dushwari

سعودی فرمانروا سے ترک وزیر اعظم کی ملاقات،

خطے میں امن کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق

ریاض: یکم فروری(فکروخبر/ذرائع) ترکی کے وزیراعظم احمد داد اوگلو نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ریاض میں ان کے شاہی محل میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہ نماں نے دو طرفہ تعلقات ، سلگتے علاقائی مسائل اور اہمیت کے حامل عالمی امور پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔عرب ٹی وی کے مطابق ترک وزیراعظم اور شاہ سلمان کی ملاقات نہایت خوش گوار ماحول میں ہوئی۔ بات چیت میں دونوں برادر ملکوں میں ہر سطح پر تعاون بڑھانے اور خطے میں امن کے لئے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ بات چیت میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی سمیت شام کا قضیہ بھی زیربحث آیا۔

ملاقات کے موقع پر ریاض کے گورنر شہزداہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز، شاہ سلمان کے خصوصی مشیر اور وزیر مملکت شہزادہ ڈاکٹر منصور بن متعب بن عبدالعزیز، نیشنل گارڈز کے وزیر شہزادہ متعب بن عبداللہ بن عبدالعزیز، وزیر مملکت ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان، وزیر خزانہ ڈاکٹر ابراہیم بن عبدالعزیز العساف، وزیرثقافت و اطلاعات ڈاکٹر عادل بن زید الطریفی، وزیرخارجہ عادل بن احمد الجبیر اور ترکی میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر عادل بن سراج مراد بھی موجود تھے۔ملاقات میں ترک وزیراعظم کی معاونت مسلح فواج کے سربراہ جنرل خولصی اکر، نائب وزیر اعظم لطفی الوان، وزیرخارجہ مولود شاووش اوگلو، وزیراقتصادیات مصطفی الیتاش، وزیرداخلہ افکان آلا، وزیرد فاع عصمت یلماز، وزیر برائیٹرانسپورٹ وبحری جہاز رانی بنعلی یلدرم اور سعودی عرب میں ترکی کے سفیر یونس دمیر نے کی۔


داعش نے صنف نازک کو جنگی ہتھیار بنا لیا،سعودی عرب کا خواتین کے فنگر پرنٹس لینے کا اعلان

ریاض/بغداد۔یکم فروری(فکروخبر/ذرائع) شام اورعراق سمیت دوسرے ممالک میں دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائیوں میں ملوث دہشت گرد گروپ دولت اسلامیداعش اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے صنف نازک کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک جانب داعش خواتین کے سخت پردے کے قائل ہے اور دوسری جانب انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتی۔سعودی عرب میں حال ہی میں الاحسا شہر کی ایک جامع مسجد میں دہشت گردی کی کارروائی نے پچھلے سال بہا کے مقام پر ایمرجنسی سروسز کی مسجد میں دہشت گردی میں ملوث عبیر الحربی نامی داعشی دوشیزہ کے کردار کی یاد تازہ کر دی ہے۔ الاحسا کی مسجد میں دہشت گردی کے لیے بھی خواتین کے استعمال کیے جانے کا شبہ ہے۔دہشت گرد تنظیم کے امور پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ داعش جیسے گروپ فریب کار اور دغاباز ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے خواتین سے کوئی بھی کام لے سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوانوں کو داعش کی جانب متوجہ کرنے کے لیے بھی تنظیم نے صنف نازک کا استعمال کیا اور یہ سلسلہ آج بھی آن لائن جہاد کے نام سے جاری و ساری ہے۔ اس کے علاوہ جنگجوں کو لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے اور براہ راست عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے بھی داعش نے خواتین کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے دہشت گردی کے مذموم مقاصد کے لیے خواتین کے استعمال کی روک تھام کے لیے چیکنگ کا نظام مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈوں اور سفری راہداریوں پر مرد و زن کی شناخت کے لیے ان کے فنگر پرنٹس لیے جائیں گے۔عرب ٹی وی کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب ہوئے سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے کہا کہ تمام سیکیورٹی اداروں کو ہوائی اڈوں اور سفری راہداریوں سے گذرنے والے مردوں اور خواتین کی تلاشی لینے اور ان کے فنگر پرننٹس چیک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ایک سوال کے جواب میں منصور الترکی کا کہنا تھا کہ خواتین کی تلاشی اور شناخت معلوم کرنے کے لیے لیڈیز اہلکاروں سے مدد لی جائے گی۔میجر جنرل الترکی کا کہنا تھا کہ اندرون ملک اہم مقامات پر چیکنگ کے دوران خواتین اور مردوں کے شناختی کارڈز کی چیکنگ کو سخت کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں اور انتہا پسند گروپ فنڈز ریزنگ اور دھماکہ خیز مواد ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے لیے خواتین کو استعمال کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو دہشت گردی کے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عبیر الحربی نامی ایک خاتون شدت پسند نے اپنے شوہر کے ہمراہ پچھلے سال ایک خود کش جیکٹ ریاض سے عسیر پہنچائی تھی۔ خاتون نے خود کش جیکٹ کو گاڑی میں اپنے پاں تلے چھپا رکھا تھا۔یہ خود کش جیکٹ یوسف السلیمان نامی خود کش بمبار تک پہنچائی گئی تھی۔ شدت پسند بمبار نے جیکٹ پہن کر کارروائی کرنے سے قبل ریاض میں اپنی آڈیو اور ویڈیو وصیت بھی ریکارڈ کرائی جسے بعد ازاں انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا گیا۔عبیر الحربی اور اس کے شوہر فہد فلاح الحربی کو پچھلے سال دسمبر میں سعودی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا تھا۔ یہ دونوں سعید الشھرانی نامی شخص کے زیرقیادت قائم کردہ خفیہ سیل سے وابستہ تھے۔فہد الحربی نے خود کش بمبار کو ریاض سے عسیر پہنچانے میں مدد کی بعد ازاں فہد الحربی اور اس کی اہلیہ عبیر الحربی نے اپنی گڑی میں بمبار تک خود کش جیکٹ پہنچائی تھی۔ایک سوال کے جواب میں منصور الترکی نے کہا کہ عبیر الحربی سے تفتیش جاری ہے، ضروری نہیں کہ اس نے گمراہ نظریات اپنائے ہیں۔ تفتیش کے نتائج جلد سامنے آجائیں گے مگر یہ بھی ممکن ہے کہ عبیر کو لاعلمی میں رکھا گیا۔