dushwari

سعودی عرب کا 34 ملکی اسلامی فوجی اتحاد بنانے کا اعلان (مزید اہم ترین خبریں )

ریاض۔ 15 دسمبر (فکروخبر/ذرائع)سعودی عرب نے 34ملکی اسلامی فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کردیا۔ سعودی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اتحاد میں پاکستان بھی شامل ہوگا۔ سعودی وزیردفاع محمد بن سلمان کا کہنا ہے اسلامی فوجی اتحاد داعش ہی نہیں ہراس دہشتگردکامقابلہ کریگاجو امت مسلمہ کے مقابل آئیگا۔سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف اسلامی فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کردیا۔سعودی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، ترکی، مصر، اردن ،ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، خلیجی اور افریقی ملک بھی اسلامک ملٹری الائنس کا حصہ ہوں گے۔تاہم اس فوج میں ایران کا نام شامل نہیں۔

اس اتحاد کا مرکز ریاض میں ہوگا جہاں سے فوجی آپریشنز کے سلسلے میں رابطہ رکھا جائے گا اور ہرممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ریاض سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چاہے دہشت گردوں کا تعلق کسی بھی فرقے سے ہو لیکن انہیں فساد پھیلانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔امت مسلمہ کو تمام دہشتگرد گروپوں کے ناپاک عزائم سے بچانا مسلم قائدین کی ذمہ داری ہے۔ریاض میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی وزیردفاع محمد بن سلمان کا کہنا تھا اسلامی فوجی اتحاد داعش ہی نہیں ہراس دہشتگردکامقابلہ کریگاجو امت مسلمہ کے مقابل آئیگا۔اس اتحاد کا مقصد عراق، شام، لیبیا، مصر اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف مربوط کوششیں کرنا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔اعلان کے مطابق ’اتحاد کا مقصد تمام دہشت گرد گروپوں اور تنظیموں کی کارروائیوں سے اسلامی ممالک کو بچانا، فرقہ واریت کے نام پر قتل کرنے، بدعنوانی پھیلانے یا معصوم لوگوں کو قتل کرنے سے روکنا ہے‘۔واضح رہے کہ حال ہی میں امریکا کی جانب سے بارہا اس خیال کا اظہار کیا گیا کہ عراق اور شام میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف داعش کے خلاف خلیجی ممالک کو فوجی اتحاد قائم کرنا چاہیے۔


سعودی قیادت میں 34 اسلامی ممالک کا دہشت گردی کے خلاف فوجی اتحاد

ریاض۔ 15 دسمبر (فکروخبر/ذرائع) دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 34 اسلامی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جس میں مصر، قطر اور عرب امارت جیسے کئی عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی، ملائیشیاء اور افریقی ممالک شامل بھی ہیں۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان ممالک کی فہرست جاری کی ہے اور کہا ہے کہ ان ملکوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، آپسی روابط اور ملٹری آپریشن کی غرض سے اس کا مشترکہ آپریشن سینٹر ریاض میں ہوگا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسلامی ممالک کو شدت پسندی میں ملوث ہر اس تنظیم اور گروہ چاہے اس کا کوئی بھی نام ہو یا کسی بھی مسلک سے تعلق ہو کی تخریب کاری سے تحفظ کو فرض قرار دیا گیا ہے جو زمین پر فساد برپا کر رہے ہیں اور جن کا مقصد معصوم افراد میں دہشت پھیلانا ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کے وزیر دفاع 30 سالہ شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ اس مہم کے ذریعے عراق، شام، لیبیا مصر اور افغانستان جیسے ممالک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مربوط کیا جائے گا تاہم انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں بتائی جس سے یہ معلوم ہو سکتا کہ یہ فوجی مہم کس طرح عمل میں لائی جائے گی۔ان کا کہنا تھاکہ شام اور عراق میں آپریشن کے لیے اہم طاقتوں اور عالمی اداروں کے ساتھ عالمی سطح کے روابط استوار کیے جائیں گے، ہم قانونی جواز کے ساتھ عالمی برادری کے ساتھ روابط کے بغیر یہ آپریشن انجام نہیں دے سکتے ۔ان سے جب پو چھا گیا کہ کیا یہ نیا فوجی اتحاد صرف دولت اسلامیہ کیخلاف ہوگا تو محمد بن سلمان نے کہا نہ صرف وہ گروپ بلکہ ہمارے سامنے جو بھی دہشت گرد تنظیم ابھرے گی ہم اس کا سامنا کریں گے۔


دبئی میں 4 ہزار 144 ہیروں سے مزین دنیا کی مہنگی ترین گھڑی کی نمائش

دبئی ۔ 15 دسمبر (فکروخبر/ذرائع) دبئی میں 4 ہزار 144 ہیروں سے مزین دنیا کی مہنگی ترین گھڑی نمائش کیلئے پیش کر دی گئی ہے۔ معروف روسی جیولر وکٹر موئسکن کی تیار کردہ "دی ہارن آف پلینٹی" نامی اس گھڑی میں قیمتی پتھر اور نگینے نصب کئے گئے ہیں۔ یہ گھڑی 10 سال کے طویل عرصے میں تیار کی گئی ہے۔ ایک کلو خالص سونے سے تیار کی گئی ڈیڑھ ملین ڈالر مالیت کی یہ گھڑی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقد ہونے والے جیولری ویک کے موقع پر نمائش کیلئے پیش کی گئی ۔