dushwari

سعودی عرب ،مشتبہ افراد کے منجمد کھاتوں میں کمپنیوں کے اکاؤنٹ شامل نہیں

آئینی بنک چینلوں اور قانونی طور پر رقوم کی منتقلی پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ، مانیٹری فاؤنڈیشن

دبئی۔8نومبر2017(فکروخبر/ذرائع) سعودی عرب کی مانیٹری فاؤنڈیشن نے وضاحت کی ہے کہ مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت گرفتار کی گئی شخصیات کے ذاتی بنک کھاتے منجمد کیے گئے ہیں۔ ان کی کمپنیوں کے کھاتے منجمد کردہ اکاؤنٹس میں شامل نہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مانیٹری فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آئینی بنک چینلوں اور قانونی طور پر رقوم کی منتقلی پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

فاؤنڈیشن کی طرف سے تاجر برادری کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار افراد کی کمپنیاں اور بنک معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھیں گے۔ فی الحال ان لوگوں کے ذاتی بنک کھاتے بند کیے گئے ہیں۔ یہ بنک کھاتے عدالتوں کے فیصلوں تک بند رہیں گے تاہم ان میں کمپنیوں کے اکاؤنٹس شامل نہیں ہوں گے۔خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں اینٹی کرپشن کمیٹی کے قیام کا حکم دیا تھا۔ انسداد بدعنوانی کمیٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد سابق اور حاضر سروس وزراء اور کئی نامی گرامی شہزادوں کو مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔ سعودی پراسیکیوٹر جنرل سعود المعجب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کرپشن کے الزامات میں گرفتار افراد سے تفصیلی اور مدلل انداز میں پوچھ تاچھ کے بعد ابتدائی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے۔ کرپشن ثابت ہونے کی صورت میں ان کے خلاف عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ چار نومبر کو ملک میں کرپشن کے خلاف شروع کی گئی مہم کا ابھی آغاز ہے۔ بدعنوانی کو مکمل ختم کرنے تک یہ مہم جاری رہے گی۔