Live Madinah

makkah1

dushwari

ایرانی عدالت سے 27 سنی کارکنوں کو پھانسی کا حکم

26 دسمبر (فکروخبر/ذرائع)ایران کی سپریم کورٹ نے زیرحراست اہل سُنت مسلک سے تعلق رکھنے والے 27 کارکنوں کو سزائے موت کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد انہیں کسی بھی وقت تختہ دارپر لٹکا دیا جائے گا۔ سزائے موت پانے والوں میں طلباء اور علماء بھی شامل ہیں۔
ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی مقرب خبر رساں ایجنسی ہرانا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ تہران کی سپریم کورٹ نے جنوب مغربی تہران کے کرج شہر میں قائم  رجائی شھر  نامی جیل میں پابند سلاسل 27 سنی کارکنوں کو "حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے، سلفی جماعت سے تعلق، فساد فی الارض اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ" جیسے الزامات کے تحت سزائے موت کا حکم دیا۔

سزا پانے والے شہریوں میں سے بعض پر مسلح کارروائیوں میں حصہ لینے کا بھی الزام عاید کیا ہے۔ مقدمے کا فیصلہ سنائے کے وقت ملزمان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے اپنے خلاف عاید کردہ تمام الزمات مسترد کردیے۔ زیرحراست کارکنوں کا کہنا تھا کہ انہیں محض دعائیہ تقریبات منعقد کرنے اور مذہبی رسومات اور عبادت کی ادائی کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ قطعا بے قصور ہیں۔
خیال رہے کہ سزا پانے والے تمام سنی شہریوں کو سنہ 2009ء سے 2011ء کے دوران مغربی ایران کے ضلع کردستان سے حراست میں لیا تھا۔ ایرانی انٹیلی جنس حکام نے ان پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کرتے ہوئے ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ کی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سزا پانے والوں کی شناخت کاوۃ ویسی، بہروز شانظری، طالب ملکی، شہرام احمدی، کاوۃ شریفی، آرش شریفی، وریا قادری فرد، کیوان مومنی فرد، برزان نصرا اللہ زادہ، عالم برماتشی، بوریا محمدی، احمد نصیری، ادریس نعمتی، فرزاد ھنرجو، شاھوا ابراہیمی، محمد یاور رحیمی، بہمن رحیمی، مختار رحیمی، محمد غریبی، فرشید ناصری، محمد کیوان کریمی، امجد صالحی، اومید بیوند، علی مجاھدی، حکمت شریفی، عمر عبدللھی اور اومید محمودی کے ناموں سے کی گئی ہے۔
اس سے قبل ایرانی انٹیلی جنس حکام4 مارچ کو چھ سنی کارکنوں کو نام نہاد الزامات کے تحت چلائے گئے مقدمات کے تحت سزائے موت دے چکے ہیں۔

حالیہ ویڈیوز......

HDVS_CATEGORY: تلاوتِ قرآن
HDVS_CATEGORY: متفرقات
HDVS_CATEGORY: تقاریر ومواعظ