dushwari

سعودی مبلغ کا خواتین کو "ننگ" قرار دینا مہنگا پڑگیا

عوامی خفگی اور غصے پر نام نہاد مبلغ نے پینترا بدل لیا

ریاض ۔25جنوری(فکروخبر/ذرائع )سعودی مبلغ علی المالکی کے خواتین سے متعلق تبصرے نے سوشل میڈیا پر بحث و جدل کا طوفان کھڑا کردیا ہے۔ المالکی نے ایک سیٹلائٹ چینل "بداية" پر نوجوانوں کے ایک پروگرام کے دوران کہا تھا کہ " دیکھیے جو کوئی آپ کی بیٹی یا بہن سے شادی کررہا ہے وہ (آپ پر) مہربانی کرنے والا ہے کہ اس نے آپ سے عار کو اٹھا لیا، کتنے ہی والد ہیں جو آخری سانسیں لیتے ہوئے آبدیدہ ہوکر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ دو یا تین رہ گئیں ہیں جب کہ کتنے ہیں جو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے میں نے امانت ادا کردی"۔

ٹوئیٹر پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ڈاکٹر المالکی کی جانب سے لڑکیوں کے بارے میں کی جانے والی بات پر اپنے شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ حرم شریف کے ایک سابق امام شیخ عادل الکلبانی کا کہنا ہے کہ "بیٹی کوئی عار نہیں، بیٹی تو آگ (دوزخ) سے بچاؤ کی ڈھال ہے"۔
المالکی بات سے پیچھے ہٹ گئے
دوسری جانب ڈاکٹر علی المالکی شدید عوامی ردعمل کے بعد اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئے۔ المالکی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد خواتین کی قدر و منزلت کم کرنا نہیں تھا، بعض لوگوں کے غلط سمجھنے سے ان کی بات سیاق سے باہر چلی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ "عورت تو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہر شکل میں قابل احترام ہے۔ لفظ عار سے میری مراد اس کا مقابل معنی تھا جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔ میرا مطلب تھا کہ عورت ایک مرد کا اعزاز اور اس کی آبرو ہوتی ہے۔ اور نیک آدمی سے اس کی شادی درحقیقت اس محفوظ آبرو کی نگرانی ہے"۔
ڈاکٹر المالکی کی ڈگری جعلی ہے ؟
ادھر سعودی کالم نگار قینان الغامدی نے خواتین کو عار قرار دینے سے متعلق ڈاکٹر المالکی کے بیان کا جواب دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ، (نام نہاد) "مذہبی مبلغ" علی المالکی کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری جعلی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ لوگ جو خود کو مبلغ، یا طالب علم یا واعظ کا نام دے دیتے ہیں، ان کے اپنے حاضرین اور سامعین ہوتے ہیں کیوں کہ یہ لوگ مذہب کو سواری بنا کر مذہب کے نام پر باتیں بناتے ہیں"۔
غامدی کے نزدیک "اس طرح کے لوگ سمجھتے ہیں کہ عورت لذت حاصل کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے اور وہ مرد کی ملکیت ہے، اس کا مقام صرف گھر ہے ... اس طرح کے لوگ طلاق کی نیت سے تین، تین عورتوں تک سے شادی کرلیتے ہیں اور پھر اپنے لیے خود ہی فتویٰ نکال لیتے ہیں"۔سعودی کالم نگار نے یہ بھی کہا کہ ہمارا معاشرہ اس طرح کے بیانات سے بیزار ہوچکا ہے جو فتنوں کی چنگاری لگا دیتے ہیں، لوگوں کی اکثریت جو ٹوئیٹر کے آنے سے پہلے خاموش تھی، اب میں اسے اس طرح کے کلام کو مسترد کرنے کے درپے دیکھ رہا ہوں"۔


امت مسلمہ دہشتگردی اور معاشرے سے بے چینی کے خاتمہ کیلئے رسول اللہ ؐ کی سنت پر عمل کرے ٗامام کعبہ 

ریاض ۔25جنوری(فکروخبر/ذرائع ) امام کعبہ شیخ عبداللہ عوادالجھنی نے کہا ہے کہ امت مسلمہ دہشتگردی اور معاشرے سے بے چینی کے خاتمہ کے لئے قرآن پاک اور رسول کریم حضرت محمد کی سنت پر عمل کرے۔وہ پاکستانی سفارتخانے میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مرکزی رہنما عبدالمالک مجاہد کی کتاب سنہری سیرت کی تقریب رونمائی کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔ تقریب میں باچا خان یونیورسٹی میں دہشت گردی کی شدید مذمت کی گئی۔ امام کعبہ شیخ عبداللہ عواد الجھنی نے شہدا کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلیے دعاکی۔پاکستانی سفیرمنظورالحق نے کہا کہ مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ دیگر مقررین میں قاری وحید، مختار عثمانی، فیصل علوی، ابو تراب اور دیگر شامل تھے۔ 


سعودی عرب،ایک فارم میں اونٹوں کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق 

ریاض ۔ 25 جنوری (فکروخبر/ذرائع) سعودی عرب میں ایک فارم میں اونٹوں کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو گئی۔سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق زراعت کے نائب وزیر نے کہا ہے کہ جدہ کے مغرب میں الخمرا کے علاقے میں ایک فارم میں کرونا وائرس کی وباء پھیل گئی ہے جس کے باعث 20میں سے گیارہ اونٹ اس مرض سے متاثر ہو گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں صحت کے اور حفاظتی اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو اونٹوں کو مویشیوں کی منڈی میں لے جانے سے منع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم فارم میں اس مرض کے پھیلنے کی وجوہات معلوم کررہے ہیں