dushwari

حفیظ نعمانی

25 سال سے ہر سال 06 دسمبر آتی رہی اور جگہ جگہ مسلمانوں کے یوم غم منانے کی خبروں کے بعد گذرتی رہی کبھی کہیں سے ہلکی آواز میں یہ خبر بھی آجاتی تھی کہ وشوہندو پریشد اور بجرنگ دل نے 06 دسمبر کو یوم فتح کے طور پر منایا لیکن یہ اتنی نیچی آواز میں کہا جاتا تھا کہ صرف اخبار کی چند سطریں اسے مل جاتی تھیں۔ لیکن اس سال جو لہراتی ہوئی ننگی تلواروں اور بھگوا جھنڈوں کے ساتھ وجے دیوس یا یوم فتح منایا گیا اور صرف اجودھیا میں نہیں اترپردیش میں جگہ جگہ منایا گیا اور ہر جلوس پولیس کی موجودگی بلکہ اس کی حفاظت میں نکلا اس نے ثابت کردیا کہ اب اترپردیش میں آر ایس ایس کی حکومت ہے اور اب اگر یوم غم منایا تو جواب دینے کے لئے اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔

نئی دہلی :07؍ڈسمبر2017(فکروخبر/ذرائع)مہنگائی سے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کرنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نشانہ پر آئے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج کہا کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی کی طرح نہیں ہیں بلکہ ایک عام انسان ہیں اور غلطی کرتے ہیں۔مسٹر گاندھی نے بی جے پی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ٹوئٹر پر کہاکہ بی جے پی کو ان کی غلطیوں کا ذکرکرتے رہنا چاہئے۔ اس سے انہیں سدھرنے میں مدد ملتی ہے۔کانگریس لیڈر نے کہاکہ یہ میرے تمام بی جے پی کے بھائیوں کے لئے ہے۔

کلکتہ۔06دسمبر201(فکروخبر/ذرائع)  بابری مسجد کی 25ویں یوم شہادت کے موقع پر منعقد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے ملک کے عوام سے اپیل کی ان طاقتوں کو یکسر مسترد کردیں جو ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔اس کے علاوہ ممتا بنرجی نے افواہوں اور غلط خبروں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ عوام کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

لکھنو۔6دسمبر201(فکروخبر/ذرائع)   میں رام مخالف نہیں ہوں۔ ایودھیا میں ایک رام مندر نہیں ، ہزاروں رام مندر بنیں، مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔ میرا تو بس یہی کہنا ہے کہ بابری مسجد ہماری ہے اور اسی حق کی لڑائی کئی سالوں تک ہمارے والد لڑتے رہے اور ان کے انتقال کے بعد اب میں لڑ رہا ہوں۔ یہ کہنا ہے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے سب سے پرانے مدعی رہے مرحوم ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری کا۔

عبدالعزیز 

بابری مسجد کے مقدمہ کے فیصلہ کے بارے میں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسے وہ قبول کریں گے۔ میرے خیال سے مسلمانوں کو یہ کہنے کے بجائے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اگر ان مجرموں کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے جو تاریخی مسجد گراکر یہ کہہ رہے ہیں کہ رام مندر وہیں بنے گا جہاں بابری مسجد تھی تو مسلمان مجبوراً برداشت کریں گے یا صبر و تحمل سے کام لیں گے۔

محمد اکرم ظفیر 

ہر سال 06 دسمبر کی تاریخ جب آتی ہے تو 1992 کی وہ کالی رات و سیاہ دن مسلمانوں کے سامنے اپنی روداد و بے بسی پہ آنسو بہاتے ہوئے اپنی شہادت کی المناک واقعہ کو پیش کرکے آواز دیتی ہیکہ کہاں ہیں صلاح الدین ایوبی جیسے مسلمان اور کہاں ہیں کی ملک آئین کی حلف لینے والے حضرات؟؟ جس دن ملک کی آئین و سیکولر ڈھانچے کو کمزور کرتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کو فرقہ پرستوں نے شہید کردیا۔یہ کوئی اتفاق نہیں تھااور نہ ہی جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ تھا بلکہ اس کے لیے بھگوا بریگیڈ نے آزادی کے قبل سے ہی منصوبہ بنا رکھاتھا۔

ایودھیا:04؍ڈسمبر2017(فکروخبر/ذرائع)سپریم کورٹ کل سے ایودھیا میں  بابری مسجد معاملے کی ہر روز سماعت کرے گی ۔ 6 دسمبر 1992 کو کارسیوکوں نے ڈھانچے کو منہدم کیا تھا ۔ وشو ہندو پریشد اسمقام پر اگلے سال اکتوبر میں رام مندر کی تعمیر شروع کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ مرکز اور اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومتوں نے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس حساس معاملے پر انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔

ایودھیا۔04دسمبر2017(فکروخبر/ذرائع) سپریم کورٹ کل سے ایودھیا میں  بابری مسجد معاملے کی ہر روز سماعت کرے گی ۔ 6 دسمبر 1992 کو کارسیوکوں نے  ڈھانچے کو منہدم کیا تھا ۔ وشو ہندو پریشد اس مقام پر اگلے سال اکتوبر میں رام مندر کی تعمیر شروع کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ مرکز اور اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومتوں نے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس حساس معاملے پر انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔

وصیل خان 

بابری مسجد ؍رام جنم بھومی تنازعے کی سماعت دسمبر میں ہونے والی ہے تمام تاریخی ثبوت و شواہد مسلمانوں کے حق میں ہیں امید ہے کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہی ہوگا۔ بالفرض اگر نہیں بھی ہوا تو مسلم قیادت بار بار یہ اعلان کرچکی ہے کہ عدالت عظمیٰ مثبت یامنفی جو بھی فیصلہ کرے گی اسے قبول ہوگا لیکن جن کے دلوں میں صفائی نہیں ہےوہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ان کا دعویٰ اتنا کمزورہے کہ وہ عدالتی جرح کا ایک جھٹکا بھی برداشت نہیں کرسکتا .یہی وجہ ہے کہ ان کی نیندیں اچاٹ ہوگئی ہیں

حیدرآباد:25؍نومبر2017(فکروخبر/ذرائع) حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ 5دسمبر سے سپریم کورٹ میں بابری مسجد کے مقدمہ کے آغاز سے قبل آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں تناو کا ماحول پیدا کیا جائے ۔ ملک بھر میں دوبارہ اسے ایک سیاسی مسئلہ بنایا جائے تاکہ وہ اپنی سیاسی روٹیاں سیک سکیں۔ موہن بھاگوت کے رام مندر کے لئے اس طرح کے بیانات ملک کے لئے اور سپریم کورٹ کے لئے ٹھیک نہیں ہے ۔بیرسٹراسدالدین اویسی نے رام مندر سے متعلق موہن بھاگوت کے بیانات اور اعلانات کے سلسلہ میں ایک سوال کے جواب میں یہ بات بتائی ۔

صفحہ 1 کا 2

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES