Live Madinah

makkah1

dushwari

مغربی کنارہ: اسرائیلی آبادکاروں کے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ(مزید اہم ترین خبریں)

26جنوری (فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کی وزارت دفاع نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع یہودی بستیوں میں مزید توسیع کا منصوبہ بناتے ہوئے 153 نئے ہائوسنگ یونٹس کی تعمیر کی اجازت دے دی ہے۔اسرائیلی آبادکاری پر نظر رکھنے والی تنظیم "پیس نائو" کی ترجمان ھاجیت اوفران کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پچھلے ہفتے کے دوران منظور کروا لیا گیا تھا اور اس میں مغربی کنارے کے علاقے ارییل، الخلیل میں قائم الکرمل اور غوش عتصیون یہودی بستیوں میں تعمیر کی اجازت دی گئی ہے۔'پیس نائو' نے 28 دسمبر کو کہا تھا کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لئے نئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے بنا رہا ہے۔

'پیس نائو' نے وزارت ہاؤسنگ کی اہم دستاویزات حاصل کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب حکومت دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے چھوٹی کالونیوں کے بجائے دو نئے شہر آباد کرنا چاہتی ہے جن میں 55 ہزار 548 مکانات کی تعمیر کی اسکیم تیار کی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 8300 مکانات بیت المقدس سے متصل سیکٹر E1 میں تعمیر کیے جائیں گے جس کے نتیجے یں مغربی کنارے دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ جائے گا۔ بیت المقدس قریب 12 کلو میٹر کے علاقے پر ان مکانات کی تعمیر سے غرب اردن کی جغرافیائی تقسیم کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام میں ایک نئی رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیم اؤ پیس کا کہنا ہے کہ معالیہ ادومیم کے E1 سیکٹر میں یہودی آبادکاروں کے لیے گھروں کی تعمیر سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ یہ ایک حساس علاقہ ہے۔ اگر اسرائیل اس علاقے میں مزید تعمیرات کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکومت جب بھی اس علاقے میں تعمیرات کے کسی منصوبے پر کام شروع کیا ہے عالمی دباؤ کے باعث صہیونی ریاست کو پسپا ہونا پڑا ہے مگر اب کی بار اسرائیل نے اس منصوبے پر خفیہ طور پر کام شروع کرنے کی اپنائی ہے۔


حسنی مبارک کی کٹہرے میں قہوہ نوشی قانون سے کھلا مذاق؟

ویڈیو مصر میں عوامی تحریک کے پانچ برس مکمل ہونے پر سامنے آئی

قاہرہ ۔26جنوری (فکروخبر/ذرائع)عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے الگ کئے جانے والے مصر کے سابق مرد آہین حسنی مبارک کی ایک وڈیو نے ملک میں بڑے تنازع کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس وڈیو میں وہ صدارتی محلوں سے متعلق ایک مقدمے کی کارروائی کے دوران ملزمان کے کٹہرے کے اندر بیٹھے قہوہ پی رہے ہیں۔اس منظر نے بہت سے لوگوں کو غیض وغضب میں مبتلا کر دیا ہے، جن کے خیال میں یہ عدلیہ کی روایات کی کھلی خلاف ورزی اور حسنی مبارک کے متعدد مقدمات میں ملزم ہونے کے باوجود ان کے ساتھ امتیازی حسن سلوک کا مظاہرہ ہے۔ تاہم بعض دیگر حلقوں کے نزدیک یہ ایک فطری منظر اور ملزمان کو حاصل حقوق میں سے ہے۔یہ وڈیو 9 فروری 2014 کو قاہرہ کی پولیس اکیڈمی میں فوج داری عدالت کی ایک کارروائی کے دوران بنائی گئی۔ کارروائی میں حسنی مبارک اور ان کے دو بیٹوں علاء اور جمال پر صدارتی محلوں کے لیے مختص رقوم سے 12.5 کروڑ مصری پاؤنڈ اپنے قبضے میں لینے کے الزام کے تحت مقدمے کی سماعت کی جا رہی تھی۔

واقعے کی قانونی حیثیت

"العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ اسعد ہیکل نے واقعے کی قانونی حیثیت پر روشنی ڈالی۔ ہیکل کا کہنا تھا کہ حسنی مبارک جس وقت عدالت میں پیش ہوئے تو ان کے خلاف سابقہ مقدمات ختم ہو چکے تھے لہذا قیدیوں کے لباس کے بجائے سرکاری لباس یا اور کسی لباس میں حاضر ہونا سابق صدر کا حق تھا۔
جہاں تک قہوہ پینے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے اسعد ہیکل نے بتایا کہ عدلیہ کی روایات آرام کے وقفے کے دوران ملزمان کو کھانے پینے کا حق دیتی ہیں اور اس حق کی ضمانت قانون بھی دیتا ہے، تاہم سماعت کے دوران ملزمان کو اس کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی سینئر ایڈوکیٹ نے تصدیق کی کہ اس وقت عدالتی کارروائی کے دوران وقفہ تھا بصورت دیگر جج صاحب حسنی مبارک کو قہوہ پینے کی اجازت ہر گز نہ دیتے۔
دوسری جانب قانون کے پروفیسر ڈاکٹر ایمن سلامہ نے باور کرایا کہ قیدیوں، زیر حراست یا گرفتار شدگان کے ساتھ امتیازی معاملے کی اجازت نہیں، اس کے ساتھ ساتھ جیل اور یہاں تک عدالتی کارروائی کے دوران خصوصی کمرہ حراست میں بھی قہوہ پینے کی اجازت نہیں ہے۔
"العربيہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سلامہ کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی مکمل اور براہ راست ذمہ داری عدالت پر عائد ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں جج کے پاس مکمل اختیارات ہوتے ہیں اور وہ تمام ملزمان، وکلاء اور عدالت کے پہرے داروں کے خلاف جرمانے کا پروانہ جاری کر سکتا ہے۔


بحرین: جیل میں بغاوت کے جُرم میں 57 کو قید کی سزائیں

منامہ ۔26جنوری (فکروخبر/ذرائع)بحرین میں ایک عدالت نے جیل میں بغاوت اور بدامنی کے جرم میں ستاون قیدیوں کو مزید پندرہ، پندرہ سال قید کی سزائیں سنائی ہیں۔بحرین کے پبلک پراسیکوٹر کے دفتر کے مطابق عدالت نے ان قیدیوں کو دارالحکومت منامہ کے جنوب میں واقع جا جیل میں گذشتہ سال مارچ میں ہلہ گلا کرنے اور بغاوت کے الزامات میں قصور وار قرار دیا ہے۔پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے بتایا ہے کہ یہ ستاون قیدی جیل میں توڑ پھوڑ سمیت بغاوت میں ملوّث تھے۔وہ شورش کے دوران جیل کی چھت پر چڑھ گئے تھے اور انھوں نے محافظوں پر پتھراؤ کیا تھا۔


بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء پر غداری کا مقدمہ درج

ڈھاکہ،26جنوری (فکروخبر/ذرائع) پاکستان کے خلاف 1971 کے آزادی ء کے شہیدوں کے خلاف تبصرے' پر بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور حزب اختلاف کی لیڈر بیگم خالدہ ضیاء کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے. ایک عدالتی اہلکار نے بتایا، 'ان کی گرفتاری کی اپیل کرتے ہوئے پیر کی صبح اہم میٹروپولیٹن مجسٹریٹ (ڈھاکہ) کی عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گيا مجسٹریٹ نے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کی اپیل پر بعد میں سننے کے حکم دیا ہے.گزشتہ سال 21 دسمبر کو 70 سال کی خالدہ نے 1971 کے آزادی ء میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر شک ظاہر کیا تھا.