Print this page

شام : مزار سیدہ زینب کے نزدیک بم دھماکے ،60 جاں بحق(مزید اہم ترین خبریں)

داعش نے بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی،مہلوکین میں 25 شیعہ جنگجو شامل

دمشق ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع)شام کے دارالحکومت دمشق میں نواسیِ رسول حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کے نزدیک اتوار کے روز دو خودکش بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں کم سے کم ساٹھ افراد جاں بحق اور ایک سو بیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ بارود ایک کار میں نصب کیا گیا تھا اور حملہ آور نے پہلے اس کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

اس کے بعد دوسرے خودکش بمبار نے دھماکا کیا ہے۔ مرنے والوں میں پچیس شیعہ جنگجو بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار پر زائرین کا ہر وقت رش لگا رہتا ہے۔داعش نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''خلافت کے دو فوجیوں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کے نزدیک یہ فدائی کارروائی کی ہے۔اس کے نتیجے میں قریبا پچاس افراد مارے گئے ہیں اور کم سے کم ایک سو بیس زخمی ہوئے ہیں''۔قبل ازیں شام کے سرکاری میڈیا نے ان بم حملوں میں پینتالیس افراد کی ہلاکت اور ایک سو دس کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکوں سے اڑایا تھا۔دھماکوں کے نتیجے میں نزدیک واقع عمارتوں کو آگ لگ گئی اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن اخباریہ نے ان کی فوٹیج بھی نشر کی ہے۔اخباریہ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ پہلے بارود سے بھری کار سے دھماکا کیا گیا تھا اور اس کے بعد وہاں زخمیوں کو اٹھانے کے لیے آنے والے لوگوں کے درمیان دو خودکش بمباروں نے دھماکے کیے ہیں۔یہ تباہ کن بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان امن مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔شامی وزیراعظم وائل الحلقی نے واقعے کے ردعمل میں کہا ہے کہ دہشت گرد گروپوں نے اپنا مورال بلند کرنے کے لیے یہ بم دھماکے کیے ہیں کیونکہ انھیں فوج کے مقابلے میں میدان جنگ میں پے درپے شکستوں کا سامنا ہے۔


عراقی فوج نے رمادی کے مضافاتی علاقے السجاریہ علاقے کو آزاد کرا لیا

بغداد ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) عراق کی فوج نے صوبے الانبار کے صدر مقام رمادی کے مشرق میں واقع السجاریہ علاقے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق عراق کی فوج صوبہ الانبار میں اپنی پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اتوار کے دن دو راستوں سے السجاریہ علاقے میں داخل ہوئی اور اس نے اس علاقے کے بجلی گھر اور الکرامہ پولیس اسٹیشن کو دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا۔ عراق کی فوج نے صوبہ الانبار میں دہشت گرد گروہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے مقصد سے عراقی سیکیورٹی فورسز، فضائیہ اور قبائل کی مدد سے وسیع آپریشن شروع کر رکھا ہے۔عراقی فوجیوں کو السجاریہ کے علاقے میں آپریشن کے دوران اپنے ملک کی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل تھی۔ عراقی حکومت جون سنہ دو ہزار چودہ سے دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔


حماس کا اسرائیل سے قیدیوں کے تبادلے کا عندیہ

غزہ ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں 2014ء کیاسرائیل کے ساتھ جنگ میں مردہ قرار دئیے جانے والے مغوی اسرائیلی فوجی کو رہا کرسکتی ہے۔حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام_بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے فلسطینی اسیران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "مزاحمت کاروں کے ہاتھ میں ایسے پتے ہیں جن سے دشمن آپ کو رہا کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔"ماضی میں بھی اسرائیلی فوجی زندہ یا مردہ حالت میں سودے بازی کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔غزہ میں ہونے والی 2014ء کی جنگ میں ہلاک قرار دئیے جانے والے دو اسرائیلی فوجیوں اورون شاؤول اور ھدار گولدن کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ حماس کی حراست میں ہیں۔ مگر حماس نے ابھی تک ان کی حالت کا اعلان نہیں کیا ہے۔حماس کے غزہ میں سربراہ اسماعیل ہانیہ نے اعلان کیا تھا کہ القسام بریگیڈز دشمن کے خلاف مستقبل کی لڑائی کے لئے تیاریاں مکمل کررہی ہے جن میں اسرائیل کی سرحد کے ساتھ سرنگوں کی تعمیر شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سرنگیں اسرائیل کے خلاف ایک 'سٹریٹیجک' ہتھیار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حماس کے جنگجو ٹریننگ میں مصروف ہیں اور جنگ اور مزاحمت کے تمام ذرائع کو اکٹھا کررہے ہیں


اسرائیل نے رملہ میں بیرونی افراد کے داخلے پر پابندی عائد کردی

مقبوضہ بیت المقدس ۔ یکم فروری (فکروخبر/ذرائع) اسرائیل نے کل ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد مغربی کنارے کے شہر رملہ میں بیرونی افراد کے داخلے پر پابندی عائد کردی۔فوج کی ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اتوار کے روز رملہ کے علاقے بیت ایل میں ہونے والے فائرنگ واقعے میں تین اسرائیلی اہلکار زخمی ہوئے جس کے بعد علاقے میں غیر مقامی افراد کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد سخت سیکورٹی اقدامات کیے گئے ہیں اور باہر سے آنے والے افراد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے اس کے علاوہ غیر ملکی افراد کی بھی علاقے میں داخلے پر پابندی ہوگی۔


فلسطینی صحافی نے صہیونی فوج کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتے کا امکان مسترد کردیا 

رام اللہ ۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی جیل میں طویل بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی محمد عقیق نے صہیونی دشمن کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہائی یا شہادت تک بھوک ہڑتال جاری رکھوں گا ٗ بھوک ہڑتال ختم کرنے کیلئے پہلی اور آخری شرط رام اللہ ہسپتال میں منتقلی ہے ۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق بھوک ہڑتالی فلسطینی قیدی کے وکیل اشرف ابو سنینہ نے بتایا کہ گزشتہ روز انہوں نے اپنے موکل سے العفولہ اسپتال میں ملاقات کی۔ محمد عقیق بھوک ہڑتال کے سبب بات چیت نہیں کرسکتے ہیں اس کی 50فی صد بات ہی سمجھ میں آسکتی ہے آنکھوں میں بھی شدید سوزش ہے۔ ملاقات کے دوران محمد عقیق نے کہا کہ وہ رہائی یا شہادت تک بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے، بھوک ہڑتال پر دشمن سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ابو سنینہ نے بتایا کہ قوت گویائی کے ساتھ ساتھ القیق کی قوت سماعت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور صرف اونچی آواز ہی سن سکتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے زبان سے جواب دینے کے بجائے اپنے کانپتے ہاتھوں سے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر لکھا کہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے میری پہلی اور آخری شرط یہ ہے کہ مجھے العفولہ اسپتال سے ایمبولینس کے ذریعے رام اللہ کے اسپتال میں پہنچایا جائے۔ اس وقت تک میں بھوک ہڑتال ختم نہیں کروں گا۔اسرائیلی جیلوں میں 19فلسطینی صحافی پابند سلاسل ہیں ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق انہیں صہیونی فوج نے پچھلے سال نومبر میں حراست میں لیا تھا دوران حراست انہیں وحشیانہ تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں انہیں انتظامی قید میں ڈال دیا گیا تھا۔


اسرائیلی فوج کا ایک اور کارنامہ ٗ وقف املاک کے ڈائریکٹر کو بیت المقدس سے بے دخل کردیا

ّمقبوضہ بیت المقدس۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع) اسرائیلی فوج کا ایک اور کارنامہ ٗ وقف املاک کے ڈائریکٹر کو بیت المقدس سے بے دخل کردیا ٗ صیہونی فوج کے اس اقدام پر فلسطینی عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وقف املاک کے ڈائریکٹر الشیخ ناجح بکیرات نے کہا ہے کہ انہیں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بیت المقدس سے چھ ماہ کے لیے نکل جانے کا نوٹس دیا گیا ہے۔ انہوں نے بیت المقدس سے بے دخلی کے صہیونی فیصلے کو ظالمانہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔الشیخ بکیرت کا کہنا تھا کہ وہ بیت المقدس میں چار ہزار سے زاید اوقف املاک کے منتظم ہیں۔ ان میں سے بیشتر وقف املاک مسجد اقصی کے گردو پیش میں واقع ہیں۔ مجھے بیت المقدس سے بغیر کسی وجہ کے بے دخل کرنا قومی املاک کوغصب کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔الشیخ ناجح بکیرات نے کہا کہ بے دخلی کا صہیونی فیصلہ نہ صرف میرے خلاف ہے بلکہ یہ بیت المقدس کے تمام باشندوں کے خلاف ہے۔ میرے ساتھ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے قبل بھی مجھے 13 مرتبہ بیتّ المقدس سے بے دخل کیا چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے الخلیل شہر میں القشلہ حراستی مرکز میں طلب کیا گیا ہے۔ وہاں پرصہیونی فوجیوں کی جانب سے مجھے بیت المقدس سے بے دخلی کا نوٹس دیا


’’ غزہ کی پٹی میں کھودی گئی سرنگیں دہشت ناک ہیں ‘‘، اقوام متحدہ کے بیان پر حماس کا اظہار مذمت 

غزہ۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع) فلسطین میں اسرائیلی فوج کے خلاف برسرپیکار اسلامی تنظیم حماس نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی میں دفاع کے لیے کھودی گئی سرنگوں کودہشت ناک قراردیا تھا۔فلسطینی اطلاعات کے مطابق حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بان کی مون کا فلسطینی مظلوم قوم کے دفاع کے طریقہ کر پرتنقید غاصب صہیونی دشمن کی طرف داری اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بان کی مون فلسطینی قوم کو ہدایات دینے کے بجائے صہیونی دشمن کو نکیل ڈالیں۔ غزہ کی پٹی میں مجاھدین نے سرنگیں قومی دفاع کے لیے کھودی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ فلسطینی قوم کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور بان کی مون سمیت کوئی بھی فلسطینیوں کو ان کے اس حق سے محروم نہیں رکھ سکتا۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کی جانب سے کھودی گئی سرنگیں خوف زدہ کرتی ہیں۔ اسی طرح فلسطینی مزاحمت کاروں کی اسرائیل پر راکٹ باری بھی نہایت خطرناک ہے۔ سرنگوں کی کھدائی اور راکٹ حملے مکمل طورپر بند ہونے چاہئیں۔بان کی مون کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں سرنگوں کی کھدائی اور راکٹ حملے جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو، فلسطینی اتھارٹی اور عالمی برادری سے امدادی کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔خیال رہے کہ بان کی مون کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سرنگوں کی مذمت میں یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب پچھلے ہفتے غزہ میں ایک سرنگ کے حادثے میں سات مجاھدین شہید ہوگئے تھے۔


اسرائیلی جیل مجدمیں مزید دو فلسطینیوں قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی 

رام اللہ۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی جیل مجدمیں مزید دو فلسطینیوں قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فلسطین میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کلب برائے اسیران کی ایک خاتون وکیل نے مجد جیل میں بھوک ہڑتالی اسیران سے ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اکرم زہرھ نامی اردنی نژاد فلسطینی کی بھوک ہڑتال 24 جنوری سے جاری ہے۔ اس نے بھوک ہڑتال اس وقت شروع کی جب قابض فوج نے 15 جنوری 2016 کو سزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود رہائی سے انکار کردیا۔دوسرے بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیرابو الریش کا تعلق مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس سے ہے اور اس نے بھی 10 روز سے بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔خیال رہے کہ ابو الریش کوصہیونی فوجیوں نے جنوری 2015 کو دی گئی انتظامی حراست کی سزا میں مسلسل تیسری بار توسیع کی ہے


اسرائیلی عدالت نے فلسطینی طالب علم کو10ماہ قید اور ایک ہزار شیکل جرمانے کی سزا سنا دی

غزہ ۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی عدالت نے فلسطینی طالب علم کو10ماہ قید اور ایک ہزار شیکل جرمانے کی سزا سنا دی ۔ فلسطینی میڈیا رپورٹ کے مطابق قیدی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اشتیہ کو فلسطینی اتھارٹی کی جیل سے رہائی کے محض چند روز بعد اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا تھا، جہاں اس نے اپنی بلا جواز گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال بھی شروع کر رکھی ہے۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محمد یسار اشتیہ کو طلبا کی تنظیمی سرگرمیوں کی پاداش میں پہلے فلسطینی ملیشیا نے حراست میں لیا اور اب اسرائیلی فوج نے گرفتار کرکے اسے فوج داری عدالت سے دس ماہ قید اور ایک ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی ہے


نائجیریا میں بوکو حرام کا شہری آبادی پر دھاوا،فائرنگ اور خود کش حملے،65افراد ہلاک،100سے زائد زخمی

ابوجا۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع) نائجیریا کے شمال مشرقی شہر میڈوگوری کے نزدیک بوکو حرام کا سول آبادی کے قصبے پر دھاوا،65افراد ہلاک،100سے زائد زخمی،درجنوں گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا،مویشی بھی زندہ جل گئے ، بچ کر بھاگنے والے افراد کو تین خواتین خود کش حملہ آوروں نے روکنے کی کوشش کی اور اس دوران خود کو دھماکے سے اڑالیا ،درجن بھر لاشیں جل کر ناقابل شناخت ہو گئیں، پر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک تقریبا 17000 افراد ہلاک اور 20 لاکھ کے قریب بے گھر ہو چکے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نائجیریا کے شمال مشرقی شہر میڈوگوری کے نزدیک بوکو حرام کا سول آبادی کے قصبے پر دھاوا،65افراد ہلاک،100سے زائد زخمی،درجنوں گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔مقامی فوجی ترجمان فوجی ترجمان کرنل مصطفیٰ انکاس کے مطابق دو گاڑیوں اور کئی موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے قصبے میں داخل ہونے کے بعد رہائشیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور کئی گھروں کو آگ لگادی۔شمال مشرقی نائجیریا میں واقع دلوری نامی گاں سے آنے والی تصاویر میں تباہ شدہ گھروں اور مرے ہوئے مال مویشیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ شدت پسندوں نے ہفتے کی شب میڈوگوری سے پانچ کلومیٹر دور مشرق میں واقع قصبے دالوری پر حملہ کیا۔فوجی ترجمان نے بتایا کہ شدت پسندوں کی فائرنگ سے بچ کر بھاگنے والے قصبے کے رہائشیوں کو تین خواتین خود کش حملہ آوروں نے روکنے کی کوشش کی اور اس دوران خود کو دھماکے سے اڑالیا ۔امدادی اہلکاروں کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے لگ بھگ ایک درجن سے زائد افراد کی لاشیں اس بری طرح جھلس گئی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی۔ایک ہفتے کے دوران ریاست بورنو اور اس سے متصل علاقوں میں بوکو حرام کے جنگجووں کا یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔اس سے قبل جمعے کو بورنو سے متصل ریاست اداماوا میں ایک خود کش حملے میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ بدھ کو بورنو کے ایک گاوں چیبوک پر شدت پسندوں کے حملے میں 12 افراد مارے گئے تھے۔چیبوک وہی گاوں ہے جہاں سے بوکو حرام کے جنگجووں نے 2014 میں 200 سے زائد طالبات کو اغوا کرلیا تھا جن میں سے کئی کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔ بوکو حرام کی شدت پسند تحریک کا آغاز سات سال قبل بورنو سے ہی ہوا تھا جو ایک مسلم اکثریتی سرحدی ریاست ہے اور ماضی میں جنگجووں کا مضبوط گڑھ رہی ہے۔لیکن گزشتہ سال نائجیرین فوج کی جانب سے بوکو حرام کے خلاف کارروائیوں کے بعد سے جنگجووں نے ریاست کے مختلف دیہات پر حملے کرنے اور پھر فرار ہوجانے اور مختلف پرہجوم مقامات، بازاروں اور عبادت گاہوں پر خود کش حملے کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کرلی ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔حال ہی میں ملک کے صدر محمد بوہاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فوج اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کو پوری طرح سے شکست دینے کے بہت قریب ہے۔یاد رہے کہ نائجیریا میں بوکو حرام کی جانب سے کی جانے والی پر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک تقریبا 17000 افراد ہلاک اور 20 لاکھ کے قریب بے گھر ہو چکے ہیں۔



اسرائیل نے آزاد خیال یہودیوں کی عبادت کیلئے ویسٹرن وال میں الگ جگہ بنانے کی منظوری دے دی

یروشلم ۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع) اسرائیلی حکومت نے آزاد خیال یہودیوں کے لیے یروشلم میں ویسٹرن وال کے مقام پر عبادت کرنے کے لیے ایک نئی جگہ بنانے کی منظوری دے دی ہے جہاں مرد اور خواتین کو ایک ساتھ عبادت کرنے کی اجازت ہوگی۔وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ ایک تخلیقی حل ہے جو اسرائیل کے عوام کو متحد کریگا۔دوسری جانب تقلید پسندیہودیوں نے اس اقدام کی مخالفت میں ووٹ ڈالا تھا لیکن ان کا کہناہے کہ انھیں یہ فیصلہ قبول ہے۔اس سے قبل اب تک تقلید پسندیہودیوں کے عقائد کے مطابق ویسٹرن وال کے مقام پر مرد اور خواتین علیحدہ علیحدہ عبادت کرتے رہے ہیں۔اس فیصلے کا زیادہ تر اسرائیل اور شمالی امریکہ میں لبرل ریفارم ایند کنزر ویٹوو یہودی موومنٹس اور وومن آف دی وال نامی گروپ جسے کئی ماہ سے عبادت کرنے سے روکا گیا ہے نے خیر مقدم کیا ہے۔وومن آف دی وال کی ایک رکن انت ہافمین نے اسے ایک تاریخی دن قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم گذشتہ 27 سالوں سے لڑ رہے ہیں۔ ہم نے جب آغاز کیا تھا تو ہم غیر شادی شدہ تھے لیکن اب ہم دادیاں بن گئیں ہیں اور ہم نے یہ کیا ہے کہ دیوار کے ایک اور حصے کو الگ کر دیا ہے جو سب کے لیے کھلا ہوگا۔یہاں صبر، برابری اور دوستی ہوگی۔ایک یہودی عالم شمیول ربینووٹز کا کہنا ہے کہ انھیں اس فیصلے کی خبر سن کر راحت ہوئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ویسٹرن وال تمام عبادت کرنے والے مرد اور عورتوں کے لیے کھلی رہے گی۔ ہر دن ہر گھنٹے، یہودیوں کی روایات اور ورثے کے ساتھ وفاداری اور احترام کے ساتھ۔ جیسا کہ ویسٹرن وال ان سب کا واضح نشان ہے۔