Live Madinah

makkah1

dushwari

باچا خان یونیورسٹی پر حملہ، 25 افراد جاں بحق(مزید اہم ترین خبریں)

پروفیسرز، طالبات، گارڈز اور پولیس اہلکار جاں بحق ہونے والوں میں شامل

پاکستان:20جنوری(فکروخبر/ذرائع )پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر چارسدہ میں ایک یونیورسٹی میں حملہ کرنے والے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے۔رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اب تک کی معلومات کے مطابق 20 سے 25 افراد اس حملے میں جاں بحق ہوئے۔پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر  کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل عاصم باوجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر کہا کہ چار حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اب فوجی دستے عمارت کے ہر حصے کو کلیئر کر رہے ہیں اور اس وقت فائرنگ کی کوئی آواز نہیں آ رہی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق 4 سے 6 مسلح دہشت گرد باچا خان یونیورسٹی میں داخل ہوئی جس کے بعد وہاں سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔وزیراعظم نواز شریف نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو معصوم طالب عملوں اور عام شہریوں کو شہید کرتے ہیں اُن کا کوئی مذہب نہیں۔ اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کو دہرایا کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
بتایا جاتا ہے کہ حملے کے وقت یونیورسٹی میں تین ہزار سے زائد طلبا موجود تھے جب کہ یہاں قوم پرست رہنما باچا خان کے یوم پیدائش کے سلسلے میں ایک مشاعرے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔
16 دسمبر 2014ء کو چارسدہ سے ملحقہ خیبر پختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور میں آرمی پبلک اسکول طالبان دہشت گردوں کے حملے میں ایک سو سے زائد بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے اقدام کیے گئے تھے۔


پناہ گزینوں کا بحران‘’یورپ کے پاس زیادہ وقت نہیں‘اقوام متحدہ

بحیرہ روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہونیوالوں میں 49 فیصد کا تعلق شام اور 21 فیصد کا تعلق افغانستان سے ہے

اقوام متحدہ ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع )یورپی کمیشن پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والے افراد کا بوجھ یورپی یونین کے رکن ممالک میں منصفانہ طور پر بانٹنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔گذشتہ برس دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی یورپ آمد سے ایک بحران پیدا ہوا جس کے فوری خاتمے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے پاس اس معاملے پر قابو پانے کیلئے دو ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں ہے۔یورپی یونین کے موجود ڈبلن نظام کے تحت پناہ کے خواہشمند افراد کو اس یورپی ملک میں درخواست دینا ہوتی ہے جہاں وہ سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔تاہم یہ نظام گذشتہ برس اس وقت ناکامی کا شکار ہوگیا تھا جب اٹلی اور یونان کے ساحلوں پر پہنچنے والے پناہ گزینوں نے بنا رجسٹریشن شمالی یورپ کا رخ کر لیا تھا۔اس نظام کی ناکامی کے بعد تنظیم کے کچھ رکن ممالک نے اپنے طور پر سرحدی پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں۔بی بی سی کے نامہ نگار بین رائٹ کے مطابق یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلاڈ جنکر نے منگل کو کہا ہے کہ ’ڈبلن قوانین‘ کے جائزے کی تجاویز جلد ہی سامنے لائی جائیں گی۔کمیشن کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مختلف امکانات زیرِ غور ہیں جن کا مقصد ایک ایسے نظام کی تشکیل ہے جس کے تحت پورے براعظم میں پناہ گزینوں کی منصفانہ تقسیم ہو سکے۔یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر رواں برس مارچ تک اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو براعظم یورپ کے ممالک میں سفر کا ’شینگن‘ نظام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ادھر یورپی ملک ناروے نے اپنے ان نئے قوانین پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے جن کے تحت پناہ کے طالب ایسے افراد کو واپس بھیج دیا جائیگا جو کسی محفوظ ملک سے ناروے میں داخل ہوں گے۔اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں 13 پناہ گزینوں کو بذریعہ بس واپس روس بھیجا گیا ہے۔ناروے میں اس وقت ساڑھے پانچ ہزار پناہ گزین ایسے ہیں جنھیں روس بھیجا جانا ہے اور ان میں سے بیشتر کا تعلق شام سے ہے۔یہ افراد 2015 کے آخری چھ ماہ کے دوران ناروے پہنچے تھے۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا کہنا ہے کہ 2015 میں صرف سمندر کے راستے ہی دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزین یورپ پہنچے تھے۔ادارے کے مطابق ساڑھے آٹھ لاکھ تارکینِ وطن ترکی سے یونان میں داخل ہوئے جبکہ ڈیڑھ لاکھ افراد لیبیا سے بحیرہ روم عبور کے اٹلی پہنچے۔یو ین ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے والوں میں 49 فیصد کا تعلق شام سے جبکہ 21 فیصد کا تعلق افغانستان سے ہے۔اس مہلک سفر کے دوران 3700 سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔


سیاسی منافقین‘ اپنا رویہ ٹھیک کرلیں،ورنہ نتائج بھگتنا پڑیں گے،ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق

غز ہ ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع ) حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے فلسطین میں قومی مفاہمت کو سبوتاژ کرنیوالی قوتوں کو ’سیاسی منافقین‘ قرار دیتے ہونے ان سے اپنا رویہ درست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سیاسی منافقین اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ انہیں اس کے نتائج بھگتنا پڑینگے۔ایک بیان میں ڈاکٹر ابو مرزوق نے نام لئے بغیر ان قوتوں کوکڑی تنقید کا نشانہ بنایا جو ملک میں قومی مفاہمت کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی منافقت، قومی کو اندھیرے میں رکھنے کی پالیسی،غزہ کی پٹی کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کی حکمت عملی اور قومی اصولوں سے انحراف کرنے والوں کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ غیرذمہ دارانہ بیانات بھی فلسطینیوں کے درمیان نفاق کو فروغ دینے اور بے اتفاقی میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں۔ بعض اوقات اس نوعیت کے بیانات فتح کی قیادت کی جانب سے سامنے آتے ہیں قومی مفاہمت کے حوالے سے صرف بیان بازی تک محدود رہنے کے بجائے مفاہمتی معاہدوں پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے مگر مفاہمتی اور مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے خاموشی کی چادر کیوں اوڑھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کیساتھ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی تعاون اور سیاسی بنیادوں پر شہریوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کی پالیسی پرخاموشی بھی منافقت ہے۔ پوری قوم جانتی ہے کہ کون سے عناصر فلسطین میں قومی مفاہمت کی راہ روک رہے ہیں۔ یہ بات ریکارڈ پرموجود ہے کہ حماس نے قومی مفاہمت کیلئے سب سے زیادہ نہ صرف زور دیا بلکہ مصالحت کو کامیاب بنانے کے لیے سب سے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں۔ مگر دوسری جانب خوف اور ڈر کی وجہ سے قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کے بجائے صہیونی دشمن سے دست تعاون بڑھا جا رہا ہے۔


اسرائیلی آرمی چیف کا نہتے فلسطینیوں کے سامنے فوج کی بے بسی کا اعتراف

مقبوضہ بیت المقدس ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع ) اسرائیلی آرمی چیف نے نہتے فلسطینیوں کے سامنے اپنی فوج کی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ طاقت کے استعمال کے باوجود فوج فلسطینیوں کو فدائی کارروائیوں سے روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔اسرائیلی عبرانی اخبار نے آرمی چیف جنرل آئنز کوٹ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز فلسطینیوں کے چاقو حملوں کے سامنے بے بس ہوگئی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کے باوجود فلسطینیوں کو مزاحمتی کارروائیوں اور فدائی حملوں سے روکنے میں ناکام رہی ہیں۔اسرائیلی اخبار کے مطابق ایک سال قبل مسلح افواج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے والے جنرل آئنزکوٹ نے پہلی بار فلسطینی شہریوں کی مزاحمتی کارروائیوں کے سامنے اپنی بے بسی اور ناکامی کا برملا اعتراف کیا ہے۔ اخبار کے مطابق آرمی چیف کا فلسطینی مزاحمتی کاروں سے متعلق بیان اور فوج کی ناکامی کا اعتراف نہایت اہمیت کا حامل ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت روکنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔اسرائیلی آرمی چیف نے تسلیم کیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے بھی فلسطینیوں کی مزاحمتی کارروائیوں کی روک تھام کیلئے کوئی موثر حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکے ہیں۔جنرل آئزنکوٹ نے حماس کی عسکری صلاحیت میں بے پناہ اضافے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں سرنگوں کی کھدائی کیساتھ اپنے میزائل سسٹم کو بھی پہلے سے بہت بہتر اور طاقت بنا دیا ہے۔ 


یرموک کیمپ کا محاصرہ جاری، فاقہ کشی سے 184 فلسطینی پناہ گزین شہید

دمشق ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع ) شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پرنظر رکھنے والے ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں قائم فلسطینی پناہ گزین کیمپ’یرموک‘ میں سرکاری فوج کے محاصرے کے نتیجے میں فاقہ کشی کے باعث 184 فلسطینی پناہ گزین شہید ہوچکے ہیں۔ شام میں انسانی حقوق کی صورتحال کی مانیٹرنگ کرنیوالے ادارے’شام فلسطین ایکشن گروپ‘ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یرموک پناہ گزین کیمپ میں پچھلے کئی ماہ سے جاری محاصرے کے نتیجے میں 21 بچوں سمیت 163 فلسطینی پناہ گزین شہید ہوچکے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یرموک پناہ گزین کیمپ میں فاقہ کشی کے نتیجے میں لقمہ اجل بننے والے فلسطینیوں میں 61 خواتین اور 123 مرد بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یرموک پناہ گزین کیمپ میں انسانی ضرورت کی بنیادی اشیا ء کا قحط ہے۔ خوراک اور ادویات کا نام و نشان تک نہیں۔ بچے دودھ سے محروم ہیں۔ کیمپ میں انسانی صحت کا شعبہ بدترین المیہ کا سامنا کررہا ہے اور شہریوں میں جسمانی امراض کے ساتھ نفسیاتی عوارض بھی جنم لے رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یرموک پناہ گزین کیمپ کا شام کی سرکاری فوج کی جانب سے 920 دنوں سے محاصرہ جاری ہے۔ امدادی اداروں کی جانب سے خوراک کی فراہمی کی کوششوں کوبھی ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ شہری ایک ایک کلو کی خوراک کے پیکٹ کے حصول کیلئے دن بھرقطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔ مقامی شہری زندگی سے اس قدر نالاں ہیں کہ وہ زندگی پر موت کو ترجیح دینے لگے ہیں۔


صہیونی فوج نے العراقیب قصبہ 93 ویں بار مسمار کردیا

سینکڑوں فلسطینی سخت موسم میں کچی جھونپڑیوں سے بھی محروم ہوگئے

مقبوضہ بیت المقدس ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع )فلسطین کے 1948 ء میں اسرائیلی قبضے میں آنیوالے جزیرہ نما النقب کے عرب دیہاتوں کیخلاف قابض صہیونی فوج کے مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ 4 سال سے اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا نشانہ بننے والا العراقیب گاؤں 93 ویں مرتبہ مسمار کردیا گیا۔اطلاعات کے مطابق العراقیب گاؤں کی تازہ مسماری کی کارروائی گزشتہ روز کی گئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوج، پولیس اور سپیشل فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں نے بھاری مشینری اور بلڈوزروں کی مدد سے شہریوں کے مکانات کی مسماری شروع کی اور سینکڑوں فلسطینیوں کو ایک مرتبہ پھر سخت موسم کے باوجود ان کی کچی جھونپڑیوں سے بھی محروم کردیا گیا۔مقامی شہریوں نے بتایا کہ گاؤں کا محاصرہ کرنیوالے اسرائیلی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے گن پوائنٹ پرخواتین اور بچوں کو ان کی جھونپڑیوں سے نکال دیا جس کے بعد ان کے کچے گھروندوں کو ان میں موجود سامان سمیت ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔العراقیب سے فلسطینی ذرائع نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی ملٹری پولیس اور شہری انتظامیہ کے سینکڑوں اہلکاروں نے العراقیب قصبے پر یلغار کی۔ صہیونی حکام نے بلڈوزروں کی مدد سے فلسطینیوں کے کچے مکانات اور جھونپڑیاں مسمار کردیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں خواتین اور بچے صہیونی مظالم کے بعد ایک مرتبہ پھر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے اور عالمی برادری سے مدد کے منتظر ہیں۔ 


اسیران کے وظائف روکے جانے کیخلاف فلسطینی سپریم کورٹ میں درخواست دائرکردی گئی

رام اللہ ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع )فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سابق فلسطینی اسیران کے ماہانہ وظائف روکے جانے کیخلاف فلسطینی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ سابق اسیران کیلئے جاری وظائف کو بحال کرنے کیلئے عدالتی حکم نامہ جاری کرے۔گزشتہ روز اسرائیلی جیلوں میں قید رہنے والے فلسطینی شہریوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں دی گئی درخواست کو سماعت کیلئے منظور کرلیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلسطینی اسیران اوران کے اہل خانہ کیلئے منظور کردہ وظائف روکنا قانون کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ فلسطینی قانون میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے اہل خانہ کی مالی مدد کو لازم قراردیا گیا ہے۔درخواست گذار سفیان جمجوم نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ان کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے اسے قانونی پہلو سے دیکھنے کی یقین کرائی ہے۔ عدالت کی جانب مخالف فریق فلسطینی وزارت خزانہ اور محکمہ امور اسیران سے جواب طلب کیا ہے۔سفیان جمجوم نے بتایا کہ 20 سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹی۔ اس کے باوجود فلسطینی اتھارٹی نے میرا ماہانہ وظیفہ بند کررکھا ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے 23 فروری کو حکام سے جواب طلب کیا ہے۔سابق فلسطینی نے رام اللہ اتھارٹی کی پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی سابق اسیران کے معاملے میں لاپرواہی اور عدم توجہی کیساتھ زیادتی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ فلسطینی اسیران کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے سابق اسیران کے روکے گئے وظائف فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ 


داعش کے ہاتھوں22 ماہ میں8ہزار اہلکاروں سمیت30ہزارعراقی شہری ہلاک ،30لاکھ بے گھر ہوئے،اقوام متحدہ 

نیویارک۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع) اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں عام شہریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری ہے اور جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 کے دوران تشدد کی اس لہر میں کم سے کم 18 ہزار آٹھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔گزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران 32 لاکھ افراد کو عارضی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی۔اقوام متحدہ نے عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کا ذمہ دار شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے 3500 خواتین اور بچوں کو غلام بنایا۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف دھڑوں میں شامل جنگجو، فوجیوں اور کرد افواج بھی مبینہ طور پر زیادتیوں میں ملوث رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اس بات کی تشریح کرتی ہے کہ عراق کے پناہ گزین یورپ اور دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اپنے آبائی علاقے میں انھیں شدید تشدد کا سامنا ہے۔اقوامِ متحدہ کے عراق میں مشن اور انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کی اس رپورٹ کی بنیاد نقل مکانی کرنے والے افراد اور تشدد کا شکار ہونے والوں کے انٹرویو ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 کے دوران مجموعی طور پر 18 ہزار 802 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 36 ہزار 245 افراد زخمی ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران عراق سے 32 لاکھ افراد کو عارضی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی۔عراق کے مشرقی صوبے انبار میں جہاں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا قبصہ ہے، وہاں حالات زیادہ خراب ہیں۔عراق میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے نصف سے زیادہ اموات بغداد صوبے میں ہوئیں اور عام شہریوں کو سب سے زیادہ ریموٹ کنٹرول بموں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ عراق میں عام شہریوں کی یہ اموات 2006 اور 2007 کے مقابلے میں بہت کم ہیں جب ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پر تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ منظم اور بڑے پیمانے پر تشدد اور انسانی حقوق کے بین الاقومی قوانین اور انسانیت کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔رپورٹ کے متن کے مطابق بعض اوقات تو یہ کارروائیاں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرم اور ممکنہ طور پر نسل کشی کے مترادف ہیں۔رپورٹ میں دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں قتلِ عام کو ہولناک قرار دیا گیا جس میں فائرنگ، سرقلم کرنا، زندہ جلانا اور اونچی عمارت سے نیچے پھینک کر عام شہریوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق موصل شہر سے دولتِ اسلامیہ نے نو سو بچوں کو مغوی بنانے کے بعد فوجی تربیت دی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور بچوں کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی اور تقریبا 3500 خواتین اور بچوں کو غلام بنایا گیا اور ان افراد کی اکثریت یزیدی اقلتیوں سے تعلق رکھتی ہے۔عراق میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے جان کیوبس کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی وجہ سے ہزاروں عراقی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور نقل مکانی کرنے والے افراد محفوظ پناہ کی تلاش میں ہیں۔مسٹر کیوبس نے عراقی افواج پر زور دیا کہ وہ ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں اور نقل مکانی کرنے والے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی کو یقینی بنائیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں 19 ہزار عراقی شہری ہلاک ہوئے۔ اس عرصے کے دوران 30 لاکھ عراقیوں کو بے گھر ہونا پڑا۔عراق کے لیے اقوامِ متحدہ کے مشن اور عالمی ادارے کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ میں عراقی شہریوں کو پیش آنے والی ان مشکلات اور مصائب کا احاطہ کیا گیا ہے جو 22ماہ کے عرصے کے دوران انہیں جھیلنا پڑیں۔رپورٹ عراق میں تشدد کا سامنا کرنے والوں اور پرتشدد واقعات کے عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے جس کے مطابق اس 22 ماہ کے عرصے کے دوران پرتشدد واقعات اور حملوں میں عراقی سکیورٹی فورسز کے بھی آٹھ ہزار اہلکار ہلاک ہوئے۔عالمی ادارے نے کہا ہے کہ عراق میں اس عرصے کید وران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بیان کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں عام شہریوں کو بدستور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس حوالے سے صورتِ حال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ شدت پسند تنظیم داعش بدستور عراق میں انسانی حقوق اور بنیادی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے اور منظم طریقے سے بڑے پیمانے پر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہے۔


داعش نے جہادی جان کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کر دی

لندن۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع)شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اپنے رسالے میں تصدیق کی ہے کہ برطانوی شدت پسند جہادی جان نومبر میں ہونے والے ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔دابق نامی آن لائن رسالے میں دولت اسلامیہ نے جہادی جان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا اصل نام محمد اموازی تھا۔نومبر میں امریکی فوج کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ شام میں امریکہ کے ایک فضائی حملے میں جہادی جان کے نام سے مشہور دولتِ اسلامیہ کا برطانوی شدت پسند محمد اموازی ہلاک ہو گیا ہے۔سنہ 2009 میں محمد اموازی نے تنزانیہ میں داخلے کی کوشش پر مگر پولیس نے انھیں روک لیا اور وہ برطاینہ لوٹ آئے۔ستمبر سنہ 2009 میں وہ برطانیہ سے کویت کام کے لیے گئے۔مئی یا جون کے دوران وہ آٹھ دن کے لیے برطانیہ واپس آئے۔ مگر جولائی میں جب انھوں نے دوبارہ کویت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انھیں اجازت نہ مل سکی یوں وہ برطانیہ واپس لوٹ آئے تاہم ہیتھرو ایئرپورٹ پر انھیں ویزے کی میعاد ختم ہونے پر روک لیا گیا۔سنہ 2013 میں جہادی جان نے محمد اموازی کے بجائے اپنا نام محمد ال آیان رکھ لیا اور پھر کویت جانے کی کوشش کی مگر میں انھیں ایک بار پھر پوچھ گچھ کے لیے روکا گیا۔کمشدگی کی اطلاع پر برطانوی پولیس کی جانب سے ان کے اہلِ خانہ کو سنہ 2013 میں بتایا گیا کہ وہ شام چلے گئے ہیں۔آن لائن رسالے میں کویت میں پیدا ہونے والے اموازی کو ابومغرب المہاجر کے نام سے پکارا گیا ہے۔دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ جہادی جان کو 12 نومبر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک نے کہا تھا کہ جہادی جان کی گاڑی کو شام کے علاقے رقہ میں نشانہ بنایا گیا تھا۔امریکہ نے اس وقت کہا تھا کہ اندازہ ہے کہ جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا اس میں جہادی جان کے علاوہ ایک اور شخص بھی موجود تھا۔محمد اموازی ان ویڈیوز میں موجود تھے جن میں امریکی صحافی سٹیون سوتلوف اور جیمز فولی، برطانیہ امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز اور ایلن ہیننگ، امریکی امدادی کارکن عبدالرحمن کیسگ اور بہت سے دیگر مغویوں کو ہلاک کرتے دکھایا گیا تھا۔تمام ویڈیوز میں جہادی جان سیاہ عبا پہنے دکھائی دیے جبکہ ان کے چہرے پر سیاہ نقاب تھا اور صرف ان کی ناک اور آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں بی بی سی کو یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ لگ بھگ 25 سالہ کویتی نژاد برطانوی شخص کا نام محمد اموازی ہے اور وہ مغربی لندن سے تعلق رکھتا ہے اور ان کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہے۔یہ بھی سامنے آیا تھا کہ برطانیہ کی سکیورٹی ایجنسیوں نے محمد اموازی پر ماضی میں نظر رکھی ہوئی تھی مگر آپریشنل وجوہات کی وجہ سے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی۔


تیل کے ذخائر تباہ ہونے پر داعش مالی بحران کا شکار،جنگجوؤں اور عملے کی تنخواہوں میں نصف کٹوتی کر دی

دمشق۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع)شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامیہ مالی بحران کا شکار،جنگجوؤں اور عملے کی تنخواہوں میں 50فیصد کمی کر دی۔عرب ٹی وی کے مطابق ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ دولتِ اسلامیہ نے اپنے جنگجوں اور دیگر ارکان کی ماہانہ تنخواہ نصف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔برطانیہ سے کام کرنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے یہ دعوی شدت پسند تنظیم کے ایک مبینہ بیان کی بنیاد پر کیا ہے جس میں ارکان کی تنخواہ کاٹنے کی بات کہی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم سے وابستہ ہر شخص کی تنخواہ میں کمی ہوگی چاہے وہ کسی بھی عہدے پر ہو۔عرب میڈیاکے مطابق دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں میں تیل کی تنصیبات پر فضائی حملوں کی وجہ سے ہونے والے اقتصادی نقصان نے ممکنہ طور پر شدت پسند تنظیم کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔