Live Madinah

makkah1

dushwari

افغانستان: خود کش حملے میں 13 افراد ہلاک(مزید اہم ترین خبریں)

حملے میں قبائلی جرگے کو نشانہ بنایا گیا

جلال آباد ۔ افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں اتوار کے روز ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم سے کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔العربیہ کے مطابق پولیس حکام کے مطابق یہ خود کش بم حملہ ایک مقامی قبائلی لیڈر عبداللہ شینواری کے گھر پر کیا گیا جہاں مقامی عماید کا جرگہ جاری تھا۔ صوبہ ننگر ہار کی صوبائی کونسل کے ترجمان کے ذبیح اللہ زمرئی نے بتایا کہ خود کش حملے میں تیرہ افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو جلال آباد کے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ خود کش حملے میں عبداللہ شینواری محفوظ رہے۔آخری اطلاعات تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔


کوموروز نے بھی ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرلیے

تعلقات ختم کرنے کی وجہ ایران کا سعودی عرب کے ساتھ جارحانہ رویہ بتایا گیا 

مورونی۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع )بحر ہند میں واقع جزائر پر مشتمل ملک کوموروز نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کوموروز نے بھی ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے ٗ تعلقات ختم کرنے کی وجہ ایران کا سعودی عرب کے ساتھ جارحانہ رویہ بتایا گیا ہے۔ کوموروز کی وزارت خارجہ کے مطابق ایران سعودی عرب کے داخلی معاملات میں مداخلت کا مرتکب ہوا ہے۔دارالحکومت مورونی میں وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل احمد حمادی کے مطابق ایرانی سفیر کو اپنا دفتر خالی کرنے کی ہدایت کر دی گئی بحر ہند میں واقع جزائر کوموروز ا?ٹھ لاکھ آبادی والا ملک ہے۔ 


افغانستان ٗاٹلی کے سفارتخانے پر ایک راکٹ فائر ٗ ایک سکیورٹی گارڈزخمی 

واقعہ کے بعد سیکورٹی حکام اور فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کردیں

کابل۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع )افغان دارالحکومت کابل میں اٹلی کے سفارتخانے پر ایک راکٹ فائر کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک سیکورٹی گارڈ زخمی ہوگیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایک راکٹ اٹلی کے سفارتخانے کے کمپاؤنڈ میں آکر گرا ٗحکام نے راکٹ گرنے کے نتیجے میں ایک سیکورٹی گارڈ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ واقعہ کے بعد سیکورٹی حکام اور فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔


یمن میں خودکش دھماکے میں 10 افراد ہلاک ٗمتعدد افراد زخمی 

حملے میں سکیورٹی چیف شلال شئی محفوظ رہے ٗسات گاڑیاں جل گئیں 

صنعاء۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع) یمن میں خودکش دھماکے میں 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک کار سوار خودکش حملہ آور نے عدن کے سکیورٹی چیف کے گھر کے باہر اپنی کار کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے تباہی پھیل گئی تاہم اس حملے میں سکیورٹی چیف شلال شئی محفوظ رہے۔ دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی اور پاس کھڑی سات دوسری گاڑیاں بھی جل کر تباہ ہو گئیں ٗامدادی کارکنوں نے موقع پر پہنچ کر اپنی کارروائیاں شروع کر دیں۔


مغربی کنارہ ٗ فلسطینی نوجوان نے چاقو کے وار سے صیہونی خاتون کو موت کے گھاٹ اتاردیا

الخلیل ۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع ) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میںیہودی کالونی کے قریب ایک نامعلوم فلسطینی چاقو بردار کے چاقو کے وار سے ایک صہہونی خاتون کوہلاک کردیا گیا ہے۔اسرائیلی نیوز ویب پورٹل 0404 نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ روز ایک فلسطینی چاقو بردار نے چاقو کے بے درپے وار کرکے ایک 30 سالہ یہودی خاتون کوشدید زخمی کردیا تاہم اسپتال پہنچانے سے قبل ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آور کارروائی کے بعد بہ حفاظت جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا۔اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ جس یہودی خاتون کو چاقو سے قتل کیا گیا اس کے قریب ہی تین یہودی بچے بھی موجو تھے مگر فلسطینی حملہ آور نے یہودی بچوں کو نقصان نہیں پہنچایا۔ویب پورٹل کی رپورٹ کے مطابق عتنائیل یہودی کالونی کے تمام آباد کاروں کو تا اطلاع ثانی گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسرائیلی پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہودی خاتون پرحملہ کرنے والا فلسطینی اس علاقے میں کوئی اور کارروائی بھی کرسکتاہے۔ اسرائیلی فوج نے واقعے کے بعد تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا تھا تاہم کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔خیال رہے کہ پچھلے سال اکتوبر کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں میں 28 صہیونی ہلاک اور چار سو کیقریب زخمی ہوئے ہیں جب کہ صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں 162 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ شہدا میں 7 خواتین اور 30 بچے شامل ہیں۔


فلسطینی صدر محمود عباس کا دورہ بیت لحم ٗ صحافتی برادری کا کوریج سے انکار 

بیت لحم۔18جنوری( فکروخبر/ذرائع )فلسطینی صدر محمود عباس کے دورہ بیت لحم کے موقع پر صحافتی برادری نے ان کے دورے کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے جب تک صدر پچھلے ایک پروگرام میں صحافیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک پر معذرت نہیں کریں گے ان کے کسی بھی پروگرام کی میڈیا کوریج نہیں کی جائے گی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی پریس یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر عباس آج سوموار کو مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں الارمن برادری کے مذہبی تہوار میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں جہاں ذرائع ابلاغ کو ان کی سرگرمیوں کی کوریج کی دعوت دی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے کی صحافتی برادری نے فلسطینی صدر کے دورہ بیت لحم کا بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ حال ہی میں وہ اسی شہرمیں ہونے والے روم آرتھوڈوکس کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تو اس موقع پر صحافیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا گیا تھا۔بیان میں کہاگیا ہے جب تک صدر عباس خود صحافیوں کے ساتھ روا رکھے گئے ناپسندیدہ طرز عمل پر معافی نہیں مانگیں گے بیت لحم میں ان کی کوریج نہیں کی جائے گی۔


سوڈان کے فلاحی ادارے نے اسرائیل سے تعلقات کا الزام مسترد کردیا

خرطوم۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع )سوڈان میں فلسطینیوں کی حمایت میں سرگرم ایک فلاحی تنظیم نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعوی کیا گیا ہے کہ تنظیم کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ روابط بھی قائم ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین۔ سوڈان بھائی چارہ آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں سوڈان کے وزیرخارجہ کے نام منسوب بیان میں جو دعوی کیا گیا ہے وہ قطعی بے بنیاد ہے۔ وزیرخارجہ کی جانب سے تنظیم پر اسرائیل سے تعلقات کے قیام کا جو الزام عاید کیا گیا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی بہبود کے لیے کام کرنے پاداش میں تنظیم کو انتقامی پالیسی کا نشانہ بنانے کی گھنانی سازش کی جا رہی ہے۔ تنظیم اسرائیلی حکومت یا کسی بھی صہیونی ادارے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ صہیونی ریاست سے تعلقات کی خبریں محض جھوٹ اور منفی پروپیگنڈے کاحصہ ہیں۔فلسطین۔ سوڈان بھائی چارہ فانڈیشن کا کہنا ہے کہ اگر تنظیم کے اسرائیل کے ساتھ روابط یا تعلقات کے ثبوت موجود ہیں توانہیں سامنے لایا جائے۔ ورنہ الزام تراشی کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔


انتفاضہ القدس ٗ غزہ میں 25فلسطینی شہید، 1400 زخمی ہوئے ٗرپورٹ

غزہ۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع )فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یکم اکتوبر 2015 کے بعد سے فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ میں غزہ کی پٹی کے عوام بھی حسب معمول ہرطرح کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ پچھے ساڑھے تین ماہ کے عرصے میں جہاں بڑی تعداد میں مغربی کنارے کے شہریوں کو شہید کیا گیا وہیں غزہ کی پٹی کے 25 شہریوں کو بھی شہید اور 1400 کو زخمی کیا گیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تحریک انتفاضہ کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے براہ راست گولیاں ماری گئی تھیں۔ اسپتالوں میں لائے گئے شہدا کے جسد خاکی سے پتا چلتا تھا کہ صہیونی فوجیوں نے انہیں شہید کرنے کی نیت سے گولیاں ماریں کیونکہ بیشتر شہدا کے بالائی جسم بالخصوص سر،گردن، سینے اور چہرے پر گولیاں ماری گئی تھیں۔ نیز فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے عالمی سطح پر ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینی مظاہرین پرحملوں کے علاوہ قابض فوجیوں نے دانستہ طورپر کئی بار کھیتوں میں کاشت کاری میں مصروف فلسطینیوں کو بھی اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد کسان بھی شہید ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ فلسطین میں پچھلے سال اکتوبر کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ میں اب تک 160 فلسطینی شہید اور 27 صہیونی ہلاک ہوچکے ہیں۔ صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں 16 ہزار سے زاید فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ شہادتیں مغربی کنارے میں ہوئی ہیں۔



لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑیں گے ٗ خالد مشعل

دوحہ۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع )اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ ان کی جماعت لبنان میں مشکلات کا شکار فلسطینی پناہ گزینوں کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑے گے۔ انہوں نے لبنان میں مقیم فلسطینی پناہ گزینوں منصفانہ بنیادوں پران کے حقوق فراہم کرنے پر زور دیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق گذشتہ روز لبنان میں حماس کے مندوب علی برکہ کی قیادت میں جماعت کے ایک وفد نے دوحہ میں خالد مشعل سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر خالد مشعل نے جماعت کے قائدین کو ہدایت کی کہ وہ لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لییکوئی کسر باقی نہ چھوڑیں۔خالد مشعل کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی اونروا کی جانب سے فلسطینی مہاجرین کے معاملے میں لاپرواہی کی خبریں آ رہی ہیں مگر ہم فلسطینی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اونروا کی جانب سے لبنان میں صحت اور دیگر شعبوں میں اپنی خدمات محدود کرنے کا اعلان قابل قبول نہیں ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کو طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے حماس ہرقدم اٹھائے گی۔اس موقع پر لبنان میں حماس کے مندوب علی برکہ نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں نے اونروا کی جانب سے اعلانات کو مسترد کریا ہے۔ ہماری تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی اونروا پناہ گزینوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی۔


یمن میں ڈایریکٹر سکیورٹی کی رہائش گاہ خود کش کار بم دھماکے سے تباہ،20افراد ہلاک،متعدد زخمی

صنعا۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع)یمن میں ڈایریکٹر سکیورٹی کی رہائش گاہ خود کش کار بم دھماکے سے تباہ،20افراد ہلاک،متعدد زخمی،جنرل شلال علی شائع حملے میں محفوظ رہے،مرنے والوں میں اکثریت محافظوں کی ہے،خود کش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی گھر کے باہر کھڑی بکتر بند گاڑی سے ٹکرائی،قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔عرب ٹی وی کے مطابق یمن کے جنوبی علاقے عدن کے سلامتی سے متعلق امور کے ڈائریکٹر کی رہائش گاہ پر ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم 20 افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کا نشانہ بننے والے بیشتر راہ گیر اور عام شہری شامل ہیں جو ان کی رہائش گاہ کے قریب سے گذر رہے تھے۔یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسیسبا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عدن کے سیکیورٹی ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل شلال علی شائع کی رہائش گاہ پر دھماکہ اس وقت ہوا جب وہ گھر پر موجود تھے تاہم وہ اس حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے ہیں۔ تاہم مرنے والوں میں ان کے محافظ شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ ایک خود کش کار بم حملہ تھا جس نے بارود سے بھری کار کے ذریعے دھماکہ کیا۔ بارود سے لدی کار کو ڈائریکٹر سیکیورٹی کی جولد مور کے مقام پر رہائش گاہ کے مرکزی دروازے کے سامنے کھڑی بکتر بند گاڑی سے ٹکرایا گیا جس کے نتیجے میں دھماکہ ہو گیا۔حملہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں یمنی سیکیورٹی عہدیدار کی رہائش گاہ سمیت آس پاس کی عمارتیں بھی لرز کر رہ گئیں۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ خود کش کار بمبار نے کار کو ساحلی علاقے جولد مور کے مام پر واقع بریگیڈیئر جنر شائع کی رہائش کے قریب دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ادھر ایک دوسری پیش رفت میں العربیہ کو اپنے ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اتحادی ممالک کی جانب سے عدن میں بکتر بند گاڑیوں، توپخانے اور دیگر انواع و اقسام کے اسلحہ کی بھاری کھیپ عدن پہنچا دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی سازوسامان البریقہ بندرگاہ پر کے قریب تیل صاف کرنے والے کارخانے میں بھی پہنچایا گیا ہے تاکہ عدن میں دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ادھر صنعا میں اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے باغیوں کے ٹھکانوں پر متعدد مقامات پر بمباری کی ہے۔ شمالی صنعا میں ھمدان کے جبل ضین اور الکسارہ کے مقامات پرحوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے۔ مشرق صنعا مین خون کے مقاب پر دارالحکومت اور مآرب گورنری کے درمیان رابطہ سڑک پر بھی بمباری کی گئی ہے۔


پناہ گزینوں کے روپ میں شام کے فوجی اہلکار بھی جرمنی میں موجود ہیں ،جرمن میڈیا کا دعویٰ

برلن۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع)جرمن میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی میں آنے والے شامی پناہ گزینوں میں صدر بشارالاسد کی فوج کے کئی اہلکار بھی شامل ہیں۔ پناہ کی درخواست دینے والے وہ فوجی عہدیدار بھی ہیں جو شام میں زیرحراست شہریوں اور جنگی قیدیوں کو اذیتیں دینے میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔جرمن ٹی وی RTL کی جانب سے نشر کی گئی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ جرمنی میں قائم کردہ پناہ گزین کیمپوں میں اسدی فوج کیجلاد کھلے عام بغیر کسی قانونی رکاوٹ کے بغیر گھوم پھر رہے ہیں۔ ٹی وی کی خاتون نامہ نگارانٹونیا راڈوز کا کہنا ہے کہ اس نے پناہ گزینوں کے مراکز میں خود ایسے عناصر کو دیکھا ہے جنہیں شامی اپوزیشن قاتل قرار دیتی رہی ہے۔ اب وہ پناہ گزینوں کی صفوں میں بھی گھسے ہوئے ہیں۔جرمن نیوز ویب پورٹلڈوئچے ویلے نے بھی اپنی رپورٹ میں جرمنی میں آنے والے پناہ گزینوں میں اسدی فوج کے اہلکاروں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرمنی پہنچنے والے لوگوں میں ایسے اہلکار بھی شامل ہیں جو کچھ عرصہ شام کی جیلوں میں قید رہے مگر اسدی فوج کے ساتھ تعاون کی وجہ سے ان کی سزائیں کم یا ختم کر دی گئی تھیں۔ بعض جیلوں قید تھے جو رہائی کے بعد فرار ہو کر جرمنی پہنچ آئے۔سماجی کارکنوں نے انٹرنیٹ پر ایسے عناصر کی تصاویربھی پوسٹ کی ہیں اور بتایا ہے کہ جرمنی اور دوسرے ملکوں میں آنے والے شامی پناہ گزینوں میں مہاجرین کی شکل میں مجرمین بھی پہنچ آئے ہیں۔مغربی اخبارات میں اس سے قبل بھی اس نوعیت کی خبریں منظرعام پر آتی رہی ہیں جن میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ یورپ میں پناہ لینے والے شامی شہریوں میں اسدی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کے ایسے عناصر بھی آ رہے ہیں جو شام میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ شامی پناہ گزینوں کے علاوہ پناہ کے متلاشیوں میں عراقی اور افغان باشندے بھی شامل ہیں۔