Live Madinah

makkah1

dushwari

یورپ میں اسلام مخالف مظاہروں کی تیاریاں!(مزید اہم ترین خبریں )

24جنوری(فکروخبر/ذرائع) اسلام کے پھیلائو کے خلاف چھ فروری کو جمہوریہ چیک، ایسٹونیا، فن لینڈ، جرمنی، پولینڈ، سلوواکیا اور سوئٹزرلینڈ سمیت یورپ کے چودہ ملکوں میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ اس امر کا اعلان دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند منتظمین نے ہفتہ کے روز کیا۔مظاہروں کا انعقاد غیر ملکیوں کی یورپ آمد کے مخالف جرمن گروپ 'پیجیڈا' نے کیا ہے۔ یہ تنظیم اپنا تعارف ان یورپی شہریوں کے طور پر کراتی ہے کہ جو مغرب کی اسلامائزیشن کے خلاف ہیں۔'پیجیڈا' کے تاتیانہ فیسٹرلنگ نے یہ اعلان اپنی ہم خیال تنظیموں سے ایک اجلاس کے بعد یورپ بھر میں ان اسلام مخالف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا "یورپ کی اسلامائزیشن کے خلاف جنگ ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔"جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ کے قریب ہونے والے اجلاس کا انعقاد چیک گروپ "اسلام مخالف بلاک" کی جانب سے کیا گیا تھا جس کے رہنما مارٹن کونوسکا نے یورپ کی مہاجرین سے متعلق پالیسی کو "احمقانہ اور خودکشی" قرار دیا۔'پیجیڈا' اکتوبر 2014ء میں ایک غیر ملکیوں سے نفرت کے ایک فیس بک گروپ کے طور پر سامنے آئی تھی جس نے جرمنی کے مشرقی شہر ڈریسڈن میں کچھ سو افراد کے ساتھ اپنے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا جس کو بعد میں قوت ملی اور اس کے مظاہروں کی تعداد 25000 تک پہنچ گئی۔اس تنظیم کے بانی لوٹز باک مین کی جانب سے انتہائی متعصب بیانات اور ہٹلر سٹائل کی مونچھیں اور ہئیر سٹائل رکھ کر سیلفی لینے پر اس تنظیم نے عوامی مقبولیت کھو دی تھی۔مگر اب نئے سال کی تقریبات کے موقع پر جرمنی کے شہر کولون میں عرب نوجوان کی جانب سے جنسی ہراسیت اور چوری کی وارداتوں کے بعد اس گروپ کی کارروائیوں میں ایک بار پھر شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔‎


شام،روس اور سرکاری فورسز کی فضائی کارروائیاں،

32داعش جنگجوؤں سمیت 76افراد ہلاک،متعدد زخمی

مارے جانے والوں میں29عام شہری نو بچے اور دو خواتین بھی شامل

دمشق/عمان۔24جنوری(فکروخبر/ذرائع) شام میں روس اور سرکاری فورسز کی فضائی کارروائیوں میں32داعش جنگجوؤں سمیت 76افراد ہلاک،متعدد زخمی، مارے جانے والوں میں 32داعش جنگجواور29عام شہری شامل, ہلاک شدگان میں نو بچے اور دو خواتین بھی شامل ،اردن میں منشیات سمگلروں کے داخلے کی کوشش ناکام،12 ہلاک،24فراد،دو لاک نشہ آور کیپسول برآمد کر لئے گئے۔عرب میڈیا کے مطابق شام کے شہر دیرالزور کے قریب دو دیگر قصبوں میں بھی شامی یا روسی فضائی کارروائیوں میں 44 لوگ مارے گئے ہیں جبکہ داعش کے نام نہاد دارالخلافے رقہ پر ہوئی بمباری میں ہلاکتوں کی تعداد 32 بتائی جا رہی ہے۔یہ کارروائیاں ایک ایسے وقت ہو رہی ہیں جب آئندہ ہفتے شام کے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات متوقع ہیں لیکن ان میں کون کون سے شامی باغی نمائندے شریک ہوں گے، اس بابت ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ مشرقی شہر دیرالزور کے قریب فضائی کارروائیوں میں کم ازکم 29 عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ داعش کے زیر تسلط خاشام نامی قصبے میں یہ فضائی کارروائی روس یا شامی لڑاکا طیاروں سے کی گئی۔سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق خاشام میں ہیں۔شدت پسند گروپ داعش نے حالیہ دنوں میں تیل کی دولت سے مالا مال دیرالزور پر قبضہ کرنے کے لیے کی گئی کارروائیوں میں پانچ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ یہاں موجود دو لاکھ کی آبادی کے لیے قتل عام کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔دریں اثناء اردن کی فوج نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ان کے فوجیوں نے شام سے اردن دراندازی کرنے کی کوشش کرنے والے 12 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔بیان کے مطابق کارروائی کے بعد 24 درانداز شامی علاقے میں دوبارہ فرار ہو گئے۔ فائرنگ کے مقام پر نعشوں کے ہمراہ اردنی حکام نے دراندازوں کی جانب سے 2 ملین نشہ آور کیسپول بھی قبضے میں لئے جو نامعلوم سمگلر اردن لانا چاہتے تھے۔اردن کے سرحدی محافظوں نے دراندازی کو روکنے کی خاطر بنائے گئے ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے سمگلروں کو ہوائی فائرنگ کر کے خبردار کیا، لیکن جب وہ پیش قدمی سے باز نہ آئے تو ان پر براہ راست فائر کئے گئے۔ شام اور اردن کے درمیان 370 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے۔عمان حکومت نے شام کے ساتھ اپنی شمالی سرحد پر سیکیورٹی کنڑول سخت کر رکھا ہے جس کے بعد سے فوج نے اردنی علاقے شام میں بشار الاسد کے خلاف بغاوت میں شرکت کے لئے سنی مسلک جہادیوں کے شام داخلے کی متعدد کوششیں ناکام بنائی ہیں۔فوج کے مطابق یہ افراد مسلح تھے اور ان میں سے بیشتر واپس شام کی حدود میں فراد ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔اردن کی فوج دور دراز صحرائی علاقوں میں لوگوں کو سرحد عبور کرنے سے سے روکتی رہتی ہے لیکن یہ حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے بدترین واقعہ ہے۔اردن کی فوج نے یہ نہیں بتایا کے فائرنگ کا یہ فائرنگ کس مقام پر پیش آیا۔اردن کی ریاست نے شام میں خانہ جنگی اور دولتِ اسلامیہ نامی تنظیم کے جہادیوں کی لڑائی کے باعث اس کے ساتھ ملحق سرحد پر نگرانی سخت کر رکھی ہے۔اقوامِ متحدہ کے پاش رجسٹرڈ 43 لاکھ 90 ہزار شامی پانہ گزینوں میں سے کم سے کم چھ لاکھ 33 ہزار شامی پناہ گزین اردن میں موجود ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق حال ہی میں اردن کی سرحد پر آنے والے شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔


ہم اب بھی ایرانی سرگرمیوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں،

حزب اللہ کے اکثر ہتھیار ایران سے آئے،امریکہ

ریاض۔24جنوری(فکروخبر/ذرائع) ) سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ملاقات،خطے میں امن و امان کی صورتحال اورایران سعودی عرب کشیدگی پر تبادلہ خیال ،جان کیری نے صدر باراک اوبامہ کا نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا،امریکی وزیر خارجہ کی اپنے سعودی ہم منصب اور سعودی وزیر دفاع سے بھی ملاقاتیں ،چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اعلی اختیاراتی وفد کے ہمراہ اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے قصرالعوجا میں ملاقات کی۔ شاہ سلمان نے امریکی وزیرخارجہ سے تبادلہ خیال کے دوران شام کی صورت حال اور عرب خطے میں ایران کی بڑھتی مداخلت پر بات چیت کی۔عرب ٹی وی کے مطابق وزیرخارجہ جان کیری نے صدر باراک اوباما کی جانب سے شاہ سلمان کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا۔ دونوں رہ نماں کے درمیان طویل ملاقات میں شام کے بحران کے منصفانہ اور دیر حل کے علاوہ عرب ممالک میں ایران کی بڑھتی مداخلت کی روک تھام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے موقع پر وزیردفاع ونائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، وزیر مملکت ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان، وزیرثقافت واطلاعات ڈاکٹر عادل بن زید الطریفی، وزیرخارجہ عادل الجبیر اور سعودی عرب کے انٹیلی جنس چیف خالد بن علی الحمیدان بھی موجود تھے۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے ساتھ آنے والے وفد میں معاون سیکرٹری خارجہ برائے مشرق وسطی و مشرق قریب این ڈبلیو پیٹرسن، سعودی عرب میں متعین امریکی سفیر جوزف ویسٹفول، وزیرخارجہ کی انتظامی معاون لیسا کینا اور دیگر موجود تھے۔بعد ازاں سعودی وزیردفاع اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے درمیان الگ ملاقات بھی ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قبل ازیں جان کیری نے اپنے سعودی ہم منصب عادل بن احمد الجبیر سے بھی ملاقات کی ۔ بعد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان بہت سے معاملات میں نقطہ ہائے نظر کی بڑی مطابقت پائی جاتی ہیجبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے باور کرایا کہ یمن میں حوثی بغاوت کا مقابلہ کرنے میں واشنگٹن حکومت سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے۔کیری کے مطابق انہوں نے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے ساتھ ان کے ملک میں داعش کے خلاف جنگ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ عراق اور شام میں داعش جلد ہی بڑے دھچکے سے دوچار ہوگی۔شام کے حوالے سے جان کیری کا کا کہنا تھا کہ " شامی مذاکرات کے حوالے سے ہم نے ابتدائی اقدامات واضح کردیے۔ جنیوا اجلاس شام میں عبوری مرحلے تک پہنچا دے گا۔ ہم جنیوا مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ اور پرامید ہیں، تاہم شام میں سیاسی تصفیہ ایک مشکل کام ہے"۔امریکی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ "بشار الاسد وہ مقناطیس ہیں جو دہشت گردی کو کھینچ کر شام میں لائے"۔ انہوں نے شام اور اس کے پڑوسی ممالک تک پھیل جانے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "داعش تنظیم تمام ملکوں کے لیے دشمن ہے اور داعش کو مدد فراہم کرنے والا ہر وجود اتحادی افواج کی ضربوں کا نشانہ ہوگا۔"اس دوران جان کیری نے یہ بھی کہا کہ "امریکا ابھی تک خطے میں ایران کی سرگرمیوں کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہا ہے ۔ حزب اللہ کے اکثر ہتھیار ایران سے دمشق کے راستے آئے ہیں ... اور حزب اللہ کے پاس تقریبا 80 ہزار راکٹ ہیں"۔اس سلسلے میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ "کیری کے ساتھ بات چیت میں ہم خطے میں ایرانی مداخلت کو روکنے کے طریقہ کار کو زیر بحث لائے ہیں۔ ایران ابھی تک دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ خطے کا استحکام ایران سے اس کی دشمنانہ کارروائیاں روکنے کا تقاضا کرتا ہے اور خلیجی ممالک خطے میں ایرانی مداخلتوں کا سامنا کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہم شام میں بشار الاسد کا کردار ختم کرنے اور یمن میں انقلاب کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ باہمی تعاون کررہے ہیں ... ساتھ ہی لیبیا میں بھی امن و استحکام کی واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔"امریکی وزیر خارجہ جان کیری ہفتے کے روز سعودی دارالحکومت ریاض پہنچے تھے۔ امریکی سفارت خانے کے میڈیا اتاشی کے مطابق کیری کی مصروفیات میں، مذاکرات سے متعلق شامی اپوزیشن کی سپریم آرگنائزیشن کے کوآرڈینیٹر ریاض حجاب کے ساتھ ملاقات بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ امریکا، روس اور اقوام متحدہ نے جنیوا کانفرنس کو اس کی مقررہ تاریخ سے کچھ دن آگے کردینے کو ترجیح دی ہے۔ اس سے قبل شامی اپوزیشن کے مذاکراتی وفد کے نائب سربراہ جورج صبرہ نے باور کرایا تھا کہ روسی حملوں کے روکے جانے اور محاصرے کو ختم کیے جانے سے قبل شامی حکومت کے ساتھ امن بات چیت نہیں ممکن نہیں۔دوسری جانب، کرد قائدین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کردوں کو جنیوا مذاکرات سے دور رکھا گیا تو یہ بات چیت ناکام ہوجائے گی، جب کہ اپوزیشن نے شام میں مرکزی حیثیت رکھنے کے سبب کردوں کی شرکت پر زور دیا ہے۔ اسی پیرائے میں جرمنی کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک شامی امن مذاکرات میں کرد جماعتوں کی شرکت کا خواہش مند ہے۔


ایران میں’’ امریکا مردہ باد‘‘ موبائل ٹیون ختم

جوہری معاہدے کے بعد امریکی مخالفت کی بازگشت دھیمی پڑنے لگی

تہران۔24جنوری(فکروخبر/ذرائع) )ایران اور امریکا کے درمیان کئی برسوں پر پھیلی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں پائے جانے والے فاصلوں کے بعد تہران سرکار ایسے اقدامات اٹھا رہی تاکہ امریکا کے ساتھ قربت بڑھائی جا سکے۔ انہی اقدامات میں امریکا کے خلاف ایران کے یاد گار نعرے امریکا مردہ باد کا بھی خاتمہ ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حال ہی میں ایرانی ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ایران میں موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں نے ویٹنگ کال کے لیے ریکارڈ کی گئی امریکا مردہ باد ٹیون ختم کر دی ہے۔ بلا شبہ یہ اقدام بھی ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سرکاری موبائل فون کمپنی ایران سل نے حال ہی میں اپنی کال سروسز کے دوران موبی ٹیون اور کال ویٹنگ کے لیے ریکارڈ کی گئی امریکا مردہ باد ٹیون ختم کی ہے۔یہاں یہ امر واضح رہے کہ ایران سل ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے پاسداران انقلاب کا نجی ادارہ سمجھا جاتا ہے جس میں پاسداران انقلاب سمیت حکومت کے کئی دوسرے شعبوں کے حصص موجود ہیں۔ایران سل کی جانب سے امریکا مردہ باد ٹیون ختم کرنے کے کچھ وقت بعد ہمراہ اول نامی ایک دوسری سرکاری موبائل فون کمپنی نے بھی اپنے ریکارڈ سے امریکا مردہ باد ٹیون حذف کر دی۔خیال رہے کہ ایران میں امریکا مردہ باد کا نعرہ سنہ 1979 میں تہران میں برپا ہونے والے ولایت فقیہ کے انقلاب اور اسی سال امریکی سفارت خانے پر ایرانی شدت پسندوں کے حملوں کی یاد میں تیار کیا گیا تھا۔ امریکا مردہ باد محض دو لفظی نعرہ نہیں بلکہ یہ ملی نغمہ ہے جس میں امریکا سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔امریکا مردہ باد ایک ایسا نعرہ ہے جو پچھلے تین عشروں سے زاید عرصے تک ایران کے سرکاری، سیاسی اور حکومتی حلقوں میں سب سے مقبول رہا۔ مگر پچھلے سال ایران کے جوہری پروگرام پرمعاہدے کے بعد جیسے ہی امریکا اور ایران کے درمیان فاصلے کم ہونا شروع ہوئے امریکا مردہ باد نعرے کی بازگشت بھی دھیمی پڑتی گئی۔اب تو ایران امریکیوں کے بارے میں کچھ زیادہ ہی جزبہ خیرسگالی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ حال ہی میں ایرانی بحریہ نے سمندری حدود کی خلاف ورزی پر امریکی بحریہ کے دس اہلکار یرغمال بنائے مگر کچھ ہی دیر بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔



ترکی کو کردوں سے درپیش خطرے کو تسلیم کرتے ہیں ،امریکی نائب صدر

داعش کے جنگجو ہی نہیں پی کے کے بھی ترک عوام کے لئے خطرہ ہے ،ترک وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں گفتگو

واشنگٹن۔24جنوری(فکروخبر/ذرائع)) امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ داعش کے شدت پسندوں کی طرح، کردستان ورکرز پارٹی(پی کے کے)ترکی کے لیے اتنا ہی بڑا خطرہ ہے، جب کہ عراق میں جہادیوں کے خلاف لڑائی میں امریکہ کرد افواج کا حامی ہے۔بائیڈن اس وقت استنبول میں ہیں، جہاں انھوں نے وزیر اعظم احمد داؤداوگلو اور صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی، جب کہ اگلے ہفتے شام کے مستقبل کے بارے میں بین الاقوامی مذاکرات کا آغاز متوقع ہے۔ترک وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد، بائیڈن نے کہا کہ ''داعش کے جنگجو ہی ترکی کے عوام کے لیے خطرے کا باعث نہیں۔ پی کے کے بھی اسی طرح کا خطرہ ہے، جس سے ہم آگاہ ہیں۔ یہ دہشت گرد گروپ ہے۔ عام اور سادہ الفاظ میں، جو کام وہ کر رہا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے''۔عوامی تحفظ کے دستوں کی مذمت نہ کی جائے۔ترک مبصرین نے توجہ دلائی ہے کہ بائیڈن نے شام کی کرد ملیشیا کی مذمت نہیں کی، جسے 'پیپلز پراٹیکشن یونٹس' کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا ترکی سخت مخالف ہے، اسی طرح، جیسے وہ پی کے کے کا مخالف ہے۔ ملیشیا، جسے کرد زبان میں 'وائی پی جی' کہا جاتا ہے، جو شام کی مضبوط 'کردش ڈیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) کا مسلح دھڑا ہے۔کردستان ورکرز پارٹی سے تعلق رکھنے والے شدت پسند گذشتہ 30 سالوں سے ترک حکومت کے خلاف لڑتے آئے ہیں، جس کا مقصد جنوب مشرقی ترکی کی کرد اکثریت والے علاقے کے لیے خودمختاری کے حصول کی لڑائی ہے۔ پی کے کے شمالی عراق میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں متحرک ہیں، جسے امریکی فضائی امداد حاصل ہے۔داؤداوگلو نے دسمبر میں ترکی کی جانب سے عراق میں فوج کی متنازع تعیناتی کا دفاع کیا، جس کے باعث عراق میں عراقی رہنماؤں نے بارہا احتجاج کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترکی عراق کی سلامتی کا حامی ہے اور یہ کہ اس کی فوجیں داعش کے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔بائیڈن نے کہا ہے کہ انھوں نے داؤداوگلو کے ساتھ بات چیت کی ہے آیا ترکی کس طرح شام میں سنی عرب افواج کی مدد کر سکتا ہے، جو داعش کے خلاف لڑائی اور شامی صدر بشارالاسد کو ہٹانے کے لیے نبردآزما ہیں۔ دولت اسلامیہ عراق اور شمالی شام کے ایک وسیع رقبے پر قابض ہے، جب کہ اس نے رقہ کے شہر کو اپنی خودساختہ 'خلافت ' کا دارالحکومت قرار دیا ہوا ہے۔ امریکہ سیاسی حل کا حامی ہے، تاکہ شام میں تقریبا پانچ برس سے جاری لڑائی کا خاتمہ کیا جاسکے۔ تاہم، بائیڈن نے کہا کہ امریکہ 'ہر طرح سے تیار ہے۔ اگر اس کا فوجی حل ممکن نہیں، اور جب تک داعش کا صفایا نہیں ہو جاتا۔


مشرقی افغانستان میں فضائی حملوں میں داعش کے 16 جنگجو ہلاک

کابل ۔ 24 جنوری (فکروخبر/ذرائع)) مشرقی افغانستان میں فضائی حملوں میں داعش کے 16 جنگجو ہلاک ہوگئے، قندھار میں بارودی سرنگیں نصب کرنے والے دو دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا گیا، عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اپنے تین افغان جنگجوؤں کو ہلاک کردیا۔ افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق مشرقی صوبہ ننگر ہار میں فضائی حملے میں شدت پسند تنظیم داعش کے 16 ارکان ہلاک ہوگئے۔ حکام نے بتایا کہ یہ فضائی حملے ضلع آچین کے علاقوں عبدالخیل ، بندر اور ضلع ہسکامینا کے علاقے گرجوری میں کئے گئے جس میں قاری وہاب نامی کمانڈر سمیت 16 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔ ان کارروائیوں میں داعش کے اسلحہ اور گولہ بارود کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ افغانستان میں گزشتہ چند ماہ سے داعش کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ادھر قندھار میں افغان حکام نے دو دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ل افغان حکام نے بتایا کہ دونوں افراد کو قندھار میں بارودی سرنگیں نصب کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ دونوں افراد کا تعلق اس گروپ سے ہے جس نے حال ہی میں قندھار میں متعدد حملے کئے۔دریں اثناء عراق میں شدت پسند تنظیم داعش نے دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے تین افغان کمانڈروں کو قتل کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں افغان کمانڈروں کو بغداد سے 405 کلومیٹر دور شمالی شہر موصل میں گولی مار کر ہلاک کردیا۔ عراقی حکام کے مطابق ان افراد کو شام سے فرار ہونے کے جرم میں یہ سزا دی گئی ہے۔ 


سعودی نائب ولی عہد کی برطانیہ کے نائب ڈیفنس چیف سے ملاقات، انسداد دہشتگردی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال

ریاض ۔ 24 جنوری (فکروخبر/ذرائع)) سعودی عرب کے نائب ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے گزشتہ روز ریاض میں برطانیہ کے نائب ڈیفنس چیف سٹیورڈ پیچ سے ملاقات کی ۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملاقات میں انسداد دہشتگردی سے متعلق معاملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان فوجی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ ملاقات میں انسداد دہشگردی کے شعبوں میں تعاون سے متعلق امور کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔