Live Madinah

makkah1

dushwari

روسی جنگی طیارہ ایک بار پھر ترک حدود میں گھس گیا،(مزید اہم ترین خبریں )

ترکی کا روسی سفیر کو طلب کر کے احتجاج،سنگین نتائج کی دھمکی 

استنبول/ماسکو/برسلز ۔31جنوری(فکروخبر/ذرائع) ترکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے ایک بار اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے ، ترکی کا روس کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج ،روس کا ایس یو34طیارہ یو ٹی سی کے مطابق9بجکر 45منٹ پر ترک اور نیٹو اہلکاروں کے با ربار انتباہ کے باوجود فضائی حدود میں داخل ہوا جبکہ روس نے ترکی کے الزام کو بے بنیاد پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ترکی اور روس کے مابین ایک بار پھر کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب ترکی اور نیٹو نے بتایا کہ روس کے ایک لڑاکا طیارے نے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

روس نے ترکی کے الزام کو بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے، مسترد کیا ہے۔ترکی کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ روسی ایس یو 34 لڑاکا طیارہ جمعے کے روز صبح 11 بج کر 45 منٹ اور یو ٹی سی کے مطابق 0945پر ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوا، باوجود اِس بات کے کہ ترک اور نیٹو اہل کاروں نے متعدد بار انتباہ جاری کیا، کئی بار انگلش اور فرینچ زبان میں انھیں وارننگ دی گئی۔وزارت خارجہ کے مطابق انقرہ میں روسی سفیر کو طلب کر کے واقعے پر احتجاج کیا گیااور مذمت کی گئی ہے۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے روس کو متنبہ کیا کہ اگر خلاف ورزی جاری رہی تو اِس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ انھوں نے روسی کارروائی کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ انھوں نے استنبول کے ہوائی اڈے پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کی، جب وہ لاطینی امریکہ کے دورہ پر روانہ ہو رہے تھے۔ اگر ایسی خلاف ورزی جاری رہی تو روس کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ ایسے غیر ذمہ دارنہ اقدام سے نہ تو روسی فیڈریشن کو فائدہ ہوگا نہ ہی روس نیٹو تعلقات کو، اور نہ ہی خطے اور عالمی امن کو فائدہ ہوگا۔انھوں نے کہا کہ وہ کئی بار اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے ملاقات کا کہہ چکے ہیں لیکن انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ دوسری جانب ماسکو میں، روسی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ روسی فضائیہ کے طیاروں نے ایک بھی خلاف ورزی نہیں کی۔ادھر نیٹو کے سکریٹری جنرل، ژاں اسٹولٹنبرگ نے ترک فضائی حدود میں روسی مداخلت کو خطرناک رویہ قرار دیتے ہوئے، اتحاد کی جانب سے ترکی سے اظہارِ یکجہتی کا اعادہ کیا، جو اتحاد کا رکن ملک ہے۔اپنے بیان میں ، اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ میں روس پر زور دیتا ہوں کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیٹو کی فضائی حدود کی حرمت کا پورا خیال کرے۔ روس کو وہ تمام ضروری اقدام کرنے چاہئیں جن کی مدد سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسی خلاف ورزی پھر سرزد نہیں ہوگی۔نومبر میں روس اور ترکی کے مابین کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب ترکی نے روسی لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا، جس کے لیے ترکی کا کہنا تھا کہ اس نے شام کے ساتھ والی سرحد پر اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس واقعے پر بھی روس نے تردید کی تھی کہ اس کا طیارہ ترک فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔بنیادی طور پر، روس اور ترکی شام کے تنازعے پر ایک دوسرے سیاختلاف رکھتے ہیں، جہاں دونوں ملکوں کی جانب سے فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ستمبر میں، روسی لڑاکا طیارے صدر بشار الاسد کی حمایت میں شامی باغیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کیے۔ ترکی اس بات کا خواہاں ہے کہ اسد اقتدار چھوڑ دیں۔گذشتہ برس سے، ترکی کے جنگی طیارے شام کے اندر داعش کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔


فلسطینی صحافی کی حالت مزید تشویشناک ٗ35 کلوگرام وزن کم ہوگیا ٗ وکیل 

الخلیل ۔31جنوری(فکروخبر/ذرائع)اسرائیلی جیل میں صہیونی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کا شکار بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی محمد القیق کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی ہے۔ اسیر کے وکلا نے خبردار کیا ہے کہ ان کے موکل کی رہائی کا اعلان نہ کیا تو اس کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسیر بھوک ہڑتالی صحافی محمد القیق کے وکیل اشرف ابو سنینہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کی بھوک ہڑتال کو 67 روز مکمل ہوگئے ہیں۔ اس عرصے میں اس کا 35 کلوگرام وزن کم ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے چند گھنٹے اسیر کی صحت کے حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ خدشہ ہے کہ صہیونی جیلر انہیں دوبارہ زبردستی خوراک یا دوائی دینے کی کوشش کریں گے۔ابو سنینہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی سپریم کورٹ میں القیق کی رہائی کے لیے دی گئی درخواست پر فیصلے کا انتظار ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے القیق کی انتظامی حراست کو معطل یا منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی آسکتا ہے۔اسیر کے وکیل کا کہنا تھا کہ عفولہ اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے پہلی بار عدالت کو بتایا گیا ہے کہ محمد القیق کی حالت تشویشناک ہے اور اس کی زندگی اب خطرناک مرحلے میں دخل ہوچکی ہے جب کہ اس سے قبل جاری کردہ رپورٹ میں صحافی کی زندگی کو لاحق خطرات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔خیال رہے کہ صحافی محمد القیق کو صہیونی فوج نے 21 نومبر 2015 کوالخلیل شہر سے حراست میں لیا۔ دوران حراست اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ بعد ازاں اسیانتظامی قید میں ڈالنے کا حکم دیا گیا مگر محمد القیق نے انتظامی قید کی سزا کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال کردی۔ادھر یورپ میں بھی فلسطینی بھوک ہڑتالی صحافی کے حوالے سے سیاسی، سفارتی اور ابلاغی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔ انسانی حقوق گروپ یورو ۔ مڈل ایسٹ آبزرویٹری کی جانب سے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اور پارلیمان میں سول فریڈم کمیٹی کی رکن مارٹینا ایننڈرسن کوبھی مکتوب ارسال کیے ہیں جن میں ان سے القیق کی رہائی کیلیے اسرائیل پر دبا ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


سرنگ حادثے میں شہید ہونے والوں نے دفاع وطن میں جانیں قربانی کیں ٗ خالد مشعل 

دوحہ۔31جنوری(فکروخبر/ذرائع)اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے غزہ کی پٹی میں سرنگ کے حادثے میں شہید ہونے والے القسام بریگیڈ کے سات کارکنوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے قوم کے ہیرو ہیں جنہوں نے دفاع وطن اوردشمن کے خلاف جنگ کی تیاری میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو غزہ کی پٹی میں ایک سرنگ میں کام کرنے والے سات کارکن اس وقت شہید ہوگئے تھے جب موسم کی خرابی کے باعث سرنگ بیٹھ گئی تھی۔سرنگ حادثے میں شہید ہونے والے ساتوں کارکنوں کے اہل خانہ سے فردا فردا ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے خالد مشعل نے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہدا کے لواحقین کو صبر جمیل کی تلقین کے ساتھ زور دیتے ہوئے کہا کہ شہدا دشمن کے خلاف جنگ کی تیاری میں اپنی جانیں قربان کرگئے ہیں۔ قوم ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔خالد مشعل کا کہنا تھا کہ سرنگ میں شہید ہونے والے فلسطینی قوم اور پوری ملت اسلامیہ کے لیے باعث فخر ہیں۔ اللہ نے انہیں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز کرکے سرخروکردیا۔ادھر اردن میں اخوان المسلمون کے سربراہ ڈاکٹر ھمام سعید نے بھی سرنگ حادثے میں سات کارکنوں کی شہادت پرحماس اور فلسطینی قوم سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر اسماعیل ھنیہ اور جماعت کے دیگرقایدین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔



بیت المقدس ٗچاقو کے وارسے صہیونی زخمی، حملہ آور گرفتار

مقبوضہ بیت المقدس۔31جنوری(فکروخبر/ذرائع)فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی نوجوان کے چاقو سے حملے میں ایک یہودی آباد کار کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم اس کی شناخت نہیں کی جاسکی ہے۔اسرائیلی اخباریدیعوت احرونوت کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی شہری نے باب العامود کے مقام پر ایک یہودی آباد کار پر چاقو سے وار کیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا ہے۔اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمن لوب السمبری ک کہنا ہے کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی اخبارات اور نیوز ویب پورٹلزکی رپورٹس کے مطابق باب العامود میں یہودی آباد کار کو چاقو کے وار سے زخمی کرنے والے فلسطینی کو فرار کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ باب العامود کے مقام میں جائے وقوعہ پر بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی اور پولیس اہلکار جمع ہوگئے۔ میڈیا کی ٹیمیں بھی وہاں پہنچیں تاہم قابض فوجیوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو تشدد کانشانہ بنایا۔


اسرائیلی فوج پر فلسطینیوں کے فدائی حملوں پر فخر ہے ٗ حماس 

دوحہ۔31جنوری(فکروخبر/ذرائع) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے کہا ہے کہ حسین ابو غوش ابراہیم علان شہید پوری قوم کے ہیرو ہیں جن پرحماس سمیت پوری قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے دشمن پر فدائی حملوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے قوم کا سر فخر سے بلند کیاہے۔خیال رہے کہ حسین ابو غوش اور ابراہیم علان نے 25 جنوری کورام اللہ کے قریب ایک یہودی کالونی کے مرکزی گیٹ پر چاقو سے حملہ کرکے متعدد یہودیوں کو زخمی کردیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے انہیں گولیاں مار کر شہید کردیا۔ دونوں فلسطینی نوجوانوں کو گذشتہ روز ان کےآبائی شہروں میں سپرد خاک کیا گیا۔ حماس کے ترجمان نے شہدا کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں صہیونی دشمن کے خلاف فدائی حملوں پر جماعت کو فخر ہے۔حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تحریک انتفاضہ اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد غرب اردن سے غاصب صہیونیوں کو نکال باہر کرنا اور قبلہ اول و بیت المقدس کو دشمن سے آزاد کرانا ہے۔حسام بدران کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم اپنے حقوق اور دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انتفاضہ القدس دفاع قبلہ اول کی تحریک ہے جو منطقی انجام تک جاری رہے گی۔



اضافی قبرپراسرائیلی میڈیا میں افواہوں کا طوفان ٗسرنگ حادثے کے سات فلسطینی شہدا کی 8 قبروں کا راز

غزہ۔31جنوری(فکروخبر/ذرائع)فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں ایک سرنگ میں کام کرنے والے سات مجاھدین کی شہادت کے بعد شہدا کو سات قبروں میں سپرد خاک کیا گیا مگر سات شہدا کے لیے تیار کردہ آخری آرام گاہوں کے ساتھ ایک آٹھویں قبر نے اسرائیلی میڈیا میں ایک افواہوں کا ایک طوفان برپا کردیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی ٹی وی چینلوں پر سات شہدا کی آٹھ قبروں کو کئی کئی زاویوں سے زیربحث لایا گیا اور یہ کہا گیا کہ سرنگ کے حادثے میں مارے جانے والوں کی تعداد سات نہیں بلکہ آٹھ تھی اور حماس نے اپنے ایک مجاھد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔اس نوعیت کی افواہوں کے جلو میں مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے بھی آٹھویں قبر کا راز معلوم کرنے کی کوشش کی تو وہ راز بھی سامنے آگیا۔صہیونی میڈیا کے اس طوفان کے بعد ایک مقمی شہری الشیخ معتصم دلول سامنے آئے اور انہوں نے بتایا جس علاقے میں سرنگ کا حادثہ پیش آیا اسی کے قریب اس کی ایک معمر عزیزہ جس کی عمر 70 برس تھی طبی موت انتقال کرگئی تھی۔ اس لیے اس کی قبربھی ان شہدا کی قبور کے ساتھ ہی تیار کردی گئی تھی۔ یہ آٹھویں قبر اسی خاتون کی تھی جسے صہیونی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر فلسطینی تحریک انتفاضہ کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سات شہدا کا اضافی ثبوت یہ بھی ہے کہ شہدا کے جسد خاکی تابوتوں میں رکھے گئے تھے، جبکہ فوت ہونے والی خاتون کا کوئی تابوت نہیں بلکہ اسے تابوت کے بغیر ہی دفن کیاگیا۔


عراق میں بم دھماکوں میں متعدد عام شہری جاں بحق و زخمی 

بغداد ۔31 جنوری (فکروخبر/ذرائع) عراق کے دارالحکومت بغداد کے مرکز اور جنوب میں بم دھماکوں میں متعدد عام شہری جاں بحق و زخمی ہو گئے۔عراقی میڈیا کے مطابق سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ بغداد کے مرکزی علاقے الکفاح اور جنوبی علاقے المحمودیہ میں دو الگ الگ بم دھماکوں میں پانچ عام شہری جاں بحق اور بارہ دیگر زخمی ہو گئے۔ شمالی شہر سامرا کے مغرب میں داعش کے ٹھکانوں پر فوج اور عوامی رضاکار فورس کے حملے جاری ہیں جن کے دوران فوج اور عوامی فورس نے دہشت گردوں کے قبضے سے کئی کلومیٹر کے علاقے آزاد کرانے کے ساتھ ساتھ پچاس سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ 


سنگاپور کی حکومت کا ایران کے خلاف عائد تمام تجارتی اور بینکاری سے متعلق پابندیاں اٹھانے کا اعلان 

سنگاپور ۔31 جنوری (فکروخبر/ذرائع) سنگاپور کی حکومت نے ایران کے خلاف عائد تمام تجارتی اور بینکاری سے متعلق پابندیاں اٹھانے کا اعلان کر دیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سنگاپور نے 2012میں عائد کی جانے والی تمام ایران مخالف پابندیاں ختم اور اپنے بینکوں کو ایران کے ساتھ لین دین کی اجازت دے دی ہے۔ سنگارپور کی حکومت نے 2012میں ایران کے مرکزی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ براہ راست یا کسی دوسرے واسطے سے لین دین پر پابندی عائد کر دی تھی۔ سنگاپور کی وزارت خارجہ نے ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے عائد کی جانے والی تمام پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔