Live Madinah

makkah1

dushwari

دمشق کے علاقے مضایا میں قحط اور بھوک کے ڈیرے(مزید اہم ترین خبریں )

غذائی قلت سے بے حال شامی نونہال کی دل دہلا دینے والی ویڈیو

دبئی ۔07جنوری(فکروخبر/ذرائع )انسانی حقوق کے رضاکاروں نےشامی دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقے مضایا کے محصور اور بھوک سے متاثرہ شہریوں کو فوری امداد کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔الحدث ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دمشق کے نواحی علاقے مضایا میں بڑی تعداد میں مقامی آبادی اور آس پاس کے مہاجرین بدترین غربت اور بھوک کا شکار ہیں۔ مقامی شہری گھاس پھوس ، پتے سمیت کتوں اور بلیوں کا گوشت کھانے پر مجبور ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایک یاداشت پر دستخطی مہم شروع کی ہے جس میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مضایا کے متاثرین کی فوری امداد کو یقینی بنائے اور بھوک کےشکار شہریوں کی زندگیاں بچانے میں ان کی مدد کرے۔

سماجی کارکنوں نے متاثرین تک فوری امدادی سامان اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ مضایا میں موجود جنگجو گروپوں کو وہاں سے باہر نکالنے پر زور دیا ہے۔خیال رہے کہ حالیہ چند دنوں کے دوران میں مضایا میں غذائی قلت اور قحط جیسی صورتحال کے نتیجے میں 20 شامی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔


موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا شامی نونہال

درایں اثنا سماجی کارکنوں نے بھوک سے نڈھال ایک روتے بلکتے اور زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا کم سن بچے کی ویڈیو فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں معصوم نونہال کی دلدہلا دینے والی کیفیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ گوکہ یہ ایک بچے کی ویڈیو ہے مگرشام میں ایسے لاکھوں افراد موجود ہیں جو ہولناک جنگ کے ساتھ ساتھ بھوک و افلاس اور بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔دمشق کے مضافات میں مشرقی الغوطہ ایک ایسا مقام ہے جہاں گذشتہ تین برسوں سے محصور شہریوں کی بڑی تعداد بیرل بموں کے ساتھ ساتھ اسد نوا ز ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کے حملوں اور بھوک کی وجہ سے بھی جانیں دے رہے ہیں۔سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مشرقی الغوطہ اور الزبدانی پر حزب اللہ کے اجرتی قاتلوں اور اسد نواز فورسزنے کچھ عرصہ قبل حملہ کرکے یہاں کے شہریوں کو وہاں سے نکال دیا تھا۔ ان لوگوں پر عرصہ حیات اس لیے تنگ کردیا گیا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ وہ شامی باغیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور ان میں باغیوں کے اہل خانہ اور عزیز واقارب بھی موجود ہیں۔ اس لیے انہیں وہاں سے نکال باہر کیا جائے۔شامی فوج اور حزب اللہ کے حملوں کے باعث مقامی آبادی نقل مکانی کرتےہوئے قریب علاقے مضایا میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہوئے۔مضایا کے مقامی باشندے پہلے سے محاصرے کا شکار تھے۔ آس پاس کے علاقوں کی آبادی کی وہاں نقل مکانی کے بعد ان پرعرصہ حیات مزید تنگ کر دیا گیا۔حزب اللہ اور شامی فوج کی جانب سے مقامی آبادی کو جھکانے کے لیے ان پر سخت قسم کی شرائط عاید کی گئی جن کے بعد میں امدادی کارروائیوں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگریہ وعدہ ابھی تک ایفا نہیں کیا جا سکا ہے۔ مضایا میں رہنے والے ہر کنبے اور گھر میں موت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ اب تک درجنوں افراد بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اشیائے خور ونوش کی شدید قلت ہے اور بچوں کے لیے دودھ 100 ڈالر فی لٹر سے کم میں دستیاب نہیں ہے۔


اسرائیلی فوج کی غنڈہ گردی، مسجد ابراہیمی کے قریب سے فلسطینی خاتون گرفتار

الخلیل۔07جنوری(فکروخبر/ذرائع )قابض سرائیلی فوجیوں نے ریاستی غنڈہ گردی کرتے ہوئے الخلیل شہر میں مسجد ابراہیمی کے قریب سے 26 سالہ فلسطینی لڑکی کو حراست میں لیکر نا معلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ گرفتار کی گئی خاتون کی شناخت سھام فرج الفاخوری کے نام سے کی گئی ہے۔ الفاخوری کی گرفتاری چوکی نمبر 160 کے قریب سے عمل میں لائی گئی ہے۔ پچھلے تین ماہ میں اسرائیلی فوجیوں نے دسیوں فلسطینیوں کو تلاشی کی کارروائیوں میں حراست میں لیا ہے۔ اب بھی اسرائیلی جیلوں میں کم سے کم 40 فلسطینی خواتین پابند سلاسل ہیں جن کی بدتر معاشی حالت پرانسانی حقوق کے اداروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔قبل ازیں اسرائیلی فوجیوں نے تلاشی کی کارروائیوں میں 11 فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے بعد جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ 


فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کا اسرائیل کیساتھ دوبارہ دوستی بڑھانے کا عزم

بیت لحم ۔07جنوری(فکروخبر/ذرائع ) فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی کی بین الاقوامی گزرگاہ رفح کی بندش کی حمایت کرتے ہوئے اس کی بندش کا قصور وار حماس کو ٹھہرایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کی جانب سے قوم دشمنی پرمبنی یہ متنازع بیان گزشتہ روز سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مصر کو رفح کی گزرگاہ بندکرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ ان کے اس بیان پر فلسطین میں عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت غم وغصے کی لہردوڑ گئی ہے۔ صدر عباس نے بیت لحم شہر میں صدارتی دفتر میں تقریب سے خطاب کرتے کہا کہ غزہ کی پٹی کا بحران حل کرنے کیلئے فلسطینی تنظیموں نے جو تجاویز پیش کی ہیں تھیں اگرچہ ہمارے لئے قابل قبول نہ تھیں مگر ہم نے انہیں اس لئے بادل نخواستہ قبول کرلیا کیونکہ نے حماس کی جانب سے بھی بحران کے حل کیلئے غور کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ صدر عباس نے حماس پر کئی الزامات بھی عائد کئے اور کہا کہ رفح گزرگاہ کی بندش کی ذمہ دار حماس ہے کیونکہ حماس کی جانب سے رفح گذرگاہ کی مانیٹرنگ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے نہیں جس پرمصر کیساتھ بحران پیدا ہوا اس کے علاوہ حماس نے قومی حکومت کی تشکیل میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور فلسطین میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی بھی مخالفت کی ہے۔ دوسری جانب حماس نے صدر عباس کے تمام الزامات مسترد کردیئے۔ حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صدر عباس کے الزمات میں کوئی حقانیت نہیں ہے۔ وہ فلسطینی دشمنی پر مبنی بیانات جاری کررہے ہیں۔ صدر عباس نے اسرائیل کیساتھ ایک بار پھر دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ صہیونی ریاست کیساتھ بامقصد اور تعمیری بات چیت کی بحالی کیلئے کسی بھی وقت اور کہیں بھی جانے کو تیارہیں۔ صدر ابو مازن نے فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ کی بھی مخالفت کی اور دبے لفظوں میں تحریک انتفاضہ کو شدت پسندی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے زیرانتظام علاقوں میں شدت پسندی کے فروغ کی کسی کو اجازت نہیں دیگی۔ انہوں نے اسرائیل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کی بحالی کیلئے ان کی پیش کردہ تجاویز قبول کرے اور تعطل کاشکار بات چیت دوبارہ شروع کرنے کیلئے ماحول ساز گار بنایا جائے۔


تلاشی کی کارروائیوں کے دوران فلسطینی بچے کے سر میں گولی مار دی

بچہ تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل 

مقبوضہ بیت المقدس۔07جنوری(فکروخبر/ذرائع) فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں گھر گھر تلاشی کی کارروائی کے دوران قابض صہیونی فوجیوں نے ایک فلسطینی بچے کے سرمیں قریب سے گولی ماردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا ہے۔ زخمی بچے کو ہسپتال لے جایا گیا ہے جہاں اس کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔بیت المقدس میں العیسویہ قصبے کے مقامی سماجی کارکن اور فالو اپ کمیٹی کے رکن محمد ابو الحمص نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے قصبے میں گھروں میں تلاشی کاسلسلہ شروع کیا۔ اس دوران کچھ فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی فوج کی غنڈہ گردی، گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو زود کوب کرنے پرسخت احتجاج کیا۔ قابض فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کی شیلنگ کیساتھ ان پر دھاتی گولیوں سے بھی فائرنگ کی۔اس دوران قابض فوجیوں نے احمد توفیق ابو الحمص نامی لڑکے کے سر میں گولی ماردی۔ زخمی بچے کو سرجری کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ بدستور انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرعلاج ہے۔ 


اسرائیلی فوج نے غزہ کے ایک تاجر کو حراست میں لے لیا

غزہ۔07جنوری(فکروخبر/ذرائع )قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے مقبوضہ مغربی کنارے میں کاروباری مصروفیات کیلئے آنیوالے تاجر کو بیت حانون گذرگاہ سے گزرتے ہوئے ہوئے حراست میں لے لیا۔مقامی فلسطینی ذرائع کے مطابق صہیونی فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکارں نے غزہ کی پٹی سے شمالی علاقے میں بیت حانون گذرگاہ پہنچنے پر فلسطینی کاروباری شہری ماھر عبدالفتاح مشتہی کو حراست میں لے لیا۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی تاجر کو پانچ روز کیلئے حراست میں لیا گیا ہے تفتیش مکمل ہونے کے بعد اسے رہا کردیا جائیگا۔اسرائیلی فوجی غزہ کی پٹی کے مریضوں،طلباء اور کاروباری شخصیات کو بلیک میل کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ طلباء اور دیگر شہریوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی جاسوسی کریں تو انہیں غرب اردن میں آزادانہ آمدو ورفت کی اجازت ہوگی۔ مخبری سے انکاری شہریوں کو یا تو واپس غزہ بھیج دیا جاتا ہے یا انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔


فلسطینی اتھارٹی تمام جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت کی تشکیل کی راہ میں حائل رکاوٹیں دورے کرے، حماس

غزہ ۔07جنوری(فکروخبر/ذرائع ) حماس نے ایک بار پھر فلسطین میں مخلوط قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام فلسطینی سیاسی جماعتوں سے ہنگامی سیاسی اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔حماس ترجمان سامی ابو زھری نے اپنے ایک بیان میں فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں تمام نمائندہ فلسطینی قوتوں پر مشتمل قومی حکومت کی تشکیل کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے۔ فلسطین میں سیاسی جماعتوں کے خلاف جاری امتیازی سلوک پرمبنی پالیسی ترک کی جائے اور غزہ کی پٹی کے عوام کو مساوی حقوق فراہم کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ فلسطین میں قوم کی جانب سے دی گئی قربانیوں کے مطابق سیاسی فیصلے کیے جائیں۔ اس حوالے سے حماس کا اہم ترین مطالبہ یہ ہے کہ فلسطینی تھارٹی اسرائیلی ریاست کے ساتھ جاری فوجی تعاون ختم کرے۔حماس کے ترجمان نے کہا کہ فلسطین میں تمام جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل قومی حکومت کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کوسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی حکومت کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں قومی حکومت کی تشکیل کیلئے فضاء سازگار بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سامی ابو زھری نے کہا کہ فلسطین میں 2007 ء میں طے پائے سیاسی فارمولے کے مطابق مفاہمت کا عمل آگے بڑھایا جائے۔ 


لیبیا ،داعش حملوں میں کوسٹل ایکسپورٹ ٹرمینل پر تیل کے4 گودام جل گئے، 10 سیکیورٹی گارڈ ہلاک

طرابلس۔07جنوری(فکروخبر/ذرائع ) مشرقی لیبیا میں کوسٹل ایکسپورٹ ٹرمینل پر تیل کے 4 گوداموں میں داعش کے حملوں کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی ،حملے میں 10 سیکیورٹی گارڈز بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لیبیا کی نیشنل آئل کمپنی نے کہا ہے کہ داعش نے کوسٹل ایکسپورٹ ٹرمینل پر حملہ کیا تھا اور بعد میں سکیورٹی گارڈز اور حملہ آوروں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں 10 سکیورٹی گارڈز ہلاک ہوگئے ہیں۔


فلسطینی اتھارٹی موجود رہے گی ،کوئی اس کے خاتمے کا خواب نہ دیکھے، محمود عباس

بیت لحم۔07جنوری(فکروخبر/ذرائع)فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے زیر قیادت اتھارٹی کے خاتمے سے متعلق افواہوں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس سے کبھی دست بردار نہیں ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ میں گذشتہ چند روز کے دوران فلسطینی اتھارٹی اور اس کی تخریب وانہدام سے متعلق بہت باتیں سنی ہیں۔یہ اتھارٹی ہماری کامیابی ہے اور ہم اس سے کبھی دست بردار نہیں ہوں گے''۔انھوں نے بیت لحم میں کرسمس کے موقع پر ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''فلسطینی اتھارٹی کے انہدام کا خواب بھی نہ دیکھیں''۔واضح رہے کہ بعض آرتھوڈکس چرچ آج جمعرات کو کرسمس منا رہے ہیں۔وہ باقی عیسائیوں کے ساتھ 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یوم پیدائش نہیں مناتے ہیں۔صدر محمود عباس نے فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کے بعد کی صورت حال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اتھارٹی موجود ہے،اس کے بعد فلسطینی ریاست معرض وجود میں آئے گی،کسی کے پاس کوئی اور منظرنامہ نہیں ہے اور نہ ہم کسی اور کا پیش کردہ کوئی منظرنامہ قبول کریں گے'۔اسّی سالہ محمود عباس نے گذشتہ ہفتے اپنی خرابیِ صحت سے متعلق پھیلنے والی افواہ کے بعد پہلی مرتبہ یہ بیان جاری کیا ہے۔گذشتہ ہفتے بعض حلقوں کی جانب سے یہ افواہ اڑائی گئی تھی کہ ان کی صحت خراب ہے جس کے پیش نظر فلسطینی اتھارٹی ختم ہوسکتی ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی نے اس افواہ کو یکسر مسترد کردیا ہے۔فلسطینی صدر نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں گذشتہ تین ماہ سے جاری تشدد کے واقعات کے بعد پہلی مرتبہ کسی عوامی مجلس میں گفتگو کی ہے اور وہ بظاہر بہتر نظر آرہے تھے۔اسرائیل کی چیرہ دستیوں کے نتیجے میں ہر طرف سے مایوس فلسطینی نوجوان یہودیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز پر چاقو حملے کررہے ہیں۔اسرائیلی حکام ان چاقو حملوں کا فلسطینی اتھارٹی کو ذمے دار ٹھہرارہے ہیں۔واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی 1993ء4 میں اسرائیل کے ساتھ اوسلو امن معاہدے کے تحت قائم ہوئی تھی۔اس وقت اس کو کاروبار حکومت چلانے کے لیے رقوم کی کمی کا سامنا ہے۔اس کے تحت سکیورٹی فورسز صہیونی ریاست کے ساتھ تعاون کررہی ہیں جس کی وجہ سے اس پر فلسطینی کڑی تنقید کررہے ہیں۔فلسطینی اتھارٹی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ایک عارضی انتظامی ادارے کے طور پر تشکیل دی گئی تھی لیکن اوسلو معاہدے کے بعد دو عشرے سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجودنوجوان فلسطینیوں کو آزاد ریاست کے قیام کے لیے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دھارنے میں کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے اور بہت سے یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ محمود عباس ان کی تشویش وتحفظات کی نمائندگی نہیں کررہے ہیں۔رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق دو تہائی فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خلاف نئی انتفاضہ تحریک میں یقین رکھتے ہیں۔ان کے بہ قول مذاکرات کے بجائے انتفاضہ ہی سے قومی مفادات کا بہتر طور پر تحفظ ہوسکتا ہے۔درایں اثناء اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو فلسطینی اتھارٹی کے انہدام کی صورت میں متبادل ہنگامی منصوبے پر غور کررہے ہیں۔