Print this page

شہید فلسطینی کی نماز جنازہ پراسرائیلی فوج کی آنسوگیس شیلنگ، 5شہری زخمی(مزید اہم ترین خبریں)

اسرائیلی فوج کے بھیڑیوں کی انسانیت سوز حرکتیں

مقبوضہ بیت المقدس۔30جنوری( فکروخبر/ذرائع )فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں شہید ہونے والے ایک فلسطینی نوجوان کی نماز جنازہ پرصہیونی فوج نے آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ہفتے کی شام مشرقی بیت المقدس میں ابو دیس قصبے میں محمد نبیل حلبیہ نامی ایک فلسطینی نوجوان بم دھماکے میں شہید ہوگیا تھا۔ کل اتوار کو اس کی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی جب صہیونی فوجیوں نے نماز جنازہ کے جلوس پر فائرنگ کردی۔

مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ نماز جنازہ کے جلوس پر میں شریک شہریوں نے صہیونی فوجیوں کے خلاف سنگ باری کی اور شدید نعرے بازی کے بعد صہیونی فوجیوں نے نماز جنازہ کے جلوس پر آنسوگیس کی شیلنگ کی اور ساتھ ہی ربڑ کی گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں کم سے کم پانچ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔


ملائیشیا کے سرکاری فنڈ سے4 ارب ڈالر چوری کر لیے گئے، پراسیکیوٹر

کوالالمپور/جینیوا ۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )ملائیشیا کے ایک پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ ملک کے ایک سرکاری فنڈ سے ممکنہ طور پر تقریبا چار ارب ڈالر چوری کر لیے گئے ہیں۔ون ملائیشین ڈیولپمنٹ برہد (1ایم ڈی بی)نام کے اس فنڈ کو سنہ 2009 میں ملائیشیا میں اقتصادی اور سماجی اصلاحات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔گذشتہ سال فنڈ پر 11 ارب ڈالر کا قرض ہونے کے بعد سوئس حکام نے اس کی تفتیش شروع کی تھی۔سوئٹزر لینڈ کے اٹارنی جنرل نے بتایا اس بات کے بہت اشارے ہیں کہ اس فنڈ کو ملائیشیا کی سرکاری کمپنیوں نے غلط طریقے سے استعمال کیا ہے۔ایک افسر مائیکل لابر نے کہا کچھ رقم ملائیشیا کے سابق افسروں اور متحدہ عرب امارات کے سابق اور موجودہ سوئس کھاتوں میں منتقل کی گئی۔اٹارنی جنرل کے مطابق ابھی تک متعلقہ ملائیشیائی کمپنیوں نے اپنے نقصانات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کہی ہے۔لابر نے ملائیشیا کے حکام سے سوئٹزر لینڈ کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں تعاون کی اپیل کی ہے۔خیال رہے کہ ملائیشیا میں گذشتہ سال 1ایم بی ڈی فنڈ کے حوالے سے مشتبہ غیر ملکی سرکاری حکام کی بدعنوانی ، بے ایمان انتظامیہ اور منی لانڈرنگ کے بارے میں سوئس انکوائری شروع ہوئی تھی۔ادھر ملائیشیا اور 1ایم ڈی بی فنڈ کے حکام نے تازہ ترین الزامات سامنے آنے کے بعد ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ہانگ کانگ میں بھی 1ایم ڈی بی فنڈ کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔1ایم ڈی بی فنڈ کے ایڈوائزری بورڈ کے صدر وزیر اعظم نجیب رزاق نے سنہ 2009میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ فنڈ قائم کیا تھا۔گذشتہ سال جولائی میں ملائیشیا کے سابق اٹارنی جنرل عبد الغنی پٹیل نے 68کروڑ دس لاکھ ڈالر کے ایک عطیہ کا تعلق نجیب رزاق کے اکانٹ سے بتایا تھا اور ان کے اکانٹس کا تعلق 1ایم ڈی بی سے منسلک کمپنیوں اور اداروں سے تھا۔اس کے بعد پٹیل کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اس معاملے میں جاری ایک تفتیش کے بعد ان کے جانشین نے منگل کو کہا تھا کہ یہ پیسہ سعودی رائلز کی جانب سے ذاتی عطیہ تھا، جس کا زیادہ تر حصہ لوٹا دیا گیا تھا۔ملائیشیا کے بدعنوانی مخالف کمیشن نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کریں گے۔


ایران کی بحری مشقوں کے دوران ڈرون سے امریکی بحری جہاز کی نگرانی

تہران ۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک ایرانی ڈرون طیارے نے بحری مشقوں کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے اوپر پرواز کرتے ہوئے اس کی بالکل واضح تصاویر کھینچی ہیں۔سرکاری ٹی وی پر خلیج میں ایک نامعلوم امریکی جنگی بحری جہاز کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔ٹی وی کے مطابق ایرانی بحریہ کے کمانڈر نے اس آپریشن میں امریکی بحری جنگی جہاز کے بہت قریب جا کر غیر ملکی فوج کے جنگی یونٹس کی درست اور معیاری تصاویر حاصل کرنے کے آپریشن کی تعریف کی ہے۔ایرانی بحریہ کے ایڈمرل حبیب اللہ شیاری نے سکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ یہ ہمارے ڈرون آپریٹرز کی بہادری، سائنسی قابلیت اور تجربے کی مثال ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں اس کے بحری جہاز کے اوپر سے ایرانی ڈرون گزرا تھا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اسی ڈرون کی حاصل کردہ تصاویر نشر کی گئی ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی نے امریکی بحریہ کی خاتون ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس سے امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں تھا لیکن یہ غیر پیشہ وارانہ اور خلاف معمول حرکت تھی۔ترجمان کے مطابق یہ واقعہ 12 جنوری کو پیش آیا تھا اور اسی دن ایران نے مختصر مدت کے لیے امریکی بحری کے دس اہلکاروں کو غلطی سے ایران کی سمندری حدود میں داخل ہونے پر حراست میں لیا تھا۔ایران کے سرکاری نیوز چینل نے یہ نہیں بتایا کہ جاسوس طیارے نے کس دن یہ تصاویر کھینچی تھیں تاہم یہ بتایا کہ بحری مشقوں کے تیسرے دن یہ آپریشن کیا گیا۔امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ کو پیش آ سکتا ہے کیونکہ ایران نے رواں ہفتے کے آغاز پر بحری مشقوں کا آغاز کیا تھا۔سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی بحریہ کی ایک ہلکی آبدوز نے بھی جاسوسی کے مشن میں حصہ لیا تھا۔عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد ایران سے مغربی پابندیاں رواں ماہ ختم ہو گئی ہیں اور اس کے مغرب سے تعلقات میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے۔ تاہم امریکہ نے ایران پر پابندیاں اٹھنے کے چند دن بعد ہی اس پر بیلسٹک میزائل کے تجربے کی وجہ سے نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔


تیونسی صدر کا سعودی پالیسی کی غیر مشروط حمایت کا اعلان

اپنے بیٹے کو سیاسی نظم و نسق کے لیے اپنا جانشین نہیں بناؤں گا

تونیسیا۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع)تیونس کے صدر الباجی قائدالسبسی نے کہا ہے کہ اپنے بیٹے کو سیاسی نظم نو نسق کے لیے اپنا جانشین نہیں بناؤں گا۔ ان کا کہنا ہے کہ تیونس سعودی عرب کی پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔تیونس کے صدر نے اپنے انٹرویو میں تیونس کی موجودہ سیاسی اور امن وامان کی صورت حال، علاقائی مسائل اور عالمی موضوعات پر بھی اپنی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کو ماضی کی نسبت موجودہ وقت میں جیو پولیٹیکل تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے سرعت اور لچک کا مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔قائد السبسی کا کہنا تھا کہ ہم عرب ہونے کی حیثیت سے مشترکہ مستقبل کا اصولی مطالبہ کرتے ہیں۔ علاقے کے مستقبل کے لیے عرب ممالک کو آپس میں مذاکرات اور بات چیت کے کلچر کو پروان چڑھانا ہوگا۔ خلیج اور مشرق وسطی اور افریقا کی عرب اقوام اور حکومتیں اپنے ہاں امن استحکام مل جل کر کام کریں۔ خلیج اورمشرق وسطی کا خطہ پوری دنیا میں زیادہ گرم محاذ بنتا جا رہا ہے۔تیونسی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سعودی عرب دہشت گردی کا سب سے زیادہ ہدف ہے۔ ہمارے پاس سعودی عرب کی پالیسیوں کی حمایت کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں ہے۔ ہمیں ہر صورت میں مملکت سعودی عرب کے پشت پر کھڑا ہونا ہے۔


اقوام متحدہ اور او آئی سی کی سعودی عرب میں مسجد میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت

جدہ/نیویارک ۔30 جنوری (فکروخبر/ذرائع) اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی نے سعودی عرب میں مسجد میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ایاد امین مدنی نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی جس میں متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سلامتی کونسل کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں رکن ممالک نے دہشتگردی کے اس واقعہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی تمام صورتیں اور مظاہر قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ کونسل نے اس واقعہ کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے تمام ممالک سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔


خامنہ ای کے مشیر نے کرد ریاست کو دوسرا اسرائیل قرار دیا

منصوبے کے پیچھے "صہیونیت اور سامراجیت" کا ہاتھ ہے

ہم سب پر لازم ہے کہ ترکی کی سرزمین کے تحفظ کا دفاع کریں،علی اکبر ولایتی

تہران۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع)ایران کے سابق وزیر خارجہ اور مرشد اعلی علی خامنہ ای کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ کرد اپنے لیے جس ریاست کے خواہش مند ہیں مشرق وسطی میں اس کی حیثیت دوسرے اسرائیل کی سی ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے ترکی کی سرزمین کے تحفظ کے سلسلے میں اس کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اعلان کیا۔ترک روزنامے "آئیڈینلیک" کو دئیے گئے انٹرویو میں ولایتی نے کردوں کی ریاست کی تشکیل کے ذریعے مشرق وسطی کا نقشہ تبدیل ہونے سے خبردار کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس منصوبے کے پیچھے "صہیونیت اور سامراجیت" کا ہاتھ ہے۔ ولایتی کا دعوی ٰہے کہ کرد ریاست کے قیام کا مقصد "خطے میں دوسرا اور تیسرا اسرائیل بنانا ہے۔ سامراجی اور صہیونی عناصر درحقیقت خطے کو توڑنا چاہتے ہیں۔"علی خامنہ ای کے مشیر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ مشرق وسطی بالخصوص شام کے حوالے سے تہران اورانقرہ کے درمیان شدید نوعیت کے اختلافات پائے جاتے ہیں، تاہم کردوں کی ریاست کے بارے میں دونوں ممالک ہی مشترکہ تشویش رکھتے ہیں۔ علی اکبر ولایتی نے باور کرایا کہ ہم سب پر لازم ہے کہ ترکی کی سرزمین کے تحفظ کا دفاع کریں۔کرد مشرق وسطی میں بنا ریاست کے سب سے بڑی قوم سمجھی جاتی ہے۔ یہ لوگ مختلف تعداد میں ترکی، ایران، عراق اور شام میں تقسیم ہیں۔آبادی کے لحاظ سے کرد ترکی، عراق اور شام دوسری بڑی قوم ہیں۔ قفقاز میں بھی کرد اقلیتیں موجود ہیں۔ایران میں کردوں کا فارسی بانوں اور ترکوں کے بعد تیسرا نمبر ہے جب کہ عرب تعداد کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آتے ہیں۔ ایران میں کرد 3 صوبوں کردستان، کرمان شان اور عیلام میں اکثریت جب کہ تین صوبوں میں اقلیت میں ہیں۔ ان میں مغربی آذربائیجان، ہمدان اور شمالی خراسان شامل ہیں۔ ان کردوں میں 60فی صد سنی ہیں۔اس سے قبل اسرائیلی وزیر انصاف آئیلٹ شاکید نے منگل کے روز ایک بیان میں کردوں کے لیے ایک ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسرائیل اور کردوں کے درمیان تعلقات مستحکم ہونے پر بات کی تھی۔ اسرائیلی خاتون وزیر نے ٹائمز آف اسرائیل اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح طور پر مطالبہ کیا تھا کہ جغرافیائی طور پر ایران اور ترکی کے درمیان واقع علاقے پر کردستان ریاست قائم کی جائے۔


اسرائیلی دشمن کمزور ہو رہا ہے، قومی مفاہمت سے مسئلہ فلسطین تحفظ دیا جائے ٗ ڈاکٹر ابومرزوق

دوحہ۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسی ابو مرزوق نے کہا ہے کہ اسرائیلی ریاست موجودہ حالات میں کمزور سے کمزور تر ہورہی ہے ٗ اسرائیل سے سیکیورٹی تعاون جاری رکھنے اور صہیونی دشمن سے سفارتی تعلقات قائم کرنے پرفخر کرنے والے فلسطینیوں کے مخلص نہیں ہوسکتے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس رہ نما نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی قوتیں قومی مفاہمت کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو تحفظ دے سکتی ہیں۔ابو مرزوق نے کہا کہ فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ نے صہیونی ریاست کو کمزور کیا اور دشمن کو دفاعی پوزیشن میں آنے پرمجبور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے صہیونی ریاست کے مظالم پر سخت دبا ہے۔ اسرائیل کے ادارے، حکومت اور سیاسی جماعتیں سب عالمی دبا میں ہیں۔ ایسے حالات میں فلسطین میں قومی مفاہمت کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ابو مرزوق نے کہا کہ عالمی بائیکاٹ کی تحریک نے صہیونی ریاست کو جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے انجام سے دوچار کردیا ہے۔ جس طرح جنوبی افریقا میں نسل پرست حکومت کو عالمی بائیکاٹ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے اسی طرح آج صہونی ریاست بھی اپنے انجام کی جانب بڑھ رہی ہے۔


محمود عباس کا اسرائیل سے فوجی تعاون قوم کی اجتماعی سوچ کے منافی ہے ٗ حماس

غزہ۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے صدر محمود عباس کے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کی وہ خود مانیٹرنگ کرتیہیں۔ حماس نے صدر کے اس بیان کو قوم کے اجتماعی فیصلے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صدر عباس کا بیان نہایت افسوسناک اور قوم کے اجتماعی شعورفیصلوں کے منافی ہے۔ قوم اسرائیلی دشمن کے ساتھ فوجی شعبے سمیت کسی بھی میدان میں تعاون کی حامی نہیں ہے۔ترجمان نے کہا کہ صدر عباس فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس چیف ماجد فرج کے ایک متنازع بیان پرانہیں تحفظ دلانے کی کوشش کررہے ہیں مگرصدر عباس کے بیان سے ماجد فرج کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔سامی ابوزھری کا کہنا تھا کہ صدر عباس پوری قوم کو صہیونی دشمن کے سامنے سرنگوں کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر قوم دشمن کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی۔خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کا سیکیورٹی تعاون جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے سیکیورٹی تعاون ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔ان کے بیان سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس چیف ماجد فرج نے اعتراف کیا تھا کہ عباس ملیشیا اسرائیل کے دفاع کے لے سرگرم ہے اور اس نے پچھلے دو ماہ میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی 200 مزاحمتی کارروائیوں کو ناکام بناتے ہوئے 100 مزاحمتی کارکنوں کو حراست میں لیا ہے


تل ابیب حملے میں معاونت کے الزام میں3 فلسطینیوں پر فرد جرم عائد

مقبوضہ بیت المقدس ۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )اسرائیل کے ملٹری پراسیکیوٹر نے مقبوضہ فلسطین کے علاقوں سے تعلق رکھنے 3 فلسطینیوں پر تین ہفتے قبل تل ابیب میں شاہراہ ڈیزنگوف پر واقع نائیٹ کلب میں فارئرنگ کے الزام میں شہید فلسطینی نشات ملح کے ساتھ تعاون کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے۔تین ہفتے پیشتر ڈیزنگوف شاہراہ پر واقع نائیٹ کلب میں نشات ملح نامی فلسطینی شہری نے فائرنگ کردی تھی جس میں کم سے کم دو صہیونی ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کارروائی میں نشات ملحم کے ساتھ تین دوسرے فلسطینیوں نے بھی معاونت کی تھی۔خیال رہے کہ کارروائی کے کوئی ڈیڑھ ہفتے بعد صہیونی فوج نے حملہ آور نشات ملحم کو فائرنگ کے تبادلے میں شہید کردیا تھا۔ اسرائیلی عدالت نے تحقیقات مکمل ہونے تک تینوں فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں رکھنے اوران سے تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔عبرانی اخباریدیعوت احرونوت نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حراست میں لیے گئے ایک فلسطینی نوجوان کے والد کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے کا نائیٹ کلب میں فائرنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی فوج دانستہ طورپر انہیں نائیٹ کلب پر فائرنگ کے واقعے میں الجھایا جا رہا ہے۔