dushwari

سعودی ولی عہد کا خود کش حملے سے متاثرہ مسجد کا دورہ

ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت ٗ،لواحقین سے تعزیت

ریاض۔31جنوری(فکروخبر/ذرائع) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز نے الاحسا گورنری کی ایک مسجد میں جمعہ کے روز ہونے والے دھماکوں کے بعد شہدا کی تعزیت اور زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق شہزادہ محمد بن نایف ہفتے کو الاحسا گورنری پہنچے جہاں انہوں نے جامع مسجد الرضا میں دھماکے میں شہید ہونے والے شہریوں کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ دلی ہمدردی و غم گساری کا اظہار کیا۔شہدا کے ورثا سے ملاقات کے بعد ولی عہد نیشنل گارڈز کے شاہ عبدالعزیز میڈیکل کمپلیکس گئے جہاں انہوں نے مسجد الرضا میں دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی۔

انہوں نے اسپتال کی انتظامیہ کو تمام زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات مہیا کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ولی عہد شہزاد محمد نایف نے فردا فردا تمام زخمیوں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی۔ ولی عہد نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے بھی زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناں کا پیغام پہنچایا۔زخمی شہریوں سے بات کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن نایف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے نتیجے میں شہید اور زخمی ہونے والے شہری ملک وقوم کے لیے سرمایہ فخرہیں۔ زخمیوں کی عیادت اور ان کی صحت یابی کے لیے بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ الاحسا کی جامع الرضا میں دہشت گردی کا واقعہ مملکت میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ دہشت گرد اس طرح کی مذموم کارروائیوں سے ہمارے عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے ہمارے عزم میں ایسے واقعات مزید پختگی کا باعث بنتے ہیں۔قبل ازیں الاحسا ہوائی اڈے پرآمد پر مشرقی علاقے کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف بن عبدالعزیز، الاحسا کے گورنر شہزادہ بدر بن محمد بن جلوی، ڈائریکٹرجنرل سیکیورٹی میجر جنرل عثمان بن ناصر المحرج، سیکرٹری الاحسا خالد البراک، پولیس چیف جنرل غرم اللہ بن محمد لزھرانی، ڈائریکٹر پبلک ٹریفک میجر جنرل عبداللہ بن حسن الزھرانی اور دیگر سیکیورٹی عہدیداروں نے ان کا استقبال کیا۔ولی عہد کے ہمرہ الاحسا کے دورے کے موقع پر شاہی دیوان کے مشیر عبداللہ نن عبدالرحمان المحیسن، شاہ سلمان کے خصوصی امور کے انچارج سلیمان بن نایف الکثیری، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ برائے محکمہ داخلہ میجر جنرل سعود بن صالح الداد اور ولی عہد کے پرنسپل سیکرٹری احمد بن صالح العجلان بھی موجود تھے۔


سعودی عرب کی مسجد الاحسا حملے میں خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی،سعودی وزارت داخلہ 

ریاض۔31جنوری(فکروخبر/ذرائع) سعودی وزارت داخلہ نے جمعہ کے روز الاحسا کی مسجد امام رضا میں دھماکا کرنے والے خودکش حملہ آور کی شناخت کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے سیکورٹی ترجمان کے مطابق حملہ آور کا نام عبدالرحمن عبداللہ سلیمان التویجری ہے اور اس کی عمر 22 سال تھی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ "اس سے قبل عبدالرحمن کو ایک مرتبہ حراست میں لیا جا چکا ہے جب وہ 25 شوال 1434 ہجری کو گرفتار کیے جانے والے افراد کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے ہجوم میں شریک تھا"۔وزارت داخلہ نے دوسرے خودکش حملہ آور کی گرفتاری کا بھی اعلان کیا ہے جو زخمی ہو جانے کی وجہ سے اس وقت زیرعلاج ہے۔ اس کے بارے میں مکمل معلومات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔وزارت کے بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ دہشت گرد حملے میں 4 شہری جاں بحق اور 3 سیکورٹی اہل کاروں سمیت 36 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 19 کو ہنگامی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کیا جا چکا ہے۔الاحسا کارروائی کے خودکش حملہ آور عبدالرحمن کے والد عبداللہ التویجری نے اس کارروائی میں اپنے بیٹے کے ملوث ہونے پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے۔ غم اور ندامت میں ڈوبی آواز میں انہوں نے بتایا کہ عبداللہ نہایت فرماں بردار، نمازی اور گھر والوں سے محبت کرنے والا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو بھی کچھ ہوا وہ میرے اور میری اہلیہ کے لیے ایک اندوہناک دھچکا ہے۔ میرے بیٹے پر ایک مرتبہ جادو بھی کرایا گیا تھا جس کا ذریعہ معلوم نہیں ہوسکا۔ عبدالرحمن گھر سے زیادہ نہیں نکلتا تھا اور نہ ہی مشتبہ افراد کے ساتھ اس کا ملنا جلنا تھا۔ اس کا پاسپورٹ بھی نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کبھی مملکت سے باہر سفر کیا"۔عبداللہ التویجری نے واضح کیا کہ ان کا بیٹا جمعرات کے روز (حملے سے ایک روز پہلیبریدہ شہر کے مغرب میں ضراس کے علاقے میں ان کے ساتھ تھا۔ اور دونوں کے درمیان ایسی کوئی گفتگو نہیں ہوئی جس سے اس کی اس کارروائی کا عندیہ ملتا۔ انہوں نے بتایا کہ کارروائی میں زخمی ہونے والا دوسرا دہشت گرد ان کے بیٹے کا ایک عزیز اور دوست ہے، اور دونوں اکثر اوقات ساتھ ہی رہتے تھے۔ عبدالرحمن بریدہ میں کالج میں زیرتعلیم تھا اور ساتھ ہی ایک ریستوران میں بھی کام کرتا تھا۔