dushwari

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

چھ سال سے کم عمر کے بچوں کی صحت پر بھارت سرکار اور یونائیڈیڈینشن کی تنظیم یونیسیف نے مل کر ملک کا سرے کیا ۔یہ سروے 30نومبر2013سے مئی 2014کے درمیان ہوا ۔ اس میں ایک لاکھ سے زیادہ خاندانوں اور 5600آنگن واڈی مراکز کو شامل کیا گیا تھا اس کی رپورٹ واقعی بہت خوفناک ہے ۔شاید اسی لئے سرکار نے اسے باضابطہ طور پر تو جاری نہیں کیا ۔لیکن اس پر اٹھے سنجیدہ سوالات کے بعد وزارت بہبود برائے خواتین و اطفال نے اپنی ویب سائٹ پر رپورٹ کو مختصر کرکے حال ہی میں اپ لوڈ کردیا ہے ۔اس کی مکمل کاپی کئی لوگوں کے پاس موجود ہے یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت میں امیروں کی تعداد برابر بڑھتی جا رہی ہے مگر ہمارے دیش میں غذائیت کی کمی کے شکار لوگوں کی تعداد کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلہ کہیں زیادہ ہے ۔

عارف عزیز(بھوپال)

دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں انسانی صحت وتندرستی کو کافی اہمیت دی جارہی ہے امریکہ نے ہیلتھ انشورنس سیکٹر میں اصلاحات کرتے ہوئے ایسے اقدام کئے ہیں تاکہ امریکی شہریوں کو بہتر سے بہتر طبی سہولیتیں فراہم ہوسکیں، برطانیہ، فرانس، روس، چین، جاپان، اور جرمنی بھی اپنی قومی آمدنی کا ایک خاص حصہ صحت کی خدمات پر صرف کررہے ہیں لیکن ہندوستان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے عوامی صحت پر اخراجات میں اضافہ نہیں ہورہا ہے ایک طرف روز افزوں مہنگائی نے علاج ومعالجہ کو عام آدمی کی دسترس سے باہر کردیا ہے، دوسری طرف حکومت کی طرف سے جو اعلانات یا کارروائی ہورہی ہے اسے محض دکھاوے کا نام دیا جاسکتا ہے ، ریاستی سرکاروں نے بھی اس اہم شعبہ کو عدم توجہ کا شکار بنادیا ہے۔ جس کا تھوڑا بہت اندازہ ذیل کے اعداد وشمار سے ہوتا ہے۔ 

عارف عزیز(بھوپال)

ماحولیات کے تئیں بیداری لانے کا مقصد عوام کو یہ آگاہی دینا ہے کہ غذا، کپڑا، رہائش، تعلیم، ملازمت اور صحت جیسے مسائل صرف آبادی میں اضافہ کا نتیجہ نہیں بلکہ ماحول کی آلودگی بھی اس کا ایک سبب ہے اس کو صاف اور بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں دی گئی تو ایک دن وہ وقت بھی آسکتا ہے جب خود انسان کا وجود ہی خطرہ میں پڑجائے گا۔اس سلسلے میں عالمی، قومی اور ریاستی پیمانے پر جو کوششیں ہورہی ہیں وہ نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ان کوششوں کے باوجود دنیا کے ماحول میں آلودگی بڑھ رہی ہے اور وہ تیزی سے خراب ہوکر انسانی صحت کے لئے خطرہ بن رہا ہے جس کے متعدد اسباب ہیں۔