتھ گروی کر رکھ دیا ہے۔ اب قرآن مجید کی نئی فاتحہ بھی بنا ڈالی ہے۔


مراکش کی خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام سمیت دیرینہ مطالبات کی حمایت کی یقین دہانی

رباط۔02فروری(فکروخبر/ذرائع )افریقی عرب ملک مراکش نے خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام سمیت فلسطینی قوم کے تمام جائز اور دیرینہ مطالبات کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ۔فلسطینی میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی ملکوں میں فلسطینیوں کی نمائندہ گروپ یورپ میں فلسطین کانفرنس کے ایک نمائندہ وفد نے گذشتہ روز رباط میں مراکش کے وزیراعظم عبدالالہ بن کیران سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں فلسطینی مندوبین نے فلسطین کی موجودہ صورت حال کے بارے میں مراکشی وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پروزیراعظم بن کیران نے فلسطینیوں کے تمام جائز اور دیرینہ مطالبات کی حمایت کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ رباط فلسطینیوں کے حقوق کے لیے دنیا میں ہرمقام پرہونے والی مساعی کی حمایت جاری رکھے گا۔ملاقات کے بعد یورپ میں فلسطینی کانفرنس کے چیئرمین ماجد الزیر نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں مراکشی وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے وفد نے فلسطین کی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں مراکشی قیادت کو تفصیلی بریفنگ دی ۔ماجدا لزیر نے بتایا کہ مراکش کے وزیراعظم، بادشاہ شاہ محمد ششم اور وہاں کے عوام میں فلسطینی قوم کے حوالے سے گہرے ہمدردی کے جذبات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی قوم بھی مراکش کے عوام اور وہاں کے حکمرانوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ماجد الزیر نے بتایا کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم بن کیران نے فلسطینیوں کے تمام حقوق کی حمایت کے عزم یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ان کا ملک فلسطینی قوم کو تنہا نہیں چھوڑے گا


اسرائیلی عدالت کا فلسطینی خاتون کو بیٹے سمیت گھر میں نظربند کرنے کا حکم 

فیصلے کے بعد بچے کے اسکول جانے یا علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے پربھی پابندی عائد 

مقبوضہ بیت المقدس ۔02فروری(فکروخبر/ذرائع )اسرائیل کی ایک مقامی فوجی عدالت کے حکم پر بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے ماں بیٹے کو 7مارچ تک گھر میں جبری طورپر نظر بند کردیا گیا جس کے نتیجے میں اہل خانہ بھی سخت پریشان ہیں۔ صہیونی عدالت کے فیصلے کے بعد بچے کے اسکول جانے یا علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے پربھی پابندی عائد کی گئی ہے۔فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع نے بتایاکہ ولدہ سمیت گھرمیں جبری نظری بندی کے شکار بچے کے والد نے ان سے ملاقات میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ان کی اہلیہ اور بچے کو گھر پرنظر بند کردیا ہے۔النجیب کے والد نے بتایا کہ ایک ماہ قبل قابض فوجیوں نے اس کے بیٹے کو حراست میں لیا تھا۔ تاہم بعد ازاں سات مارچ تک اس کی گھر پرنظر بندی کی شرط اور 10 ہزار شیکل جرمانے کی رقم ادا کرنے کے بعد بچے کو جیل سے گھر منتقل کردیا گیا تھا۔ستم رسیدہ فلسطینی شہری نے عیسیٰ قراقع نے کہا ہے کہ قابض فوجیوں نے ان کے گھر کا آرم و سکون برباد کردیا ہے۔ اس کا بیٹا اور بیوی دونوں گھر کے اندر بند ہیں، نہ تو بچہ اسکول جاسکتا ہے اور نہ ہی وہ دونوں اپنے طبی معائنے کے لیے اسپتال جاسکتے ہیں۔عیسیٰ قراقع نے میڈیا کو بتایا کہ اس وقت بیت المقدس میں 2015 میں 60 بچوں کو گھروں میں نظر بند رکھنے کی سزائیں دی گئیں جب کہ پچھلے تین سال میں بیت المقدس کے 300 بچے نظر بندی کی سزا بھگت چکے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی ماں اور اس کے بیٹے کی گھرپرجبری نظربندی کو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی نظربندی کی سزا ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔



صیہونی فوج کی کارروائیاں ٗ گزشتہ ماہ پانچ سو سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا 

گرفتار کئے جانے والوں میں 140 بچے، 3 خواتین، 

رام اللہ۔02فروری(فکروخبر/ذرائع )فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چار ماہ سے ملک میں صہیونی مظالم کے رد عمل میں جاری فلسطینی تحریک کچلنے کی سازش کے تحت بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے ماہ جنوری میں صہیونی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13 خواتین سمیت 500 کے قریب شہریوں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اسیران اسٹڈی سینٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں اسرائیلی فوج نے 490 فلسطینی شہریوں کو جیلوں میں ڈالا۔رپورٹ کے مطابق اسیراب میں 140 بچے، 3 خواتین، ایک سابق فلسطینی وزیر اور دو فلسطینی رکن پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔صہیونی فوج کی کارروائیوں میں جہاں بڑی تعداد میں مغربی کنارے کے شہریوں کو حراست میں لیا گیا وہیں بیت المقدس اور غزہ کی پٹی سے بھی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ غزہ کی پٹی سے 10 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا جن میں پانچ ماہی گیر شامل ہیں۔جنوری میں صہیونی فوج کے مظالم کے خلاف اسیر صحافی محمد القیق نے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھی اور اب اس کی حالت نہایت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقرنے بتایا کہ جنوری میں صہیونی فوجیوں نے دو مزید فلسطینی ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لیا جس کے بعد صہیونی دشمن کی جیلوں میں قید فلسطینی ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 7ہوگئی ہے۔جنوری میں مجموعی طورپر صہیونی عدالتوں سے فلسطینی قیدیوں کو 117انتظامی قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ان میں 54 نئے فلسطینیوں کو انتظامی قید کی سزائیں سنائی گئیں جب کہ 63 قیدیوں کی سزا میں تجدید کی گئی۔


مغربی کنارا ٗ فلسطینی نوجوان کی فائرنگ سے تین صیہونی فوجی زخمی ٗ دوکی حالت تشویشناک

رام اللہ۔02فروری(فکروخبر/ذرائع ) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ کے شمالی علاقے البیرہ میں ایک فلسطینی نوجوان نے فائرنگ کرکے تین یہودی فوجیوں کو زخمی کردیا۔ زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے دو کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔ اسرائیلی فوج کی جوابی کارروائی میں فلسطینی نوجوان شہید ہوگیا۔اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 7 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی نوجوان نے یہودی فوجیوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی فوجیوں میں سے دو کی حالت تشویشان بیان کی جاتی ہے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق گاڑی پر سوار ایک فلسطینی تیز رفتاری کے ساتھ البیرہ میں قائم ایک چوکی پرپہنچا جہاں اس نے اچانک فوجیوں پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کی زد میں آ کرتین اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت خطرناک بیان کی جاتی ہے۔فوجیوں کی جوابی کارروائی میں فلسطینی نوجوان شہید ہوگیا۔ فلسطینی محکمہ صحت نے شہید ہونے والے فلسطینی نوجوان کی شناخت امجد سکری کے نام سے کی ہے جس کی عمر 35 سال بیان کی جاتی ہے


قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والی خواتین پر حوثیوں کا تشدد،ننگی گالیاں،احتجاجی کتبے چین کر پھاڑ ڈالے

دمشق02فروری (فکروخبر/ذرائع ) پیاروں کی رہائی کے لیے احتجاجی جلوس نکالنے والی خواتین اور بچوں پر وحشیانہ تشدد کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سوموار کو دارالحکومت صنعا میں خواتین نے ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ انہوں نے صنعا کی ایک جیل میں قید سیکڑوں اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے شدید نعرے بازی کی۔مشرقی صنعا میں قائم ھبرہ ریزرو جیل کے سامنے جمع خواتین اور بچوں نے اپنے ہاتھوں میں اپنے جیل میں پابند سلاسل اپنے پیاروں کی تصاویر اور ان کی رہائی کے مطالبات پر مبنی پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے اپنے عزیزوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والی خواتین پر یلغار کر دی، ان کے ہاتھوں میں موجود کتبے ان سے چھین کر پھاڑ ڈالے۔ خواتین کو گالیاں دینے کے ساتھ احتجاج جاری رکھنے پر گرفتار کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔خیال رہے کہ ھبرہ ریزرو نامی جیل میں 450 یمنی شہریوں کو قید کیا گیا ہے۔ محروسین پر دوران حراست ہولناک جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سامنے آنیوالے تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے قبضے میں اب بھی 10ہزار افراد قید ہیں۔ ان میں سماجی اور سیاسی کارکن، صحافی اور دیگر عام شہری شام ہیں ۔رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے زیرانتظام کئی عقوبت خانے قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں صعدہ شہر میں باغیوں نے 90 جیلیں بنا رکھی ہیں جب کہ حجہ اور عمران شہروں میں 20 سے زائد قید خانے ہیں۔


شام میں محصور3ہزار سے زائد ترکمانی ہجرت کر کے ترکی پہنچ گئے 

مہاجرین میں زیادہ تر شیرخوار اور چھوٹے بچے، خواتین اور بوڑھے شامل ہیں ،فاد کا دعویٰ

استنبول ۔02فروری (فکروخبر/ذرائع )شام میں محصور3ہزار ترکمانی ہجرت کر کے ترکی پہنچ گئے ۔ترکی میں ہنگامی حالات اور آفات سے متعلق ایجنسی (فاد)نے بتایا ہے کہ شام کے صوبے اللاذقیہ کے شمال میں بشار الاسد کی فوجی کی پیش قدمی کے بعد گزشتہ تین روز میں 3000 سے زیادہ ترکمانی اور عرب باشندے سرحد پار کر کے ترکی پہنچے ہیں۔ایک مقامی ترکمانی ذمہ دار کا کہنا ہے کہ شامی گاں یمادی میں قیام پذیر زیادہ تر ترکمانیوں کے انخلا کے بعد ہزاروں دیگر پناہ گزینوں کے بھی پہنچنے کی توقع ہے۔ شامی حکومت کی فوج شدید روسی فضائی بمباری کی سپورٹ میں مذکورہ گاں کے قریب پہنچی تھی۔فاد ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "یمادی کیمپ کے حملوں کی زد میں آ جانے کے بعد ہمارے ملک میں داخل ہونے والے پہلے گروپ میں 731 سے زیادہ مہاجرین شامل تھے۔ ان میں زیادہ تر شیرخوار اور چھوٹے بچے، خواتین اور بوڑھے ہیں"۔اللاذقیہ صوبے میں شامی اپوزیشن کے جنگجوں کے زیرانتظام علاقے ربیعہ پر 24 جنوری کو بشار الاسد کی فوج کے کنٹرول نے مقامی آبادی کا انخلا بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔دوسری جانب دوغان ایجنسی نے بتایا ہے کہ ترکی نے 10 ہزار ترکمانیوں کے لیے خصوصی کیمپ کی تعمیر مکمل کر لی ہے۔ ان میں ہاتے صوبے کے سرحدی علاقے یائے لاداغی میں آنے والے ترکمان بھی شامل ہیں۔شام میں ترک زبان بولنے والی اس اقلیت (ترکمان) کے دیہاتوں پر، بشار الاسد کی حکومت کی معاونت کے سلسلے میں روسی طیاروں کی بمباری نے انقرہ حکومت کا غصہ بھڑکا دیا۔ترکمانی باشندے شام میں کئی دہائیوں سے اپنی ثقافت کے تحفظ اور بشار الاسد حکومت کی پالیسیوں کی مزاحمت کی کوشش کر رہے ہیں، جس کو شامی حکومت یہ ہی خیال کرتی ہے کہ وہ ترکی کے مفاد میں کام کر رہے ہیں۔


شام اور عراق میں داعش کا قلع قمع کرنے میں وقت درکار ہے ، امریکی فوجی کمانڈر

واشنگٹن/بغداد ۔02فروری (فکروخبر/ذرائع )امریکی قیادت میں عراق اور شام میں داعش کے دہشت گرد گروہ کا قلع قمع کرنے کے سلسلے میں اضافی امریکی فوج کی ضرورت پڑے گی، لیکن سرزمین پر تعینات اعلی کمانڈر اِس بات کے خواہاں ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو اِن کی تعیناتی خطے کی مقامی افواج کے ساتھ ہونی چاہیئے۔لیفٹیننٹ جنرل ژاں مارک فارلینڈ نیصحافیوں کو بتایا کہ ایسے میں جب ہم عراق اور شام میں کارروائی کو وسعت دے رہے ہیں، اس بات کا قوی امکان ہے کہ انھیں اضافی استعداد اور صلاحیت کی فراہمی کے لیے اضافی افواج کی ضرورت پیش آئے گی۔بغداد سے بریفنگ دیتے ہوئے، آپریشن انہیرنٹ رزالو کے کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس نے وضاحت نہیں کی، جب ان سے پوچھا گیا آیا کس طرح کی اضافی صلاحیتیں یا افواج کی ضرورت ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی یا اتحادی افواج کو از سر زمین تعیناتی ان کی اولین ترجیح میں شامل نہیں۔میک فارلینڈ نے کہا کہ یقینی طور پر جو بھی ہمارے بس میں ہے، وہ کارروائی کر گزریں گے، جس کے لیے سر زمین پر موجود مقامی افواج کا سہارا لیا جائے گا۔ دشمن کو شکست دینے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔ اگست 2014 سے جب داعش کے خلاف بمباری شروع ہوئی، امریکی قیادت والی اتحادی افواج نے عراق و شام میں اب تک 10000سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔امریکی اہل کاروں نے کہا ہے کہ فضائی کارروائی کے نتیجے میں داعش کے لڑاکوں کی پیش قدمی روک دی گئی ہے، جو کسی مرحلے پر بغداد پر حملہ کرنے والے تھے۔ لیکن، اب اندازا 40 فی صد علاقے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جس پر وہ عراق میں قابض تھے۔ساتھ ہی امریکی اور اتحادی افواج نے دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے تقریبا 20000 عراقیوں کو تربیت فراہم کی ہے، جس میں سپاہی، پولیس اہل کار اور سنی قبائل شامل ہیں۔اس کے علاوہ، اس کارروائی میں چند عراقی بریگیڈ بھی شامل تھے، جنھیں گذشتہ برس رمادی میں شریک کیا گیا تھا، جو صوبہ انبار کا دارلحکومت ہے۔تاہم مقامی بری افواج کو تقویت دینے کی کوششوں میں پیچیدگیاں درپیش آئی ہیں۔رمادی کو واگزار کرانے کے باوجود، آپریشن انہیرنٹ رزالو سے وابستہ اہل کاروں کے اندازے کے مطابق، انھیں آٹھ سے 10 عراقی بریگیڈ از سر نو تشکیل دینے ہوں گے، جن میں سے ہر ایک میں 2000سے 3000فوجی شامل ہوں گے، تاکہ داعش سے اہم حکمت عملی والے شمالی شہر، موصل کا کنٹرول خالی کرایا جا سکے۔ اور یہ کہ دو بریگیڈ جنھوں نے رمادی کی بازیابی میں کردار ادا کیا انھیں مزید تربیت درکار ہوگی، اِس سے پہلے کہ انھیں مزید کارروائیوں کے لیے تیار کیا جائے۔امریکہ کے لیے شام کی زمین پر پارٹنر تلاش کرنا بہت ہی مشکل کام رہا ہے۔باوجود اس بات کے کہ شام میں تربیت اور اسلحے کی فراہمی کی مد میں 50 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی گئی تھی، لیکن شام کے 5400 متعدل لڑاکوں کی ابتدائی فورس کو تیار کرنے کے ہدف پورا نہ کرنے کے نتیجے میں، منصوبے کو ترک کیا گیا۔


تین اسرائیلیوں پر عیسائی مخالف نعرے لکھنے کا مقدمہ

مقبوضہ بیت المقدس۔02فروری(فکروخبر/ذرائع )سرائیلی وزارت انصاف نے کہاہے کہ اسرائیلی پراسیکیوٹرز تین یہودی نوجوانوں پر بیت المقدس میں مسیحیوں کے سب سے مقدس مقامات پر توہین آمیز نعرے لکھنے کے الزام کے تحت مقدمات چلائے جارہے ہیں،ان میں سے دو افراد پر 16 جنوری کو ویا دولوروسا پر تعصبانہ نعرے لکھنے کا الزام ہے۔ ویا دولوروسا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جگہ ہے جہاں پر حضرت عیسیٰ کو صلیب پر لٹکانے کے لئے لایا گیا۔ اس کارروائی کے بعد باقی دو افراد نے ایک تیسرے نوجوان سے مل کر دیر رقاد کی دیوار پر نعرے لکھا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں روایات کے مطابق حضرت مریم نے وفات پائی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزارت انصاف نے کہاکہ عبرانی زبان میں لکھے جانے والے ان نعروں میں "عیسائی جہنم میں جائیں" اور "اسرائیل کے کافر دشمن عیسائیوں کو موت آئے" جیسے نعرے درج تھے۔15 اور 16 افراد کے ان نوجوانوں 20 جنوری کو حراست میں لیا اور ان پر نابالغوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ بیان مِں مزید بتایا گیا کہ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ مسیحیوں کے عقیدے اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ویٹیکن کی جانب سے بیت المقدس میں مسیحیوں کے مقدس مقامات کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کو قوم پرست اور قدامت پسند یہودیوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔