dushwari

تیل پر انحصار ختم کرنے کا دور آپہنچا: حاکم دبئی( مزید اہم خلیجی خبریں)

تیل کی برآمد سے چھٹکارے کا جشن جلد منائیں گے

دبئی ۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع )ایک ایسے وقت میں جب کہ عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتوں نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو پریشان کررکھا ہے، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور حاکم دبئی نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا ہے کہ ان کا ملک بتدریج تیل پر انحصار ختم کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت زیادہ دور نہیں جب ہم تیل کے آخری بیرل کی برآمد کا جشن منائیں گے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے نائب صدر الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے  ٹویٹر  پر پوسٹ ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک تیل پرانحصار بتدریج کم کرنے کی پالیسی کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں ںے کہا کہ جلد ہی ہم تیل کی برآمد ختم کرنے کا جشن منائیں گے۔ ہم تیل کے متبادل توانائی کے ذرائع پرکام کررہے ہیں۔ حاکم دبئی کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کے لیے بہترین معیشت کی خاطر متبادل توانائی کے ایک جامع قومی پلان جلد ترتیب دیں گے تاکہ مضبوط معیشت کو ایک نئے انداز میں آگے بڑھایا جائے۔حاکم دبئی الشیخ محمد بن زاید نے کہا کہ متحدہ امارات نے معیشت کے لیے 70 فی صد تیل پرانحصار کم کردیا ہے۔ ہمارا ہدف ایک ایسی معیشت کی داغ بیل ڈالناہے جس کا تیل پرانحصار نہ ہو۔ اس سلسلے میں ہم نئے اقتصادی شعبوں کا اضافہ کررہے ہیں۔ موجودہ معاشی سیکٹرز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں گے اور ایک ایسی نئی نسل تیار کریں گے جو متوازن اور دیر پا قومی معیشت کو آگے بڑھا سکے۔خیال رہے کہ پچھلے ہفتے کا اختتام عالمی منڈی میں امریکی کروڈ آئل 30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ہوا۔ برنٹ کروڈ کی یہ 13 سال کی کم ترین قیمت ہے۔ آئندہ ماہ فروری میں مغربی ٹیکساس میں خام تیل فی بیرل 29.42 ڈالر کی قیمت کی تجویز ہے جو کہ موجودہ قیمت سے بھی 1.78 فی صد کم ہے۔ نیویارک میں رواں سال کے آغاز میں فی بیرل تیل کی قیمت میں 7.50 ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی جو کہ کل کمی کا 21 فی صد ہے۔


عدن:خود کش کار بم حملے میں متعدد افراد ہلاک

حملے میں ڈائریکٹر سیکیورٹی کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا

یمن:18جنوری(فکروخبر/ذرائع )یمن کے جنوبی علاقے عدن کے سلامتی سے متعلق امور کے ڈائریکٹر کی رہائش گاہ پر ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم 20 افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کا نشانہ بننے والے بیشتر راہ گیر اور عام شہری شامل ہیں جو ان کی رہائش گاہ کے قریب سے گذر رہے تھے۔یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبانے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عدن کے سیکیورٹی ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل شلال علی شائع کی رہائش گاہ پر دھماکہ اس وقت ہوا جب وہ گھر پر موجود تھے تاہم وہ اس حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے ہیں۔ تاہم مرنے والوں میں ان کے محافظ شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ ایک خود کش کار بم حملہ تھا جس نے بارود سے بھری کار کے ذریعے دھماکہ کیا۔ بارود سے لدی کار کو ڈائریکٹر سیکیورٹی کی جولد مور کے مقام پر رہائش گاہ کے مرکزی دروازے کے سامنے کھڑی بکتر بند گاڑی سے ٹکرایا گیا جس کے نتیجے میں دھماکہ ہو گیا۔حملہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں یمنی سیکیورٹی عہدیدار کی رہائش گاہ سمیت آس پاس کی عمارتیں بھی لرز کر رہ گئیں۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ خود کش کار بمبار نے کار کو ساحلی علاقے جولد مور کے مام پر واقع بریگیڈیئر جنر شائع کی رہائش کے قریب دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ادھر ایک دوسری پیش رفت میں العربیہ کو اپنے ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اتحادی ممالک کی جانب سے عدن میں بکتر بند گاڑیوں، توپخانے اور دیگر انواع و اقسام کے اسلحہ کی بھاری کھیپ عدن پہنچا دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی سازوسامان البریقہ بندرگاہ پر کے قریب تیل صاف کرنے والے کارخانے میں بھی پہنچایا گیا ہے تاکہ عدن میں دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ادھر صنعاء میں اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے باغیوں کے ٹھکانوں پر متعدد مقامات پر بمباری کی ہے۔ شمالی صنعاء میں ھمدان کے جبل ضین اور الکسارہ کے مقامات پرحوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے۔ مشرق صنعاء مین خون کے مقاب پر دارالحکومت اور مآرب گورنری کے درمیان رابطہ سڑک پر بھی بمباری کی گئی ہے۔