Print this page

عرب دنیا کو منشیات میں غرق کرنے کی کوششوں سے بھرپور ایرانی تاریخ

رياض ۔26جنوری (فکروخبر/ذرائع)منشیات کی تیاری کے لیے پاسداران انقلاب کے "باورچی خانے"، ایرانی حکومت کے عناصر اور پاسداران کے خصوصی تربیتی کیمپوں کو مالی رقوم کی فراہمی کے اہم ترین ذرائع شمار کیے جاتے ہیں۔یہ "باورچی خانے" لبنان میں "فيلق القدس" اور "حزب الله" جب کہ یورپ، افریقہ، لاطینی امریکا، پاکستان اور افغانستان میں اسلحے، منشیات اور منی لانڈرنگ میں ان تنظیموں کی شراکت دار مافیاؤں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔سال 2014 میں وکی لیکس کی جانب سے منظر عام پر آنے والے امریکی سفارتی ٹیلی گراموں کے مطابق ایران کو دنیا بھر میں منشیات کا سب سے بڑا اسمگلر خیال کیا گیا ہے اور پاسداران انقلاب کے ذمہ داران اس اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

ٹیلی گراموں کے مطابق ایران، افغانی افیون کا سب سے بڑا خریدار اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیروئن تیار کرنے والے ملکوں میں بھی ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران خلیجی ممالک اور متعدد عرب اور اسلامی ملکوں میں منشیات کی اسمگلنگ کی کارروائیوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ منشیات کی انتہائی کثیر یہ مقدار ایران سے سمندری راستے اور بعض مرتبہ یمن 150 سعودی عرب سرحد کے ذریعے آتی ہے۔
جولائی 2005 میں عراقی قومی کمیٹی برائے انسداد منشیات نے بتایا کہ عراق، اردن، شام اور خلیجی عرب ممالک میں "سفید زہر" برآمد کرنے والا مرکزی ذریعہ "ایران" ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق منشیات کے اسمگلروں کی سرگرمیاں تین پڑوسی ملکوں شام، اردن اور بالخصوص ایران کے ساتھ خارجی راستوں پر انحصار کرتی ہیں۔
مارچ 2012 میں سعودی وزارت داخلہ نے مختلف نوعیت کی منشیات کی اسمگلنگ کی ایک کوشش ناکام بنا دی۔ یہ کارروائی ایک جرائم پیشہ نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے افراد کی نقل وحرکت پر نگرانی کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ بنیادی طور پر خلیجی ممالک کو ہدف بنانے والے اس نیٹ ورک کا نقطہ آغاز ایران تھا۔
وزارت داخلہ سعودی عرب کے مشرقی ساحلوں کے ذریعے نصف ٹن حشیش اسمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ اسمگلنگ میں ملوث 4 پاکستانی اور 5 ایرانی باشندوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ وزارت داخلہ کے سرکاری ترجمان منصور الترکی نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ گرفتار شدگان ایک جرائم پیشہ نیٹ ورک کے تحت کام کرتے ہیں جو ایرانی سرزمین سے منشیات کو سعودی عرب اور خلیجی ممالک تک اسمگل کرتا ہے۔
اس سے قبل سعودی ٹیلی وژن کو دیے گئے ایک بیان میں منصور الترکی نے انکشاف کیا تھا کہ وزارت داخلہ کو حاصل ہونے والے اعترافی بیانات سے معلوم ہوا ہے کہ ایران منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ان جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی آمدورفت کا ایک نمایاں ترین اڈہ ہے۔
​ایک ارب ریال مالیت کی منشیات ضبط
اپریل 2014 مین سعودی وزارت داخلہ نے ایمفیٹامائین کی 2 کروڑ 20 لاکھ 85 ہزار 570 گولیاں اسمگل کرنے کی دو کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ اس کثیر مقدار کی مارکیٹ ویلیو 1 ارب 3 کروڑ 80 لاکھ 21 ہزار 790 ریال تھی۔ دونوں کارروائیوں میں ملوث پانچ سعودی اور ایک بحرینی باشندے کو گرفتار کر لیا گیا۔ وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ ان کارروائیوں کا تعلق اسمگلنگ کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک سے ہے جو سعودی عرب میں ایمفیٹامائین اسمگل کرنے کے سلسلے میں سرگرم ہے۔ اس نیٹ ورک کو شامی باشندے چلا رہے ہیں جو مشرق وسطی کے متعدد ملکوں میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
اپریل 2014 میں ہی کوالالمپور میں ایرانی سفیر مرتضی جاوداں نے بتایا کہ ملائیشیا میں 86 ایرانی قیدیوں کو منشیات میں ملوث ہونے کے الزام میں سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔ ایرانی ایجنسی اِرنا نے جاوداں کے حوالے سے مزید بتایا کہ "اس وقت ملائشیا میں 221 ایرانی قیدی موجود ہیں، جن میں 31 خواتین اور 190 مرد ہیں۔ ان میں زیادہ تر قیدیوں پر منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق جرائم کے الزامات ہیں"۔
اکتوبر 2014 میں کویت نے 50 لاکھ نشہ آور گولیاں پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ان میں نصف کو امارات میں جب کہ بقیہ نصف کو سعودی عرب میں تقسیم کیا جانا تھا۔ اماراتی وزارت داخلہ کے اہل کار کویت کی جانب سے بروقت اطلاع کے نتیجے میں اسمگلروں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس دوران گولیوں کی بڑی مقدار برآمد کرلی گئی جسے لکڑی کی تختیوں میں چھپایا گیا تھا۔
ستمبر 2014 میں عراقی صوبے دیالیٰ کے گورنر نے بتایا کہ " صوبے کے اندر موجود 90 فی صد منشیات کا ذریعہ ایران ہے، اس حقیقت کی تصدیق مقامی سیکورٹی ادارے نے بھی کی ہے"۔ سابق گورنر عمر الحمیری کے مطابق "عراق اور ایران کے درمیان مشترکہ سرحد پر پیشہ ور گینگ مختلف قسم کی منشیات اسمگل کرنے کی کارروائیاں کرتے ہیں"۔
اگست 2015 میں کویت ایئرپورٹ پر فضائی کارگو کسٹم کے حکام نے لبنان سے آنے والی منشیات ضبط کرلی جو 40 لاکھ نشہ آور کیپٹاگون گولیوں پر مشتمل تھی۔ کویتی میڈیا کے مطابق ان گولیوں کو شام میں تیار کر کے لبنان میں پیک کیا گیا۔ اور پھر پہلے مصر اور اس کے بعد امارات پہنچایا گیا۔
نومبر 2015 میں سعودی حکام نے ریاض میں 3 ایرانی شہریوں کو سزائے موت دی۔ ان افراد پر سمندر کے راستے حشیش کی بڑی مقدار سعودی عرب اسمگل کرنے کے سلسلے میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
دسمبر 2015 میں متحدہ عرب امارات نے ایک ایرانی Steamship کو قبضے میں لے لیا جس کے کپتان نے نشہ آور مواد کی بڑی مقدار اسمگل کرنے کی کوشش کی تھی۔ شارقہ کی خالد البحری بندرگاہ کے پر ہونے والی کارروائی میں 11.5 کلوگرام حشیش اور 1 لاکھ 42 ہزار 725 نشہ آور گولیاں برآمد کرلی گئیں جن کو خفیہ مقامات پر چھپایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ اسٹیم شپ پر سوار 10 افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ کپتان کے ساتھ تحقیق کے بعد مشتبہ افراد نے اعتراف کرلیا کہ ضبط کی گئی مقدار ایران میں منشیات کے ایک تاجر کی ہدایت پر پہنچائی گئی ہے تاکہ امارات میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے ذریعے اس کو پھیلایا جا سکے۔