Live Madinah

makkah1

dushwari

شام: سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ کا دھماکہ ،10فوجی اہلکار شدید زخمی(مزید اہم ترین خبریں)

دمشق۔21دسمبر( فکروخبر/ذرائع )شام کے دارالحکومت دمشق کی مغربی کالونی المزہ میں سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ کے دھماکے سے فوجی بس میں سوار 10اہلکار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسیسانا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دمشق پولیس المزہ کالونی میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز مسافروں کو لے جانے والی ایک فوجی بس سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے بری طرح متاثر ہوئی جس کے نتیجے میں بس میں سوار دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔شام کے سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی دھماکے کی فوٹیج میں کئی افراد کو لہولہان اسپتالوں میں لے جاتے دکھایا گیا ہے۔

ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بس میں کچھ فوجی اور بعض عام شہری سوار تھے۔ بم دھماکے سے زخمی ہونے والوں میں سے بعض کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ سڑک کے کنارے نصب بم مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے اس وقت دھماکے سے پھٹ گیا جب ایک ملٹری بس فوجیوں کو لے کر المزہ کالونی سے گذر رہی تھی۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے اور اس کی کھڑکیاں نیچے آ گریں۔ دھماکے سے کئی افراد زخمی ہوئے تھے جن کے خون سے بس کا فرش سرخ ہو گیا تھا۔


فلسطینی عوام 12 ربیع الاول قبلہ اول میں منانے کی تیاری کریں ٗ الشیخ عکرمہ صبری

مقبوضہ بیت المقدس۔21دسمبر(فکروخبر/ذرائع )مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب اور فلسطینی علما کونسل کے چیئرمین الشیخ عکرمہ صبری نے فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ اول میں منانے مسجد اقصی میں حاضری کویقینی بنانے کے لیے رخت سفرباندھ لیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ صبری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ رمضان المبارک کی طرح ماہ ربیع الاول بھی اہل فلسطین اوراہل اسلام کے لیے برکتوں کا مہینا ہے۔ بارہ ربیع الاول کو فلسطینی عوام زیادہ سے زیادہ تعداد میں قبلہ اول میں جمع ہو کر عبادت کریں۔ اس طرح فلسطنی شہری قبلہ اول سے اپنا تعلق مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر فلسطینی کی یہ خواہش ہے کہ وہ اپنا کچھ وقت قیام اللیل کی شکل میں قبلہ اول میں گذارے، نوافل مسجد اقصی میں ادا کرے اور علما کے ایمان تازہ کرنے والے دروس سے فیضاب ہونے کے ساتھ ساتھ فقہی مسائل سے آگاہی کے لیے اپنا وقت قبلہ اول میں گذارے۔انہوں نے کہا کہ کون نہیں چاہتا کہ وہ مسجد اقصی میں نماز کی ادائی کو یقینی بنائے جہاں ایک رکعت کا ثواب پانچ سو گنا زیادہ ہے۔ اس لیے میں فلسطینی قوم سے اپیل کروں گا کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت قبلہ اول میں گذارنے کے لیے کوشش کریں۔ خاص طور پر بارہ ربیع الاول کو قبلہ اول میں اپنی حاضری کویقینی بنائیں۔امام قبلہ اول نے فلسطینی عوام سے اپیل کی وہ مسجد اقصی میں اپنی موجودگی کے وقت مقدس مقام کی صفائی اور نظافت وطہارت کو یقینی بنانے میں کوئی کسرنہ چھوڑیں۔ اپنے صدقات اور زکوا کے مال سے قبلہ اول کا دفاع کریں۔علامہ ڈاکٹر عکرمہ صبری نے عالم اسلام سے بھی پرزور اپیل کی کہ وہ قبلہ اول کے دفاع کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور صہیونی ریشہ دوانیوں کا مل کرمقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اعتدال پسندی کا مذہب ہے اور مسلم امہ کو ماہ صیام کے دوران پوری دنیا کو اپنی امن اور اعتدال پسندی سے آگاہ کرنا چاہیے۔


فلسطینی انسانی ڈھال نے مکان مسماری کی صہیونی کوشش ناکام بنا دی

طوباس۔21دسمبر(فکروخبر/ذرائع ) گذشتہ روز اسرائیلی فوجیوں نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے طوباس شہر میں ایک فلسطینی اسیر کے مکان کو مسمار کرنے کے لیے یلغار کی مگر مقامی فلسطینی شہریوں نے جرات او ربہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانی ڈھال بنا کر صہیونی فوج کی کارروائی ناکام بنا دی۔طوباس کے مقامی فلسطینی ذریعے نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے اتوار کو مغربی کنارے کے شمالی شہر طوبلس میں طمون کے مقام پر زخمی فلسطینی اسیر محمود فیصل بشارات کے گھر پر دھاوا بولا۔ مگر فلسطینی شہریوں نے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر صہیونی فوج کی کارروائی ناکام بنا دی۔مقامی شہریوں نے بتایا کہ جب انہیں پتا چلا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اسیر فلسطینی محمود بشارات کے مکان کا محاصرہ کرلیا ہے اور وہ اسے مسمار کرنا چاہتے ہیں تو اس پر طمون قصبے کے تمام شہر محمود بشارات کے گھر پرجمع ہوگئے اور گھر کے ارد گرد انسانی ڈھال بنا کر صہیونی فوج کی کارروائی ناکام بنا دی۔خیال رہے کہ محمود فیصل بشارات کو صہیونی فوجیوں نے پچھلے ماہ شمالی تل الربیع میں چاقو حملے میں تین صہیونیوں کو زخمی کرنے کے الزام میں گولیاں مار کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔


خضوری یونیورسٹی میں اسرائیلی فوج کی کارروائی ٗ 45فلسطینی زخمی

زخمیوں میں سے 4 کو براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ٗ تین افراد دھاتی گولیوں سے زخمی ہوئے

طولکرم۔21دسمبر( فکروخبر/ذرائع )فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے طولکرم شہر میں خضوری یونیورسٹی کے طلبا اور اسرائیلی فوج کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم سے کم 45 افراد زخمی ہوگئے۔طولکرم کے طبی ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے خضوری یونیورسٹی میں گھس کر طلبا کو زدو کوب کیا جس پر مشتعل طلبا نے احتجاجی جلوس نکالا۔ اسرائیلی فوجیوں کے حملے میں زخمی ہونے والے درجنوں افراد کو طولکرم کے سرکاری اسپتال میں لایا گیا ہے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے طلبا کے خلاف کریک ڈان کے لیے خضوری یونیورسٹی کے کیمپس پر دھاوا بولا اور وہاں موجود طلبا پرآنسوگیس کی شیلنگ کی، لاٹھی چارج کیا اور براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم سے کم45افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں بیشترطلبا شامل ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے چار کو براہ راست فائرنگ سے نشانہ بنایا گیا۔ تین افراد دھاتی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں جب کہ 35 افراد آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔


بیرزیت یونیورسٹی کے 90 اساتذہ اور طلبا صہونی زندانوں میں پابند سلال

رام اللہ۔21دسمبر(فکروخبر/ذرائع )فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار کارروائیوں میں سیکڑوں فلسطینی طلبا اور اساتذہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والے اساتذہ اور طلبا میں مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں واقع بیرزیت یونیورسٹی کے 90 طلبا بھی اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جامعہ بیرزیت کی جانب سے گذشتہ روز ایک فہرست جاری کی گئی ہے جس میں ان 90 طلبا اور اساتذہ کے کوائف درج کیے گئے ہیں جنہیں صہیونی فوجیوں نے گرفتار کرنے کے بعد جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔بیان میں طلبا اور اساتذہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی نظام تعلیم پر حملہ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے طلبا میں جامعہ میں طلبا کونسل کے چیئرمین سیف الاسلام دغلس اور کئی دوسرے اہم طلبا رہ نما بھی شامل ہیں۔جامعہ بیرز یت نے صہیونی فوج کے ہاتھوں طلبا اور اساتذہ کی وحشیانہ گرفتاریوں اور انہیں جیلوں میں ڈالے جانے کے واقعات کا عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج ایک سوچے سمجھے اور طے شدہ منصوبے کے تحت فلسطینی تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبا کو انتقامی پالیسی کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کی طلبا کے خلاف وحشیانہ کارروائیاں صہیونی ریاست کی جمہوریت کے نام پر ایک بدنما دھبا ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی طلبا کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حراست میں لیے گئے تمام شہریوں کی فوری رہائی کا حکم دے۔


اسرائیلی فوج کا غرب اردن میں دو اسکولوں پردھاوا، طلبا پر تشدد ٗ قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ 

الخلیل ۔21دسمبر( فکروخبر/ذرائع)قابض صہیونی فوجیوں نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں الخضر قصبے میں دو بوائز اسکولوں پر چھاپہ مارا اور وہاں پر موجود طلبا اور اساتذہ کو زدو کوب کرنے کے بعد قیمتی سامان کی بھی توڑپھوڑ کی۔مقامی سماجی کارکن راتب الجبور نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صہیونی فوج نے الخلیل شہر کے نواحی قصبے یطا میں المجاز اسکول اور الخضر قصبے میں بھی ایک دوسرے اسکول پر چھاپہ مارا۔ طلبا کو تشدد کانشانہ بنایا اور ان کی کتابیں اٹھا کر پھینک دیں۔ مسلح صہیونی فوجیوں نے اسکول کے اساتذہ کو بھی زدو کوب کیا۔ اس موقع پر اسکول کے ایک طالب علم ابراہیم موسی ابو عرام کو پولیس کے حراستی مرکز میں پیش ہونے کا نوٹس بھی جاری کیا گیا۔راتب الجبور نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے اتوار کو دوپہر کے وقت المسافر پرائمری اسکول پر چھاپہ مارا اور عملے کو زدو کوب کرنے کے بعد وہاں پر قیمتی سامان کی بھی ٹوڑپھوڑ کی۔ادھر غرب اردن کے علاقے بیت لحم میں بھی اسرائیلی فوج اور فلسطینی طلبا کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے طلبا کے ایک مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اور آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد طلبا زخمی ہوئے ہیں۔


طالبان کا صوبہ ہلمند کے اہم ضلع پر قبضہ ،افغان حکام کی تصدیق ،دیگر علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری

کابل ۔21دسمبر( فکروخبر/ذرائع )افغان حکام نے صوبہ ہلمند کے اہم ضلع سنگین پر طالبان کے قبضے کی تصدیق کرلی ۔اطلاعات کے مطابق انتھاپسندوں نے ضلع سنگین میں پولیس ہیڈ کواٹر پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ ضلعے کے دیگر حصوں میں لڑائی جاری ہے۔اس سے قبل ہلمند صوبے کے نائب گورنر نے فیس بک کے ذریعے ملک کے صدر اشرف غنی سے صوبہ ہلمند میں طالبان کے ساتھ جاری لڑائی میں مدد مانگی تھی۔سماجی رابطوں کی سائٹ فیس بک پر محمد جان رسول یار نے صدر غنی کو اپنے پیغام میں لکھا کہ گذشتہ دو دنوں سے ہلمند میں ہونے والی لڑائی میں 90 فوجی مارے جا چکے ہیں۔ہلمند دشمن کے قبضے میں آجائے گا اور وہ قندوز کی طرح نہیں ہے جس کا قبضہ واپس لینے کے لیے ہم نے ایئر پورٹ سے ایک آپریشن کیا تھا۔محمد جان نے صدر غنی کو متنبہ کیا تھا کہ صوبے پر طالبان کا قبضہ ہوسکتا ہے۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ صدر غنی کا عملہ ان کو درست اطلات فراہم نہیں کر رہا ہے۔اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ پیغام دینے کے لیے فیس بک مناسب ذریعہ نہیں ہے محمد جان نے لکھا کہ ہلمند دشمنوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور یہ قندوز کی طرح نہیں ہے جہاں کارروائی کرکے علاقے کو دشمن سے واپس لے لیا جائے گا، یہاں ایسا کرنا نا ممکن ہوگا۔محمد جان کا مزید کہنا تھا کہ ہر کسی کو اقتدار سے محبت ہوتی ہے، مجھے بھی اپنا عہدہ پسند ہے، لیکن اپنی کرسی بچانے کے لیے میں اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ ہلمند کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں اور اپنے آپ کو ان لوگوں سے دور کریں جو آپ کو بتاتے ہیں کہ صوبے کے حالات بلکل ٹھیک ہیں۔خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں طالبان جنگجوں نے ملک کے کئی علاقوں میں افغان فوج کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جس کے باعث سکیورٹی فورسرز دبا کا شکار ہیں۔اپنے پیغام میں نائب گورنر نے لکھا تھا کہ ہلمند دشمن کے قبضے میں آجائے گا اور وہ قندوز کی طرح نہیں ہے جس کا قبضہ واپس لینے کے لیے ہم نے ایئر پورٹ سے ایک آپریشن کیا تھا۔ وہ بالکل ناممکن ہے اور خواب ہے۔جنوبی ایشیا کے لیے بی بی سی کے ایڈیٹر اتھراجن انبرستان نے ضلع سنگین کی صورتحال پر تبصرہ کرتیہوئے کہا ہے کہ فیس بک پر نائب گورنر کا پیغام افغان انتظامیہ کے اندر اہم اختلافات کی عکاسی کر رہا ہے۔


یمن بحران حل نہ ہوسکا ،امن مذاکرات بغیر کسی نتیجہ ختم

صنعا۔21دسمبر( فکروخبر/ذرائع )یمن میں جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل اولد شیخ احمد کا کہنا ہے کہ مذاکرات آئندہ سال 14 جنوری سے دوبارہ شروع ہوں گے۔ تاہم مذاکرات کی جگہ کا تعین ابھی نہیں کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔شمالی یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور گذشتہ روز اطلاعات کے مطابق سعودی سرحد کے قریب شمال مغربی یمن میں حکومتی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان تازہ لڑائی میں کم سے کم 68 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شیخ احمد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند دنوں اور ہفتوں کے دوران ان کی تمام تر کوششیں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے ہوں گی۔انھوں نے کہا کہ ہم نے حالیہ دنوں میں کچھ کامیابیاں حاصل کیں ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہیں اور ہمیں شرکا کے درمیان مزید خیالات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔یہ صحیح سمت کی جانب ایک قدم ہے۔ اب ہمیں آگے بڑھنا ہے اور ہمیں اس عمل کو برقرار رکھنا ہے۔سوٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن میں بی بی سی کے نامہ نگار اموجین فولکس کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات وہ بنیادی چیز حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جو اقوام متحدہ چاہتا ہے اور وہ ہے ایسی جنگ بندی جو قائم رہ سکے۔اموجین فولکس کا مزید کہنا تھا کہ اگر زیادہ جنگ بندی کو زیادہ دیر تک قائم رکھنے میں کامیابی ہو جاتی ہے تو امن کی جانب دیگر قدم جیسا کہ قیدیوں کی رہائی اور بھاری اسلحے کی روک تھام بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔خیال رہے کہ مارچ کے مہینے میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد نے یمن میں حکومت کی بحالی کے لیے فوجی مہم جوئی شروع کی تھی اور حوثی باغیوں اور ان کے حلیفوں کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔اس تنازعے کے دوران مارچ سے اب تک تقریبا 5700 افراد مارے جا چکے ہیں۔


جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات، اسرائیلی نائب وزیر اعظم مستعفی

تل ابیب ۔21دسمبر( فکروخبر/ذرائع )اسرائیل کے نائب وزیر اعظمِ سلون شیلوم خود پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔شیلوم جو کہ نائب وزیر اعظم کے عہدے سے بھی مستعفی ہو رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ اپنے خاندان والوں کو مزید پریشانی سے بچانے کے لیے کر رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے شیلوم پر کئی خواتین کی جانب سے لگائے جانے والے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ سِلوم شیلوم نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔اسرائیل میں حالیہ برسوں کے دوران کئی اہم شخصیات کو ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انسداد دھوکہ دہی کے پولیس چیف کو جنسی طور پر حراساں کرنے کی وجہ سے تحقیقات کا سامنا ہے جبکہ گذشتہ ماہ ایک اور رکن پارلیمان ینون مگل بھی جنسی طور پر حراساں کرنے کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہو گئے تھے۔خیال رہے کہ2011 میں سابق صدر موشی کیٹسو کو ریپ کرنے کے الزام میں سات سال کی جیل ہو گئی تھی۔بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی پارلیمان میں شیلوم کی جگہ عامر اوہان لے سکتے ہیں۔


ایران کا امریکہ کے نئے ویزا قوانین پر اعتراض

تہران۔21دسمبر (فکروخبر/ذرائع)ایران نے شکایت کی ہے کہ امریکہ کی طرف سے جن ممالک کے شہریوں پر امریکہ سفر کرنے پر قدغن عائد کی گئی ہے ان میں ایران کو شامل کرنا ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ یہ قانون ایران کے ساتھ اقتصادی، سیاحتی، سائنسی اور تقافتی تبادلوں کو یقیناً متاثر کرے گا اور یہ ایران جوہری معاہدے کے منافی ہے۔یہ پابندیاں وفاقی بجٹ کے بل کا حصہ ہیں جس پر صدر براک اوباما نے جمعے کو دستخط کیے۔دنیا کے 38 ممالک کے شہریوں کو امریکہ آنے کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں مگر ان ممالک کے جن شہریوں کے پاس ایران، عراق، شام اور سوڈان کی دہری شہریت ہے یا جنہوں نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ان ممالک کا سفر کیا ہو گا انہیں امریکہ آنے کے لیے ویزا حاصل کرنا ہو گا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ چار ممالک دہشت گردی کی معاونت میں ملوث ہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس معاملے کو جوہری معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کرنے والے کمیشن میں اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس معاہدے کے تحت امریکہ کسی ایسی تجارتی یا معاشی سرگرمی میں خلل نہ ڈالنے کا پابند ہے جس سے ایران سے تعلقات معمول پر لائے جا سکیں۔ادھر امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ایک خط میں کہا ہے کہ امریکہ جوہری معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی مکمل پاسداری کرے گا۔انہوں نے خط میں یہ بھی کہا کہ وائٹ ہاس نئے ویزا قانون کی کچھ شرائط کو ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔



ایرانی طلبہ کا نائیجیریا میں فوج کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ کی خاموشی کے خلاف مظاہرہ

تہران ۔ 21 دسمبر (فکروخبر/ذرائع) ایرانی طلبہ نے نائیجیریا میں فوج کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ کی خاموشی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔تہران میں اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں شریک طلبہ نائیجیریا میں مسلمانوں کے قتل عام پر عالمی اداروں کی خاموشی کی مذمت میں نعرے لگا رہے تھے۔طلبہ نے ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر اٹھا رکھے تھے۔مظاہرے میں شریک طلبہ نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما آیت اللہ ابراہیم زکزکی اور دیگر بے گناہوں کی رہائی کے لیے حکومت نائیجیریا پر دباؤ ڈالیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ آیت اللہ زکزکی اور مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو اگر کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت نائیجیریا پر عائد ہو گی۔


داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف بڑی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں،ترک صدر

استنبول ۔ 21 دسمبر (فکروخبر/ذرائع) صدر رجب طیب اردوان نے کہاہے کہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں اسلام سے متعلق بیانات کو آلہ کار بنا کر مسلمانوں کے خلاف بڑی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی میں سینان ایردیم اسپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ شبِ عروس استنبول کی تقریب میں میں خطاب کر تے ہوئے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ شام میں 4 لاکھ بے گناہ انسانوں کو قتل کیا گیا ہے، 12 ملین معصوم انسانوں کو بے گھر کیا گیا ہے اور خود کو مسلمان کہنے والے ابھی تک ظالم کا ساتھ دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں اسلام سے متعلق بیانات اور علامات کو آلہ کار بنا کر مسلمانوں کے خلاف تاریخ کی بڑی ترین جنگوں میں سے ایک کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان دہشت گرد تنظیموں کو بہانہ بنا کر مسلمانوں پر ضرب پر ضرب لگائی جا رہی ہے۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ جیسے ہر رات کی ایک صبح ہوتی ہے اسی طرح ان مشکل دنوں کا بھی یقیناً ایک دن اختتام ہو گا۔


اسرائیلی نائب وزیراعظم خواتین کوجنسی طور پرحراساں کرنے کے الزامات پر عہدے سے مستعفی 

مقبوضہ بیت المقدس :21 دسمبر (فکروخبر/ذرائع) اسرائیل کے نائب وزیر اعظمِ سلوان شالوم خواتین کوجنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ِ سلوان شالوم کا کہنا ہے کہ وہ یہ اپنے خاندان والوں کو مزید پریشانی سے بچانے کے لیے کر رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نےِ سلوان شالوم پر کئی خواتین کی جانب سے لگائے جانے والے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے جبکہِ سلوان شالوم نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔اسرائیل میں حالیہ برسوں کے دوران کئی اہم شخصیات کو ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انسداد دھوکہ دہی کے پولیس چیف کو جنسی طور پر حراساں کرنے کی وجہ سے تحقیقات کا سامنا ہے جبکہ گذشتہ ماہ ایک اور رکن پارلیمان ینون مگل بھی جنسی طور پر حراساں کرنے کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہو گئے تھے۔خیال رہے کہ 2011 میں سابق صدر موشے کاٹسوف کو زیادتی کے الزام میں سات سال کی جیل ہو گئی تھی۔بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی پارلیمان میںِ سلوان شالوم کی جگہ آمر اوہان لے سکتے ہیں۔


انڈونیشیا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کے گئے ٗکسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی 

جکارتہ۔21دسمبر(فکروخبر/ذرائع)انڈونیشیا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کے گئے تاہم کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق انڈونیشیا کے تیسرے بڑے جزیرے بورنیو میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں ٗ زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.0ریکارڈ کی گئی تاہم زلزلے کے نتیجے میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ٗزلزلے کا مرکز ساحلی شہر تاراکان سے 34 کلومیٹر دور اور زیر زمین 22 کلومیٹر تھا ۔


شام کے شہر ادلب میں مبینہ طور پر روس کی جانب سے کی جانے والی فضائی کارروائی میں43افراد ہلاک ٗ سو سے زائد زخمی 

دمشق ۔21دسمبر(فکروخبر/ذرائع)شام کے شہر ادلب میں مبینہ طور پر روس کی جانب سے کی جانے والی فضائی کارروائی میں کم از کم 43 افراد ہلاک اور 170زخمی ہوگئے ہیں،برطانوی میڈیا کے مطابق روس کی جانب سے اس فضائی کاروائی میں دکانوں، مکانات اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ٗشہری دفاع کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ ملبے سے ابھی بھی لاشیں نکالی جارہی ہیں۔ دوسری جانب روس نے علاقے میں فضائی کارروائی کی تصدیق نہیں کی ہے۔یاد رہے کہ روس رواں برس ستمبر سے شام میں فضائی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کو نشانہ بناتا ہے۔علاقے میں موجود حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس تازہ کارروائی میں 170 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ دمشق اور حلب کو ملانے والی اہم شاہراہ کے قریب واقع شہر ادلب پر سال کے اوائل میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار اسلامی گروہوں نے قبضہ کر لیا تھا ، ’’ادلب شہر‘‘ صدر بشار الاسد کی حمایت کے گڑھ صوبہ لتاکیا کے قریب واقع ہے۔


افغانستان ٗضلع سنگین کے پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضے کیلئے طالبان جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی 

ہلمند ۔21دسمبر(فکروخبر/ذرائع) افغانستان کے ہلمند صوبے میں ضلع سنگین کے پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضے کیلئے طالبان جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ۔پولیس کمانڈر محمد داؤد نے سیٹلائٹ فون کے ذریعے بی بی سی کو بتایا کہ وہ طالبان جنگجو میں گھر چکے ہیں اور انھیں فوری طور پر کمک کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر مدد نہیں پہنچی تو وہ زیادہ دیر تک حملہ آوروں کو نہیں روک سکتے کیونکہ ان کے گولے بارود ختم ہو رہے ہیں۔دوسری جانب ہلمند کے گورنر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پورا ہلمند صوبہ طالبان کے قبضے میں جا سکتا ہے۔کمانڈر داؤد نے بتایا کہ بازار بند ہیں ہم دو دنوں سے محصور ہیں۔ ہمارے اردگرد ہلاک شدگان اور زخمی لوگ پڑے ہیں ہم نے دو دنوں سے کچھ نہیں کھایا ہے۔ اگر اگلے گھنٹے تک مدد نہیں پہنچتی ہے تو ہمارے فوجیوں کو زندہ پکڑ لیا جائیگا۔انھوں نے کہاکہ پولیس ہیڈکوارٹر ہی ابھی ہمارے قبضے میں ہے اور ہمارے ساتھ نیشنل آرمی کے فوجی ہیں۔ ضلعی دفتر اور انٹیلی جنس ڈائرکٹریٹ دشمنوں کے قبضے میں چلا گیا ہے۔سماجی رابطوں کی سائٹ فیس بک پر محمد جان رسول یار نے صدر غنی کو اپنے پیغام میں لکھا کہ گذشتہ دو دنوں سے ہلمند میں ہونے والی لڑائی میں 90 فوجی مارے جا چکے ہیں۔محمد جان نے صدر غنی کو متنبہ کیا تھا کہ صوبے پر طالبان کا قبضہ ہوسکتا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ صدر غنی کا عملہ ان کو درست اطلات فراہم نہیں کر رہا ہے۔اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ پیغام دینے کیلئے فیس بک مناسب ذریعہ نہیں ہے محمد جان نے لکھا کہ ہلمند دشمنوں کے ہاتھ میں چلا جائیگا اور یہ قندوز کی طرح نہیں ہے جہاں کارروائی کرکے علاقے کو دشمن سے واپس لے لیا جائیگا یہاں ایسا کرنا نا ممکن ہوگا۔خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں طالبان جنگجوؤں نے ملک کے کئی علاقوں میں افغان فوج کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جس کے باعث سکیورٹی فورسرز دباؤ کا شکار ہیں۔


یمن ٗ جاری تنازع کو ختم کرنے کیلئے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم

مذاکرات آئندہ سال 14 جنوری سے دوبارہ شروع ہوں گے ٗخصوصی ایلچی 

صنعاء۔21دسمبر(فکروخبر/ذرائع) یمن میں جاری تنازع کو ختم کرنے کیلئے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل اولد شیخ احمد کے مطابق مذاکرات آئندہ سال 14 جنوری سے دوبارہ شروع ہوں گے تاہم مذاکرات کی جگہ کا تعین ابھی نہیں کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔شمالی یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور گذشتہ روز اطلاعات کے مطابق سعودی سرحد کے قریب شمال مغربی یمن میں حکومتی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان تازہ لڑائی میں کم سے کم 68 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شیخ احمد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند دنوں اور ہفتوں کے دوران ان کی تمام تر کوششیں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے ہوں گی۔انھوں نے کہا کہ ہم نے حالیہ دنوں میں کچھ کامیابیاں حاصل کیں ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہیں اور ہمیں شرکاء کے درمیان مزید خیالات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔یہ صحیح سمت کی جانب ایک قدم ہے۔ اب ہمیں آگے بڑھنا ہے اور ہمیں اس عمل کو برقرار رکھنا ہے۔


اسرائیل کے وزیر داخلہِ سلون شیلوم خود پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی 

مقبوضہ بیت المقدس۔21دسمبر(فکروخبر/ذرائع) اسرائیل کے وزیر داخلہِ سلون شیلوم خود پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔شیلوم جو کہ نائب وزیر اعظم کے عہدے سے بھی مستعفی ہو رہے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ یہ اپنے خاندان والوں کو مزید پریشانی سے بچانے کیلئے کر رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے شیلوم پر کئی خواتین کی جانب سے لگائے جانے والے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ سِلوم شیلوم نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔اسرائیل میں حالیہ برسوں کے دوران کئی اہم شخصیات کو ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ۔انسداد دھوکہ دہی کے پولیس چیف کو جنسی طور پر حراساں کرنے کی وجہ سے تحقیقات کا سامنا ہے ٗ گذشتہ ماہ ایک اور رکن پارلیمان ینون مگل بھی جنسی طور پر حراساں کرنے کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہو گئے تھے۔خیال رہے کہ 2011 میں سابق صدر موشی کیٹسو کو ریپ کرنے کے الزام میں سات سال کی جیل ہو گئی تھی۔