dushwari

سعودی عرب اور چین کے مابین سلک روڈ اکنامک بیلٹ سمیت 14 معاہدے(مزید اہم ترین خبریں)

اقتصادی میدان میں مل کر آگے بڑھنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے اتفاق

ریاض ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع )سعودی عرب اور چین نے باہمی تعاون کے 14 معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کرتے ہوئے اقتصادی میدان میں مل کر آگے بڑھنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے اتفاق کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ پہلے سرکاری دورے پر ریاض پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ صدر شی پنگ نے شاہ سلمان سے ون آن ون ملاقات کی۔ سعودی فرمانروا نے اپنے چینی مہمان کوشاہ عبدالعزیز ایوارڈ بھی پہنایا۔

بعد میں دونوں رہ نماؤں کے درمیان باہمی تعاون کے 14 معاہدے اور یادداشتیں منظور کی گئیں۔ ان میں آزادانہ تجارت، دو طرفہ معاشی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی میں باہمی تعاون، مصنوعی سیاروں، جہاز رانی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے جیسے اہم معاہدے شامل ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق چین اور سعودی عرب کی قیادت نے باہمی تعاون کے 14 معاہدوں پر دستخط کیے۔ ان میں اہم ترین سعودی عرب، چین سلک روڈ اکنامک بیلٹ کا معاہدہ سر فہرست ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملک اقتصادی ترقی میں باہمی تعاون کے لیے مغربی چین سے وسطی ایشیا اور وہاں سے یورپ تک سڑکیں، ریلوے لائنیں، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں تعمیر کریں گے۔ دو طرفہ تعاون کے دیگر منصوبوں میں ہائی انرجی نی جوہر ری ایکٹر کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ معاہدے پر سعودی عرب کی جانب سے وزیردفاع اور نائب ولی شہزادہ محمد بن سلمان نے جب کہ چین کی جانب سیڈویلپمنٹ وریفرم کمیٹی کے چیئرمین شوشاؤ پاؤ نے دستخط کیے۔دونوں ملکوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی تعاون کے معاہدے کی منظوری دی گئی جس پر سعودی عرب کی جانب سے شاہ عبدالعزیز سائنس و ٹیکنالوجی سٹی کے چیئرمین شہزادہ ترکی بن سعود بن محمد اور چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے دستخط کیے۔سعوی عرب اور چین کے درمیان باہمی تعاون کے تحت مصنوعی سیاروں کی تیاری میں باہمی تعاون ، سلک روڈ پروجیکٹ کے بارے میں دوطرفہ معلومات کے تبادلے کی منظوری اور گنجان آباد علاقوں میں ماحولیاتی بہتری کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ دونوں ملکوں نے دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے کا عزم کیا۔ اس حوالے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مشترکہ مشاورتی میکینزم کے قیام کے لیے بھی ایک معاہدے کی منظوری دی گئی جس پر سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر اوران کے چینی ہم منصب وانگ یی نے دستخط کیے۔دونوں ملکوں کے درمیان طے پائے دوطرفہ تعاون کے معاہدوں میں صنعت، توانائی، اعلیٰ درجہ انرجی پیدا کرنے والے جوہری پلانٹ کیقیام، ارامکو کمپنی اور جمہوریہ چین کے ریسرچ واپ گریڈنگ سینٹر کے درمیان ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی یاداشت، ارامکو اور چین کی پٹیرو کیمیکل کمپنی SINOPEC کے درمیان یاداشت ، صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے علاوہ سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں بھی باہمی تعاون کی یاداشتیں منظور کی گئیں۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور چینی صدرشی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، باہمی تعاون کے فروغ کیساتھ ساتھ عالمی مسائل پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی امن و اسحکام بالخصوص دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹںے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے سے اتفاق کیا۔اس موقع پر چینی صدر نے دورہ سعودی عرب اور شاہ سلمان سے ملاقات کو اپنے لیے باعث سعادت قرار دیا۔ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے شاندار استقبال پر سعودی قیادت اور قوم کا شکریہ ادا کیا۔ صدر پنگ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور چین کے درمیان مستقبل میں تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہوں گے۔


پابندیوں کے خاتمے کے باوجود ایران کو بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا،فرانس

ریاض۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع) فرانس کے وزیرخارجہ لوران فابیوس نے کہا ہے کہ ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تہران کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے، جوہری معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔اپنے دورہ ریاض سے قبل عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی وزیرخارجہ لوران فابیوس نے سعودی عرب اور فرانس کے مابین دوستانہ تعلقات اور باہمی تجارتی واقتصادی روابط کی تحسین کی۔ ریاض روانگی سے قبل فابیوس نے کہا کہ وہ سعودی عرب کی قیادت سے ملاقات کے دوران علاقائی صورت حال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے بھی سعودی قیادت سے بات چیت کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور فرانس کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس مارچ میں ہو گا اور میں اس اجلاس میں اس کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے بھی شرکت کروں گا۔ لوران فابیوس نے کہا کہ ریاض اور پیرس کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان عبدالعزیز اور دیگر سعودی رہ نماں سے ملاقات میرے لیے باعث اعزاز ہو گی۔ایران کے حوالے سے بات کرتے فرانسیسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ تہران کو جوہری معاہدے کی تمام جزئیات پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ ہم ایران کی جانب سے جوہری تنازع پر پائے سمجھوتے پرعمل درآمد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران سے معاہدے اور مذاکرات کے بارے میں فرانس کا موقف واضح ہے۔ پچھلے سال 14 جولائی کو طے پائے سمجھوتے میں ایران نے پابندیوں کے خاتمے کے لیے جن اقدامات کی یقین دہانی کرائی تھی انہیں ہرصورت میں کرنا ہو گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ عالمی توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کرے گی کہ آیا ایران جوہری معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے یا نہیں۔لوران فابیوس کا کہنا تھا کہ جنگ سے امن معاہدہ بہتر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فرانس ایران کے اقدامات کا بھی تواتر کے ساتھ جائزہ لے گا۔


یو اے ای ، فوجی یونیفارم میں رقص پردوافراد کے وارنٹ گرفتاری جاری

دبئی۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع)متحدہ عرب امارات کی حکومت نے دو مردوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں جنھوں نے فوجی یونیفارم میں ڈانس کرتے ہوئے اپنی ویڈیو انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ان دو افراد نے یونیفارم میں رقص کرنے کے دوران کچھ ایسی حرکات کی ہیں جس سے یونیفارم کی حرمت، اور فوج کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔حکومت کا مزید کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ملٹری سروس کی بے عزتی ہے۔یاد رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں فوجی کارروائیوں میں متحدہ عرب امارات بھی اس اتحاد کا حصہ ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ کچھ غیر ذمہ دار افراد نے غیر مہذب حرکات کی ہیں جس سے مقامی افراد کے دلوں میں جو فوج کے لیے عزت ہے اس کو ٹھیس پہنچی ہے۔



حوثی باغیوں کی سعودی عرب میں دراندازی کی کوشش ناکام،فورسز کی کارروائی میں30ہلاک،متعدد زخمی،کئی گاڑیاں تباہ 

ریاض۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع) حوثی باغیوں کی سعودی عرب میں دراندازی کی کوشش ناکام،فورسز کی کارروائی میں30ہلاک،متعدد زخمی،کئی گاڑیاں تباہ کر دی گئیں ۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے یمن کی سرحد سے دراندازی کی کوشش کرنے والے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 30 حوثی باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب کی بارڈر فورسز کے سربراہ نے ایک بیان میں بتایا کہ سرحدوں کی حفاظت پر مامور فورسز سرحد پار سے دراندازی روکنے کے لیے ہمہ وقت چوکس ہیں۔ فورسز پوری سرحد کی مکمل نگرانی کر رہی ہیں۔ سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی دراندازی کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوتے دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے تیار ہیں۔سعودی عہدیدار کا کہنا تھا کہ سرحد پار سے دراندازی کرنے والے باغیوں کے خلاف کارروائی میں نہ صرف دشمن کو جانی نقصان پہنچایا گیا ہے بلکہ ان کے زیراستعمال کئی گاڑیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔