dushwari

شامی بحران حل کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی،سعودی عرب

ریاض۔06جنوری(فکروخبر/ذرائع ) سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنیوا اور نیویارک میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں طے پانے والے اصولوں کی روشنی میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر شامی بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ان خیالات کا اظہار سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے شام کے لئے یو این کے خصوصی ایلچی سٹیفن دی میستورا سے ملاقات میں کیا۔عادل الجبیر نے اس امر کا ایک مربتہ پھر اعادہ کیا کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔

سعودی عرب خود کو شامیوں کو آزادی اور حقوق دلانے کا پابند خیال کرتا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ان کا ملک شامیوں کو فوجی، سیاسی اور اقتصادی تعاون جاری رکھے گا۔اس موقع پر دی میستورا کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی خواہش اور کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ اس کی حالیہ کشیدگی ویانا مذاکرات کی روشنی میں شامی بحران کے حل تلاش کرنے کوشش پر منفی اثر نہ ڈالے۔


سفارتی تعطل، ایران کے معاشی خسارے کا موجب بنے گا،سعودی ماہرین 

ریاض۔06جنوری(فکروخبر/ذرائع ) سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے منفی اثرات دونوں ملکوں کی معیشت اور تجارت پر بھی پڑیں گے مگر اس کا سب سے زیادہ نقصان ایران کو اٹھانا پڑے گا۔عرب ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 کے اختتام تک ایران کے لیے سعودی عرب کی برآمدات کا حجم 383 ملین ریال تھا۔ سعودی عرب کی عالمی برآمدات کا یہ عشرعشیر بھی نہیں کیونکہ پوری دنیا میں سعودی عرب کے تجارتی تعلقات اس کی معیشت کی مضبوطی کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ ایران کے ساتھ بحران کے نتیجے میں سعودی عرب کی تہران کے لیے برآمدات متاثر ہوتی بھی ہیں تو اس سے ریاض کی معیشت پر کوئی خاطر خواہ منفی اثر نہیں پڑے گاسعودی عرب کی ایران میں درآمدات کا حجم 682 ملین ریال ہے۔ یوں مجموعی طور پر دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 2014 کے آخر میں تجارت کا حجم ایک ارب 65 ملین ریال تھا۔اقتصادی ماہرین کاخیال ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات ٹوٹنے کے نتیجے میں اس کے منفی اثرات سعودی عرب پر کم جب کہ ایران پر زیادہ پڑیں گے کیونکہ ریاض اور تہران کے درمیان متبادل تجارتی حجم بہت کم ہے۔ سفارتی تعطل کے نتیجے میں سعودی عرب کی ایران کے لیے برآمدات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دوسری جانب ایرانی برآمدات کا معیار اتنا پست ہے۔ اگر ایرانی مصنوعات سعودی عرب کی منڈیوں تک نہ پہنچیں تب بھی ریاض کو کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم ایران ضرور خسارے میں رہے گا۔سعودی عرب کے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ابراہیم الغفیلی نے اخبارالریاض سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی برآمدات جدید اور اعلی معیار کی نہیں۔ ایرانی برآمدات میں ایسی اشیا شامل ہیں جو سعودی عرب کی بنیادی ضروریات کا حصہ نہیں ہیں۔ ان میں پستا، زعفران اور قالینیں وغیرہ خاص طور پر شامل ہیں۔انفرااسٹرکچر کے کمزور ہونے کے باعث اندرون ملک سے بھی ایرانی معیشت شکست خوردگی کا شکار ہے۔ ماضی میں کبھی بھی ایرانی مارکیٹ سعودی اور خلیجی سرمایہ کاروں کے لیے کسی قسم کی کشش پیدا نہیں کر سکی ہے۔ صرف خلیجی ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کی عالمی تجارتی فرمیں بھی ایران میں سرمایہ کاری کے لیے غیرمحفوظ ماحول کی بنا پر تہران میں سرمایہ کاری سے کتراتی رہی ہیں۔ ایرانی حکومتوں نے ملک میں سیاسی افراتفری اور فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دے کر خود ہی اپنی معیشت پر کلہاڑا چلایا جس کے ملک کی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ایک دوسرے ماہر معیشت ڈاکٹر سالم باعجاجہ کا کہنا ہے کہ ریاض کا ایران کے ساتھ سیاسی اور سفارتی روابط بحال کرنے کا موقف صائب ہے۔ اس فیصلے سے سعودی عرب کی معیشت پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی معیشت پہلے ہی سنگین ابتری کا شکار ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کے خاتمے کی قیمت ریاض کو نہیں تہران کو چکانا پڑے گی۔