Print this page

مصری ائِیرمیکنیک پر روسی طیارے میں بم نصب کرنے کا شُبہ(مزید اہم ترین خبریں )

قاہرہ ۔29 جنوری (فکروخبر/ذرائع)مصر میں اکتوبر میں روسی طیارے کی دوران پرواز تباہی کے واقعے کے بارے میں ایک نئی اطلاع سامنے آئی ہے اور ذرائع کے مطابق مصر کے ایک ائیر میکنیک پر روسی طیارے میں بم نصب کرنے کا شُبہ ہے۔اس میکنک کے کزن نے مبینہ طور پر سخت گیر جنگجو گروپ داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔واضح رہے کہ مصر کا واقعے کے بارے میں اب تک یہ موقف رہا ہے کہ میٹرو جیٹ کی پرواز دہشت گردی کی کسی کارروائی کے نتیجے میں تباہ نہیں ہوئی تھی۔یہ مسافر طیارہ مصر کے ساحلی مقام شرم الشیخ سے روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کے لیے اڑان بھرنے کے تھوڑی دیر کے بعد گر کر تباہ ہوگیا تھا

جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام دو سو چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔مصر کی وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ واقعے کے سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔میٹرو جیٹ کا بھی کہنا ہے کہ اس کے کسی ملازم کو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ کسی پر واقعے میں ملوّث ہونے کا شبہ ہے۔لیکن ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس میکنیک کے علاوہ ائیرپورٹ کے دو پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ایک قُلی بھی زیر حراست ہے اور اس پر بم کو طیارے تک لانے کے لیے ائیرمیکنیک کی امداد کا شُبہ ہے۔

ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ جب داعش کو یہ معلوم ہوا کہ اس کے ایک رکن کا رشتے دار شرم الشیخ ائیرپورٹ پر کام کرتا ہے تو انھوں نے ایک دستی بستے میں بم رکھ کر اس شخص تک پہنچایا تھا۔اس سے صرف یہ کہا گیا تھا کہ وہ کوئی سوال نہیں پوچھے اور بم کو سیدھا طیارے میں لے جائے۔اس ذریعے نے مزید بتایا ہے کہ اس شخص کے کزن نے ڈیڑھ ایک سال قبل شام میں داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔
ایک اور ذریعے کا کہنا ہے کہ دونوں مشتبہ پولیس اہلکاروں نے اپنے فرائض سے غفلت برتی تھی اور ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ سے بم کو گزرنے دیا تھا لیکن اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ انھوں نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا تھا بلکہ اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا نہیں کیے تھے۔
ان چاروں مشتبہ افراد پر اب تک کوئی فرد الزام عاید نہیں کی گئی ہے۔اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ روسی طیارے کی تباہی دہشت گردی کا نتیجہ تھی تو پھر مصر کو مہلوکین کے خاندانوں کو ہرجانے کے طور پررقوم ادا کرنا پڑیں گی۔
مصر نے اس سے پہلے روس کے مسافر طیارے کو 31 اکتوبر کو شورش زدہ علاقے شمالی سیناء میں پیش آئے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس کو دہشت گردی یا کوئی اور غیر قانونی اقدام کارفرما ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔
روس اور مغربی حکومتیں پہلے یہ کہہ چکی ہیں کہ میٹروجیٹ کے زیرانتظام ائیربس اے 321 کو دوران پرواز بم سے تباہ کیا گیا تھا۔داعش نے اس واقعے کی ذمے داری قبول کی تھی اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے طیارے میں بم رکھوایا تھا۔
داعش نے روس کے اس مسافر طیارے میں رکھے گئے بم کی تصویر بھی جاری کی تھی اور کہا تھا کہ کین میں نصب بم شرم الشیخ کے ہوائی اڈے پر سکیورٹی کو جُل دے کر طیارے میں پہنچایا گیا تھا۔داعش کے آن لائن میگزین دابق میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جنگجو گروپ نے پہلے عراق اور شام میں امریکا کی قیادت میں اتحاد میں شامل ممالک میں سے کسی ایک کا طیارہ تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
مگر روس کی جانب سے 30 ستمبر2015ء کو شام میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے آغاز پر اپنا یہ منصوبہ تبدیل کر لیا تھا۔واقعے کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتین نے واقعے کے ذمے داروں کو ڈھونڈ نکالنے اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف فضائی حملوں کو تیز کرنے کا حکم دیا تھا۔


متحدہ عرب امارات چیچنیا میں اسلامی بینک کھولے گا، سمجھوتہ طے گیا

گروزنی ۔29 جنوری (فکروخبر/ذرائع) چیچنیا کے سربراہ رمضان کادیروو نے متحدہ عرب امارات کی فرم مزکروپ کی قیادت کے ساتھ ملاقات کے میں چیچنیا کے دار الحکومت گروزنی میں اسلامی بینک کے اصول پر قرض دینے والا بنک قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، متحدہ عرب امارات کے مالیاتی ادارے مزکروپ کے سربراہ ہلال سہیل ہلال رشید المازوری اور وائل صعب سے ملاقات کے بعد چیچنیا کے سرکاری ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان مین کہا گیا ہے کہ معاملہ ابتدائی طور پر طے پا گیا ہے۔ اس ملاقات میں ہم نے اس منصوبے پر عمل پیرا ہونے سے متعلق بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بنک کھولے جانے کی چیچنیا کے لیے بہت زیادہ اہمیت ہے۔ چیچنیامیں متحدہ عرب امارات کی شرکت سے بڑے منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق واحد رکاوٹ ایسے بنک کا نہ ہونا تھی جو اسلامی مالی معاونت کے اصول پر کام کرے۔


داعش نے مصری فوجیوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

قاہرہ ۔29 جنوری (فکروخبر/ذرائع) مصر میں دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' سے وابستہ تنظیم نے جمعرات کے روز شمالی سیناء میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس حملے میں ایک فوجی کرنل اور تین فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔سیناء میں ہونے والی اس کارروائی میں صوبائی دارالحکومت العریش میں مصری فوجیوں کی بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں 12 فوجی زخمی ہوگئے تھے۔شدت پسندوں کی جانب سے جاری کردہ ایک آن لائن بیان میں داعش کی وفادار تنظیم کا کہنا تھا کہ اس کے ارکان نے العریش کے مغرب میں فوج کو نشانہ بنایا ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ حملے حکومت کی جانب سے سابق صدر محمد_مرسی کے حمایتیوں پر کریک ڈاؤن کے ردعمل کے طور پر کئے گئے ہیں۔مصری حکام کے مطابق 2013 سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں فوجی اور پولیس اہلکار اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ مصر کی داعشی شاخ نے ہی روس کے کمرشل ہوائی جہاز کو فضاء میں دھماکے سے اڑانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔


یورپی فضائی کمپنوں کا تہران کیلئے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا امکان

تہران۔29 جنوری (فکروخبر/ذرائع) ایران نے کہا ہے کہ یورپی فضائی کمپنیاں جلد ہی تہران کے لئے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کریں گی۔ایرانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نائب سربراہ محمد خداکرمی کے حوالے سے کہا کہ برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز کے حکام نے 2 روز قبل پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تہران کا دورہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایئر فرانس اور ہالینڈ کی قومی فضائی کمپنی کے ایل ایم پہلے ہی تہران کی پروازیں بحال کرنے پر آمادگی کا اظہار کر چکی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ سال طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت ایران پر عائد عالمی پابندیاں حال ہی میں ہٹائی گئی ہیں اور ایران کے صدر حسن روحانی اس وقت یورپ کے دورے پر ہیں۔


ایران یورپ کو گیس کی فراہمی شروع کرنے کا خواہشمند 

تہران ۔29 جنوری (فکروخبر/ذرائع)ایران گیس کی برآمد کے لئے نئی منڈیوں کی تلاش میں ہے اس لئے وہ مائع گیس ٹکنالوجی کو فروغ دینے سمیت گیس کی صنعت کی ترقی دے رہا ہے۔ایران کو توقع ہے کہ وہ دو سال کے اندر یورپی ممالک کو گیس کی فراہمی شروع کر سکے گا، ایران کی قومی گیس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر علی رضا کاملی نے امریکی ذرائع ابلاغ کو بتایا۔ایران ایل این جی پروجیکٹ کو مکمل کرے گا جو سن 2012 میں ایران پر پابندیاں عائد کئے جانے سے پہلے صرف 40 فی صد تک مکمل کیا جا سکا تھا۔ اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں تین چار سال لگیں گے دوسرا اہم پروجیکٹ جو دو سال میں مکمل کیا جا سکتا ہے عمان تک گیس پائپ لائن بچھانا ہے جہاں گیس کو مائع حالت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران یورپی ممالک کے ساتھ تیرنے والے ایل این جی ٹرمینل تعمیر کرنے کے بارے میں مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران میں دنیا کے سب سے بڑے گیس کے ذخائر موجود ہیں۔واضح رہے کہ پچھلے ہفتے یونان نے ایران پر سے پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد ایرانی تیل کی پہلی کھیپ خریدی۔