Live Madinah

makkah1

dushwari

شمالی عراق میں عربوں کے ہزاروں مکانات مسمار(مزید اہم ترین خبریں)

کرد فورسز نے داعش سے بازیاب علاقوں میں مکانوں کو دھماکوں سے اڑا دیا، ایمنسٹی انٹرنیشنل 

بغداد۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)عراق کے تین شمالی صوبوں سے عربوں کو نکال باہر کرنے کے لیے کرد فورسز نے ان کے ہزاروں مکانوں کو مسمار کردیا ہے۔اس بات کا انکشاف انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کیا ہے۔تنظیم کاکہنا ہے کہ کرد فورسز نے داعش کے زیرقبضہ علاقوں پرکنٹرول کے بعد یہ تباہی پھیلائی ہے۔کرد فورسز نے امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں کی مدد سے داعش کو عراق کے بعض شمالی علاقوں سے نکال باہر کیا اور ان پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایمنسٹی کے بیان کے مطابق کردستان کی علاقائی حکومت کے تحت البیشمرکہ فورسز اور کرد ملیشیاں نے شمالی عراق میں داعش کی حمایت کے شبے میں انتقاما ہزاروں مقامی افراد کے مکانوں کو بلڈوزوں سے مسمار کردیا ہے یا دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔ایمنسٹی کی مشیر ڈونیٹیلا رویرا نے بیان میں کہا ہے کہ ''عراق کے خود مختار علاقے کردستان کی فورسز نے عرب آبادیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کی مہم تیز کررکھی ہے۔وہ شہریوں کو زبردستی دربدر کررہے ہیں اور جان بوجھ کر کسی فوجی جواز کے بغیر مکانوں اور املاک کو تباہ کررہے ہیں۔ان کی یہ کارروائیاں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں''۔داعش اور عراقی فورسز کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے عربوں کو ان کے گھروں میں واپس آنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے۔ایمنسٹی نے عراق کے تین شمالی صوبوں نینوی ،کرکوک اور دیالا میں کرد فورسز کی عربوں کو زبردستی بے گھر کرنے اور بڑے پیمانے پر ان کے مکانوں کو مسمار کرنے کے واقعات کے دستاویزی ثبوت فراہم کیے ہیں۔لندن میں قائم انسانی حقوق کی علمبردار اس تنظیم نے اکتوبر میں شام میں کرد فورسز کی اسی قسم کی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ جاری کی تھی اور اس میں شامی کردوں کی خود مختار انتظامیہ پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزمات عاید کیے تھے۔اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کرد فورسز نے بلاجواز شہریوں کے مکانوں کو مسمار کردیا تھا اور ان کے مکینوں کو زبردستی بے گھر کردیا تھا۔ شام کی کرد ملیشیا کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی)نے تب ان الزامات کو مسترد کردیا تھا لیکن منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ چند ماہ قبل داعش سے واپس لیے گئے ایک قصبے میں لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں اپنے چار جنگجووں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔


شام کے بحران کا فوجی حل ممکن نہیں،جواد ظریف

میزائل پروگرام پرامریکی پابندیاں حیران کن ہیں

ڈیوس۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ شام کا بحران بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،اس کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے سے تباہ شام مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے تہران شام کے بحران کو سیاسی اور سفارتی مساعی سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ڈیوس میں منعقدہ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ شام کا بحران صرف بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔اس موقع پر جواد ظریف نے تہران کے میزائل پروگرام پر امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کو عجیب اور حیران کن قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر حیران ہیں کہ امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام پر تشویش کا اظہا کیوں کیا ہے حالانکہ ہمارا میزائل پروگرام عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔


اسرائیل غربِ اردن میں مزید فلسطینی اراضی ہتھیانے کو تیار

اراضی کو ریاست کی ملکیت قرار دینے کا عمل آخری مراحل میں ہے،اسرائیلی وزارت دفاع

مقبوضہ بیت المقدس۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں واقع فلسطینیوں کی مزید اراضی ہتھیانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور وہ ڈیڑھ سو ہیکٹر رقبے کو ریاستی اراضی قرار دینے والا ہے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر اسرائیل اس فلسطینی اراضی پر قبضہ کر لیتا ہے تو 2014 کے بعد ہتھیایا گیا یہ ایک بڑا زمینی ٹکڑا ہوگا اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔یہ زرعی اراضی وادی اردن میں الریحا کے جنوب میں واقع ہے۔اسرائیل کی فلسطینی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کی مخالف تنظیم ''اب امن'' (پیس نو)کے مطابق اسرائیل نے2014 میں چار سو ہیکٹر فلسطینی اراضی پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد اب یہ اتنا بڑا رقبہ ہتھیایا جارہا ہے۔غربِ اردن میں شہری امور کے نگران اسرائیلی وزارت دفاع کے یونٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس اراضی کو ریاست کی ملکیت قرار دینے کا عمل آخری مراحل میں ہے لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے کہ اس وقت اس اراضی کا مالک کون ہے؟''اب امن'' کا کہنا ہے کہ اسرائیلی آباد کاروں نے برسوں قبل یہ اراضی کاشت کاری کے لیے حاصل کی تھی۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ اراضی یہودی آبادکاروں کی بستی آلموغ کے شمال میں واقع ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں غربِ اردن میں اسرائیل کے فلسطینی اراضی پرقبضے کے خلاف فلسطینی قیادت،انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی برادری کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔فلسطینی غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں میں مستقبل میں اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہوگا لیکن ان کے علاقوں پر قبضے سے تنازعے کے مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کی راہیں مسدود ہوتی جارہی ہیں۔''اب امن'' نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے مسلسل فلسطینی زمین پر قبضہ ایک سفارتی المیہ ہے۔حکومت کا فیصلہ دوریاستی حل کے امکان کو تباہ کرنے کی جانب ہی ایک قدم ہے''۔اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون کے دفتر نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔


شامی اپوزیشن کی اسد حکومت سے مذاکرات کے لیے ٹیم مقرر

حزب اختلاف کی کونسل تیسرے فریق کی موجودگی میں مذاکرات میں شرکت سے انکاری

ریاض۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)سعودی عرب کی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کی کونسل نے آیندہ ہفتے صدر بشارالاسد کی حکومت سے مذاکرات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے لیکن اس نے کسی تیسرے فریق کی موجودگی میں مذاکرات میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے۔کونسل کا اشارہ بشارالاسد کے اتحادی روس کی جانب ہے۔گذشتہ ماہ سعودی دارالحکومت الریاض میں قائم ہونے والی کونسل کے سربراہ ریاض حجاب نے گزشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں روس پر مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکانے کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب شامی محاصرے اور بمباری کے نتیجے میں مررہے ہیں تو حزب اختلاف مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتی ہے۔انھوں نے کونسل کی جانب سے مذاکرات میں حصے لینے والی اپوزیشن کی شخصیات کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ان میں باغی گروپ جیش الاسلام کی سیاسی شخصیت محمد علوش بھی شامل ہیں۔دمشق اور ماسکو نے اس گروپ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔حزب اختلاف کی ایک نمایاں شخصیت اسعد الزوبی کو مذاکراتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ٹیم میں جارج صبرہ بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ جیش الاسلام کے جنگجو شام کے مغربی علاقوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑرہے ہیں اور اس کو شام کے بڑے باغی گروپوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس کے سربراہ زہران علوش 25 دسمبر کو ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔جارج صبرہ کا کہنا ہے کہ صرف کونسل کو مذاکرات میں شرکت کے لیے حزب اختلاف کے نمائندوں کے انتخاب کا حق حاصل ہے اور روس جیسے ممالک کو اس پر معترض ہونے یا اپوزیشن کی مجوزہ ٹیم کے ارکان کی تعداد بڑھانے یا اپنی جانب سے کوئی نام شامل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔


دولت اسلامیہ نے موصل میں عیسائی خانقاہ مسمار کر دی

موصل۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے عراق میں تاریخی عیسائی خانقاہ کو تباہ کر دیا ہے۔یہ خانقاہ 1400پرانی تھی اور عراق کے شمالی شہر موصل کی پہاڑی پر واقع تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ملنے والی سیٹیلائٹ تصاویر سے لگتا ہے کہ اس خانقاہ کو دولت اسلامیہ نے 2014 کے آخر میں اس وقت تباہ کیا تھا جب اس نے موصل پر قبضہ کیا تھا۔موصل میں موجود ایک کیتھولک پادری کا کہنا ہے کہ عیسائی تاریخ کو وحشیانہ طور پر تباہ کیا گیا۔یاد رہے کہ دولت اسلامیہ نے کئی خانقاہوں اور گرجا گھروں کو مسمار کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس شدت پسند تنظیم نے عراق میں نمرود، حضر اور نینوا جبکہ شام میں پلمائرہ میں آثارِ قدیمہ کو تباہ کیا ہے۔اس عیسائی خانقاہ کو چھٹی صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔


طالبان نے اپنے زیر اثر صوبے میں خاتون پر حملے کو ’غیر اسلامی‘ قرار دیا ہے ٗغیر ملکی میڈیا 

کابل۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع) افغان طالبان نے صوبہ فریاب میں اپنی بیوی کا ناک کاٹ کر فرار ہونے والے شخص محمد خان کی تلاش شروع کر دی۔متاثرہ خاتون کی آن لائن تصاویر پر سوشل میڈیا پر اٹھنے والے شور کے بعد طالبان نے اپنے زیر اثر صوبے میں خاتون پر حملے کو ’غیر اسلامی‘ قرار دیا ہے۔خان اپنی 20 سالہ بیوی ریضا گل پر پاکٹ چھری سے حملے کے بعد فرار ہے۔ علاقے کے مقامی افراد کے مطابق خان ترکمانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں کہیں چھپا ہوا ہے۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ خان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ جان سکیں کہ اس نے کس وجہ سے یہ حرکت کی۔مقامی طالبان عہدے دار نور محمد نے حملے کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا گروپ اس واقعہ پر سخت برہم ہے۔


افغانستان ٗروسی سفارتخانے کے قریب خود کش دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 24ہوگئی 

ہلاک ہونے والوں میں زیادہ عام شہری ہیں ٗ افغان حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی 

کابل۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خود کش دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 24ہوگئی گزشتہ روزافغانستان کے دارالحکومت کابل میں خودکش کار دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چوبیس ہوگئی ٗپچاس سے زائد افراد زخمی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری کار کابل میں قائم روسی سفارتخانے کے باہر سویلین بس کے قریب دھماکے سے اڑا دی۔ جس سے سفارتخانے کے دروازے پر کھڑے سیکیورٹی اہلکاروں اور بس میں سوار مسافروں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ جہاں دوران علاج مزید تیرہ افراد جان کی بازی ہار گئے ادھر افغان حکام نے واقعہ میں ہلاک ہونیوالے چوبیس افراد کی موت کی تصدیق کردی ہے افغان حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ عام شہری ہیں 


عراق میں حکومتی حامی فورسز کے ہاتھوں نقصان کے باوجود داعش اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے ٗاقوام متحدہ

تمام فریقین شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں ٗ بان کی مون کے نمائندے کا بیان 

بغداد ۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)عراق کیلئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کے خصوصی نمائندے جان کیوبس نے کہا ہے کہ عراق میں حکومتی حامی فورسز کے ہاتھوں نقصان کے باوجود داعش اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جس سے ہزاروں شہری نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک بیان میں جان کیوبس نے تنازعے کے تمام فریقوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔انہوں نے عالمی برداری سے کہا کہ وہ داعش سے بازیاب کئے گئے علاقوں میں نقل مکانی کرنے والوں کو واپس لانے،انکی بحالی اورتعمرات کے سلسلے میں عراقی حکومت کی مدد کریں۔انہوں نے حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ امن امان کی صورتحال کو یقینی بنائیں۔دریں اثناء اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے کے بارے میں خبر دار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہاں لوگ پرتشدد کاروئیوں کے علاوہ خوراک ،پانی کی قلت اور صحت کی سہولتوں کے فقدان کے باعث بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔