Print this page

ننھی بسمہ نے مر کر باپ کو سرکاری نوکری دلا دی؟

بلاول بھٹو کی چار دن بعد واجبی پروٹوکول کے ساتھ بسمہ کے گھر آمد

26دسمبر(فکروخبر/ذرائع)پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کراچی میں وی آئی پی پروٹوکول کے باعث ٹریفک جام کی وجہ سے بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے جاں بحق ہونے والی 10 ماہ کی بسمہ کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے ان کے گھر پہنچے۔
سندھ حکومت کی ترجمان شرمیلا فاروقی نے ایک ٹویٹر پیغام میں بتایا کہ بلاول بھٹو نے بسمہ کے والد فیصل بلوچ سے لیاری میں ان کے گھر میں تعزیت کی۔ فیصل بلوچ نے بلاول بھٹو زرداری کو بتایا کہ وہ ان کو اپنی بیٹی کی موت کا ذمہ دار نہیں سمجھتے۔

بلاول بھٹو زرداری کی لیاری آمد پر پہلے کی طرح پروٹوکول موجود نہیں تھا، بلکہ ایک مختصر سیکیورٹی اسکواڈ کے ہمراہ وہ فیصل بلوچ کے گھر آئے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے فیصل بلوچ کو یقین دہانی کروائی کہ ان کی جماعت لیاری کے لوگوں کے ساتھ ہے۔ انہوں نے فیصل بلوچ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ انہیں سرکاری ملازمت دلوائیں گے۔
بلاول کے پروٹوکول نے ننھی بچی کی جان لی؟
یاد رہے کہ 3 روز قبل کراچی میں سول ہسپتال کے بے نظیرٹراما سینٹر میں بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ کی آمد پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور ہسپتال کے دونوں دروازے بند کر دیئے گئے جبکہ مریضوں کے ساتھ ساتھ ایمبولینسوں کو بھی آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اس روز لیاری کی رہائشی بچی بسمہ کے والد فیصل نے الزام عائد کیا کہ سول ہسپتال میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی آمد کے موقع پر وی وی آئی پی پروٹوکول کے باعث ان کی 10 ماہ کی بیٹی کو بروقت طبی امداد نہ مل سکی اور وہ دَم توڑ گئی۔
بلاول ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نے 15 سے 20 منٹ کے دوران ٹراما سینٹر کا دورہ کیا، افتتاح کیا اور واپس چلے گئے، اس دوران کوئی ٹریفک جام یا پروٹوکول نہیں تھا۔
بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ساتھ دبئی میں مقیم پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی بسمہ کی ہلاکت کا نوٹس لیا تھا اور سندھ حکومت کو واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کا حکم دیا تھا۔