dushwari

مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی نامنطور ہے ، سعودی عرب(مزید خلیجی خبریں)

ریاض۔یکم دسمبر(فکروخبر/ذرائع)سعودی عرب کی حکومت نے مغرب میں پناہ گزینوں اور مسلمانوں کے خلاف پیدا ہونے والی حالیہ نفرت اور اس کے نتیجے میں دشمنی اور نسل پرستی کے مظاہر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی حکومت نے مغرب میں مسلمانوں اور مسلمان ملکوں سے آنے والے پناہ گزینوں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ اور سیاسی سطح پر اختیار کیے گئے نسل پرستانہ مظاہر کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی عالمی تنظمیں اور عالمی ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے خلاف نفرت، دشمنی اور نسل پرستی کے واقعات کی روک تھام کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمان پناہ گزین اپنے ملک کی ظالم حکومتوں اور دہشت گرد تنظیموں سے تنگ آکر دوسرے ملکوں کو بجرت پرمجبور ہیں۔ انسانی جذبے کے تحت ان کی مدد کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ انہیں مسلمان سمجھ کرانتقامی کارروائیوں اور نسل پرستی کی بھینٹ چڑھانا کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔سوموار کے روز ریاض میں شاہ سلمان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاسد کے دوران بھی مغربی ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف جاری منافرت پرمبنی پالیسی پربحث کی گئی۔بعد ازاں کابینہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مصر کے شہر العریش، لیبیا کے الخمیس اور تیونس کے ریپبلیکن گارڈز کی بس پر دہشت گردوں کے حملے کی بھی مذمت کی گئی۔


قطر مزدوروں کا استحصال روکنے میں ناکام رہا ہے،ایمنیٹسی انٹرنیشنل

دوحہ۔ یکم دسمبر (فکروخبر/ذرائع) حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایمنیٹسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ قطر تاحال غیر ملکی کارکنوں اور مزدوروں کے استحصال کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کر سکا ہے۔ برطانوی ذرایع ابلاغ کے مطابق قطر کو پانچ برس قبل 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور وہاں اس سلسلے میں جاری تیاریوں کے دوران غیر ملکی کارکنوں کے حالاتِ کار اور رہائش کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ مزدوروں کا استحصال جاری رہنا قطر اور فٹبال کی عالمی نگران تنظیم فیفا دونوں کے لیے باعثِ شرم ہے۔حقوقِ انسانی کی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ قطری حکام کارکنوں کو نوکری کی تبدیلی کا حق دینے اور اپنی مرضی سے ملک چھوڑنے سمیت کئی اہم معاملات میں کوئی بھی تبدیلی لانے میں ناکام رہے ہیں۔


رواں عمرہ سیزن کے دوران 60 لاکھ زائرین کی حجازِ مقدس آمد متوقع ہے،سعودی وزیر حج

ریاض۔ یکم دسمبر (فکروخبر/ذرائع) سعودی عرب میں رواں ہجری سال کے دوران دنیا بھر سے ساٹھ لاکھ سے زیادہ زائرین عمرہ کی آمد متوقع ہے۔زائرین کو ہر طرح کی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے سعودی حکومت نے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔سعودی عرب کے وزیر حج بندر حجار نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان کی وزارت نے مسجد الحرام اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آنے والے معزز مہمانوں کے خیرمقدم کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔وزارت نے اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لیے اپنے عملے اور اہلکاروں کو تعینات کردیا ہے تاکہ وہ زائرین عمرہ کی ہر طرح سے معاونت کرسکیں۔وزارت حج نے حال ہی میں زائرین عمرہ کو بہتر خدمات مہیا کرنے کے سلسلے میں اجلاسوں اور ورکشاپس کا انعقاد کیا ہے جہاں عمرہ فرموں اور خدمات مہیا کرنے والی کمپنیوں سمیت تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کو مدعو کیا گیا تھا۔وزارت حج نے اس مرتبہ عمرے کے انتظامات کو مربوط بنانے کے لیے نئے اقدامات کیے ہیں اور عمرے کے لیے لائسنس یافتہ فرموں سے کہا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے اندر اور بیرون ملکوں زائرین کو خدمات مہیا کرنے کے سلسلے میں رہ نما اصولوں کی پابندی کریں۔