dushwari

علما،طلبہ اورذمہ دارانِ مدارس سے کچھ باتیں!

مولانااسرارالحق قاسمی

ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً چودہ فیصداورمجموعی تعدادلگ بھگ پچیس کروڑہے۔ہندوستانی مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی حالت کے جائزے پر مشتمل سچرکمیٹی کی رپورٹ کے مطابق صرف چارفیصدیا اس سے بھی کم مسلمان ایسے ہیں جن کے بچے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔باقی کے چھیانوے فیصدمیں سے غیر معمولی تعداد ایسے بچوں کی ہے،جنھوں نے یا تو اسکول کالج کا منہ ہی نہیں دیکھایادیکھاتوابتدائی سالوں سے آگے نہ بڑھ سکے اورڈراپ آؤٹ ہوگئے۔ایسے میں ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہزارہامدارس کا یہاں کے مسلمانوں پر عظیم احسان ہے کہ وہ ان کے بچوں کونہ صرف تعلیم دیتے ہیں،بلکہ انھیں اعلیٰ اخلاق سے بھی آراستہ کرتے ہیں اور انھیں زندگی گزارنے کے ایسے اصول ونظریات سے آگاہی بخشتے ہیں،

خالدانورپورنوی المظاہری

مدرسہ بورڈ چرچا میں ہے ،اس کی اچھائیاں اور برائیاں موضوع بحث ہیں،اور اب تو تحقیقاتی جانچ ٹیم نے بھی اپناکام شروع کردیاہے،دیکھنا ہے کہ نچوڑ کیاسامنے آتاہے،حقائق کیا واضح ہوتے ہیں،لیکن یہ تو طے ہے کہ مدرسہ بورڈ آج اپنا رورہاہے،وہ اپنے وجود کوبچانے اور جسم پر لگے داغ دھبے کومٹانے کے لئے کسی کو پکاررہاہے۔

غفران ساجدقاسمی.....ریاض،سعودی عرب

مکتب،مدرسہ،اسکول یاپاٹھ شالاؤں کاوجودماقبل تاریخ دنیامیں بھی تھا،جس وقت دنیامیں لکھنے کارواج نہیں تھا،لیکن حصول علم کاکوئی نہ کوئی طریقہ اس وقت بھی موجودتھا،ویدک دورمیں حصول علم کاطریقہ زبانی یاددہانی کاتھا،پھریہ ترقی کرکے پتھر،چمڑااورپتہ پرلکھنے کے دورمیں پہونچا

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES