dushwari

نفرت کی سیاست چاہے ہندو کرے یا مسلمان وہ ملک کا غدار ہے : مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ العالی

جمعیۃ علماء ہند کرناٹک کے زیر اہتمام بنگلور میں منعقدہ قومی یکجہتی کانفرنس میں ہزاروں افراد کی شرکت 

بنگلور 03؍ دسمبر 2017(فکروخبرنیوز) نفرت کی سیاست نے ملک کی فضاء کو زہریلا کردیا ہے ، اس سے قبل بھی نفرتیں تھیں لیکن اب نفرتیں کھلیں عام پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کو پھیلانے کے لیے پروپیگنڈے بھی کیے جارہے ہیں۔ ہمیں کسی بھی صورت میں نفرت کی سیاست قبول نہیں ہے ۔ ان باتوں کا اظہارصدر جمعیۃ علماء ہند، جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ العالی نے کیا ۔ مولانا موصوف کل رات جمعیۃ علماء ہند کرناٹک کے زیر اہتمام عید گاہ بلال بنگلور میں منعقدہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں قومی یکجہتی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

مولانا نے ملک کے موجودہ حالات میں بڑھتی نفرتوں پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ نفرت کی سیاست چاہے وہ مسلمان کرے یا ہندو کرے وہ ملک کا غدار ہے۔ ملک کے موجودہ حالات بہت خراب ہیں ، ہمیں اس نفرت کی سیاست کو ختم کرکے پیار اور امن وشانتی کے پیغام کو عام کرنا ہے اور ملک میں قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ گاندھی جی کو مسلمانوں اور جمعیۃ نے مہاتما بنایا تھا ، آج اسی کی قربانیوں پر پانی پھیرنے کی کوشش جاری ہے۔ انہیں انگریزوں کا پٹھو کہہ کر ان کی ہی قربانیوں پر نہیں بلکہ ان کی قربانیوں کے لیے کندھے سے کندھا ملاکر اور ہاتھ سے ہاتھ ملاکر کام کرنے والوں کی قربانیوں کو مٹانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مولانا نے آسام کے لوگوں کی قومیت پر کھڑے کیے جارہے سوالات پر اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ دستاویزات کے ہوتے ہوئے ہم ان کے ساتھ اس طرح کامعاملہ نہیں کرسکتے ۔ ان کے ہی ووٹوں سے جو لوگ سیاست میں آئے ہیں آج وہی لوگ ان کی قومیت پر سوالات کھڑے کررہے ہیں ۔ لہذا ہمیں قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ہم سے جتنی کوششیں ہوسکتی ہیں وہ کی جائیں اور نفرت کی سیاست ختم کرکے پیار ومحبت کا پیغام عام کریں۔ مولانا انظر شاہ قاسمی صاحب دامت برکاتھم نے جیل میں گذرے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حالات سبھوں پر آئے ، حتی کے انبیاء پر بھی آئے لیکن اس سے ان کا مرتبہ اور ان کا رتبہ کم نہیں ہوا ۔مولانا نے جمعیۃ علماء ہند خصوصاً حضرت مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ العالی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان حالات میں میرا ساتھ دیا جب اپنے لوگ پرائے ہوگئے تھے ۔مولانا نے کہا کہ ہما ری کامیابی اور ناکامی حالات کے بدلنے کے اندر نہیں ہے۔ میں نے جیل کے حالات دیکھے ، مرنے والا ایک بار مرتبہ ہے لیکن قیدی بار بار مرتا ہے اور بار بار زندہ ہوتا ہے۔ جامعہ مسیح العلوم کے مہتمم مولانا شعیب اللہ خان صاحب نے سیرت کی روشنی میں قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور اس کا پیغام عام کرنے کے سلسلہ میں حاضرین کو یہ پیغام دیا کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اس مشن کو بھی آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہمیں بہت ساری مثالیں ملتی ہیں جن کی روشنی میں ہم اس کام کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔ میسور مٹھ کے شری گیانا پرساد نے قومی یکجہتی کے فروغ کے سلسلہ میں مسلمانوں خصوصاً حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جس قرآنی پیغام میں یہ بات لکھی ہوئے ہے کہ اس کا پڑوسی بھوکا نہیں سوسکتا وہ قومی یکجہتی کو کیسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ جو لوگ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچان رہے ہیں وہی در اصل دہشت گرد ہیں۔ ملک کے ہر طبقہ کے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ملحوظ رہے کہ شام پانچ بجے شروع ہونے والے اس عظیم الشان پروگرام میں ہزاروں افراد نے شرکت کرتے ہوئے قومی یکجہتی کا فروغ دینے کاعز م ظاہر کیا ۔ جمعیۃ علماء ہند کرناٹک کے صدر مولانا عبدالرحیم رشیدی صاحب نے استقبالیہ اور کلماتِ تشکر ادا کیے۔ نظامت کے فرائض مولانا مفتی سید معصوم ثاقب صاحب نے ادا کیے اور اس دوران مولانا ارشد میسوری انتظامی امور کے تعلق سے بہت سی مفید باتیں جم غفیر کے سامنے رکھتے رہے ، جس سے انتظامی امور میں بڑی تقویت ملی۔اسٹیج پر جمعیۃ علماء ہند کے مختلف ریاستوں کے ذمہ داران موجود تھے۔ 

 šŽ„ œ¤ ’¥’„ ˆ¦¥ ¦ ‹¢ œŽ¥ ¥ Ÿ’žŸ  ¢¦ Ÿžœ œ ™‹Ž ¦¥  é  Ÿ¢ž  ’¥‹ Ž“‹ Ÿ‹ ¤ Ÿ‹—ž¦ ž˜ž¤
‡Ÿ˜¥¹ ˜žŸ£ ¦ ‹ œŽ …œ œ¥ ¥Ž ¦„ŸŸ ‚ ž¢Ž Ÿ¥¡ Ÿ ˜›‹¦ ›¢Ÿ¤ ¥œ‡¦„¤ œ šŽ ’ Ÿ¥¡ ¦Ž¢¡ šŽ‹ œ¤ “Žœ„ 
‚ ž¢Ž 03ñ ‹’Ÿ‚Ž 2017âšœŽ¢Š‚Ž ¥¢á   šŽ„ œ¤ ’¥’„  ¥ Ÿžœ œ¤ š•£ œ¢ ¦Ž¥ž œŽ‹¥ ¦¥ í ’ ’¥ ›‚ž ‚§¤  šŽ„¥¡ „§¥¡ ž¥œ  ‚  šŽ„¥¡ œ§ž¥¡ ˜Ÿ ƒ§¥ž ¥ œ¤ œ¢““ œ¤ ‡Ž¦¤ ¦¥ ¢Ž ’ œ¢ ƒ§¥ž ¥ œ¥ ž¥¥ ƒŽ¢ƒ¥ Œ¥ ‚§¤ œ¥¥ ‡Ž¦¥ ¦¥¡ó ¦Ÿ¥¡ œ’¤ ‚§¤ ”¢Ž„ Ÿ¥¡  šŽ„ œ¤ ’¥’„ ›‚¢ž  ¦¥¡ ¦¥ ó   ‚„¢¡ œ —¦Ž”‹Ž ‡Ÿ˜¥¹ ˜žŸ£ ¦ ‹í ‡ “¥  “¥Š ž’žŸ ‰•Ž„ Ÿ¢ž  ’¥‹ Ž“‹ Ÿ‹ ¤ Ÿ‹—ž¦ ž˜ž¤  ¥ œ¥ ó Ÿ¢ž  Ÿ¢”¢š œž Ž„ ‡Ÿ˜¥¹ ˜žŸ£ ¦ ‹ œŽ …œ œ¥ ¥Ž ¦„ŸŸ ˜¥‹ ¦ ‚žž ‚ ž¢Ž Ÿ¥¡ Ÿ ˜›‹¦ ’¥Ž„ ž ‚¤ ”ž¤ žž¦ ˜ž¥¦ ¢’žŸ œ¤ Ž¢“ ¤ Ÿ¥¡ ›¢Ÿ¤ ¥œ‡¦„¤ œ šŽ ’ ’¥ Š–‚ œŽŽ¦¥ „§¥ó Ÿ¢ž   ¥ Ÿžœ œ¥ Ÿ¢‡¢‹¦ ‰ž„ Ÿ¥¡ ‚§„¤  šŽ„¢¡ ƒŽ „“¢¥“ œ—¦Ž œŽ„¥ ¦¢£¥ œ¦ œ¦  šŽ„ œ¤ ’¥’„ ˆ¦¥ ¢¦ Ÿ’žŸ  œŽ¥ ¥ ¦ ‹¢ œŽ¥ ¢¦ Ÿžœ œ ™‹Ž ¦¥ó Ÿžœ œ¥ Ÿ¢‡¢‹¦ ‰ž„ ‚¦„ ŠŽ‚ ¦¥¡ í ¦Ÿ¥¡ ’  šŽ„ œ¤ ’¥’„ œ¢ Š„Ÿ œŽœ¥ ƒ¥Ž ¢Ž Ÿ  ¢“ „¤ œ¥ ƒ¥™Ÿ œ¢ ˜Ÿ œŽ  ¦¥ ¢Ž Ÿžœ Ÿ¥¡ ›¢Ÿ¤ ¥œ‡¦„¤ œ¢ šŽ¢™ ‹¥  ¦¥ó  ‹§¤ ‡¤ œ¢ Ÿ’žŸ ¢¡ ¢Ž ‡Ÿ˜¥¹  ¥ Ÿ¦„Ÿ ‚ ¥ „§ í ³‡ ’¤ œ¤ ›Ž‚ ¥¢¡ ƒŽ ƒ ¤ ƒ§¥Ž ¥ œ¤ œ¢““ ‡Ž¤ ¦¥ó  ¦¥¡  Ž¥¢¡ œ ƒ…§¢ œ¦¦ œŽ   œ¤ ¦¤ ›Ž‚ ¥¢¡ ƒŽ  ¦¥¡ ‚žœ¦   œ¤ ›Ž‚ ¥¢¡ œ¥ ž¥¥ œ ‹§¥ ’¥ œ ‹§ ŸžœŽ ¢Ž ¦„§ ’¥ ¦„§ ŸžœŽ œŸ œŽ ¥ ¢ž¢¡ œ¤ ›Ž‚ ¥¢¡ œ¢ Ÿ… ¥ œ¤ œ¢““¥¡ ‡Ž¤ ¦¥¡ó Ÿ¢ž   ¥ ³’Ÿ œ¥ ž¢¢¡ œ¤ ›¢Ÿ¥„ ƒŽ œ§¥ œ¥¥ ‡Ž¦¥ ’¢ž„ ƒŽ ƒ  Ÿ¢›š Žœ§„¥ ¦¢£¥ œ¦ œ¦ ‹’„¢¥„ œ¥ ¦¢„¥ ¦¢£¥ ¦Ÿ   œ¥ ’„§ ’ –Ž‰ œŸ˜Ÿž¦  ¦¥¡ œŽ’œ„¥ ó   œ¥ ¦¤ ¢¢…¢¡ ’¥ ‡¢ ž¢ ’¥’„ Ÿ¥¡ ³£¥ ¦¥¡ ³‡ ¢¦¤ ž¢   œ¤ ›¢Ÿ¥„ ƒŽ ’¢ž„ œ§¥ œŽŽ¦¥ ¦¥¡ ó ž¦ ¦Ÿ¥¡ ›¢Ÿ¤ ¥œ‡¦„¤ œ¢ šŽ¢™ ‹¥ ¥ œ¥ ž¥¥ ¦Ÿ ’¥ ‡„ ¤ œ¢““¥¡ ¦¢’œ„¤ ¦¥¡ ¢¦ œ¤ ‡£¥¡ ¢Ž  šŽ„ œ¤ ’¥’„ Š„Ÿ œŽœ¥ ƒ¥Ž ¢Ÿ‰‚„ œ ƒ¥™Ÿ ˜Ÿ œŽ¥¡ó Ÿ¢ž   —Ž “¦ ›’Ÿ¤ ”‰‚ ‹Ÿ„ ‚Žœ„§Ÿ  ¥ ‡¥ž Ÿ¥¡ Ž¥ ‰ž„ ‚¥  œŽ„¥ ¦¢£¥ œ¦ œ¦ ‰ž„ ’‚§¢¡ ƒŽ ³£¥ í ‰„¤ œ¥  ‚¥£ ƒŽ ‚§¤ ³£¥ ž¥œ  ’ ’¥   œ ŸŽ„‚¦ ¢Ž   œ Ž„‚¦ œŸ  ¦¥¡ ¦¢ 󟢞   ¥ ‡Ÿ˜¥¹ ˜žŸ£ ¦ ‹ Š”¢”Ç ‰•Ž„ Ÿ¢ž  ’¥‹ Ž“‹ Ÿ‹ ¤ Ÿ‹—ž¦ ž˜ž¤ œ Š”¢”¤ –¢Ž ƒŽ “œŽ¥¦ ‹ œŽ„¥ ¦¢£¥ œ¦ œ¦  ¦¢¡  ¥   ‰ž„ Ÿ¥¡ Ÿ¥Ž ’„§ ‹¥ ‡‚ ƒ ¥ ž¢ ƒŽ£¥ ¦¢£¥ „§¥ 󟢞   ¥ œ¦ œ¦ ¦Ÿ Ž¤ œŸ¤‚¤ ¢Ž  œŸ¤ ‰ž„ œ¥ ‚‹ž ¥ œ¥  ‹Ž  ¦¤¡ ¦¥ó Ÿ¥¡  ¥ ‡¥ž œ¥ ‰ž„ ‹¥œ§¥ í ŸŽ ¥ ¢ž ¥œ ‚Ž ŸŽ„‚¦ ¦¥ ž¥œ  ›¥‹¤ ‚Ž ‚Ž ŸŽ„ ¦¥ ¢Ž ‚Ž ‚Ž  ‹¦ ¦¢„ ¦¥ó ‡Ÿ˜¦ Ÿ’¥‰ ž˜ž¢Ÿ œ¥ Ÿ¦„ŸŸ Ÿ¢ž  “˜¥‚ žž¦ Š  ”‰‚  ¥ ’¥Ž„ œ¤ Ž¢“ ¤ Ÿ¥¡ ›¢Ÿ¤ ¥œ‡¦„¤ œ¢ šŽ¢™ ‹¥ ¥ ¢Ž ’ œ ƒ¥™Ÿ ˜Ÿ œŽ ¥ œ¥ ’ž’ž¦ Ÿ¥¡ ‰•Ž¥  œ¢ ¥¦ ƒ¥™Ÿ ‹¥ œ¦ ¦Ÿ¥¡  ‚¤ ”ž¤ žž¦ ˜ž¥¦ ¢’žŸ œ¤  ‹¤ œ¥ ’ Ÿ“  œ¢ ‚§¤ ³¥ ‚§ ¥ œ¤ •Ž¢Ž„ ¦¥ó žž¦ œ¥  ‚¤ ”ž¤ žž¦ ˜ž¥¦ ¢’žŸ œ¤ ‰¥„ Ÿ‚Žœ¦ Ÿ¥¡ ¦Ÿ¥¡ ‚¦„ ’Ž¤ Ÿ†ž¥¡ Ÿž„¤ ¦¥¡ ‡  œ¤ Ž¢“ ¤ Ÿ¥¡ ¦Ÿ ’ œŸ œ¢ ³¥ ‚§’œ„¥ ¦¥¡ó Ÿ¥’¢Ž Ÿ…§ œ¥ “Ž¤ ¥  ƒŽ’‹  ¥ ›¢Ÿ¤ ¥œ‡¦„¤ œ¥ šŽ¢™ œ¥ ’ž’ž¦ Ÿ¥¡ Ÿ’žŸ ¢¡ Š”¢”Ç ‰•Ž„ …¥ƒ¢ ’ž–  “¦¥‹ Ž‰Ÿ¹ žž¦ ˜ž¥¦ œ¤ Š‹Ÿ„ œ „œŽ¦ œŽ„¥ ¦¢£¥ œ¦ œ¦ ‡’ ›Ž³ ¤ ƒ¥™Ÿ Ÿ¥¡ ¥¦ ‚„ žœ§¤ ¦¢£¥ ¦¥ œ¦ ’ œ ƒ¢’¤ ‚§¢œ  ¦¥¡ ’¢’œ„ ¢¦ ›¢Ÿ¤ ¥œ‡¦„¤ œ¢ œ¥’¥  ›”  ƒ¦ ˆ ’œ„ ¦¥ó ‡¢ ž¢ ›¢Ÿ¤ ¥œ‡¦„¤ œ¢  ›”  ƒ¦ ˆ  Ž¦¥ ¦¥¡ ¢¦¤ ‹Ž ”ž ‹¦“„ Ž‹ ¦¥¡ó Ÿžœ œ¥ ¦Ž –‚›¦ œ¥ šŽ‹ œ¢ ¥œ ƒž¥… šŽŸ ƒŽ ‡Ÿ˜ ¦¢œŽ ›¢Ÿ¤ ¥œ‡¦„¤ œ¢ šŽ¢™ ‹¥ ¥ œ¤ •Ž¢Ž„ ¦¥ó Ÿž‰¢— Ž¦¥ œ¦ “Ÿ ƒ ˆ ‚‡¥ “Ž¢˜ ¦¢ ¥ ¢ž¥ ’ ˜—¥Ÿ ž“  ƒŽ¢ŽŸ Ÿ¥¡ ¦Ž¢¡ šŽ‹  ¥ “Žœ„ œŽ„¥ ¦¢£¥ ›¢Ÿ¤ ¥œ‡¦„¤ œ šŽ¢™ ‹¥ ¥ œ˜ Ÿ —¦Ž œ¥ ó ‡Ÿ˜¥¹ ˜žŸ£ ¦ ‹ œŽ …œ œ¥ ”‹Ž Ÿ¢ž  ˜‚‹žŽ‰¥Ÿ Ž“¥‹¤ ”‰‚  ¥ ’„›‚ž¥¦ ¢Ž œžŸ„ª „“œŽ ‹ œ¥¥ó  —Ÿ„ œ¥ šŽ£• Ÿ¢ž  Ÿš„¤ ’¥‹ Ÿ˜”¢Ÿ †›‚ ”‰‚  ¥ ‹ œ¥¥ ¢Ž ’ ‹¢Ž  Ÿ¢ž  Ž“‹ Ÿ¥’¢Ž¤  „—Ÿ¤ Ÿ¢Ž œ¥ „˜ž› ’¥ ‚¦„ ’¤ Ÿš¥‹ ‚„¥¡‡Ÿ ™š¥Ž œ¥ ’Ÿ ¥ Žœ§„¥ Ž¦¥ í ‡’ ’¥  „—Ÿ¤ Ÿ¢Ž Ÿ¥¡ ‚¤ „›¢¥„ Ÿž¤ó’…¥‡ ƒŽ ‡Ÿ˜¥¹ ˜žŸ£ ¦ ‹ œ¥ ŸŠ„žš Ž¥’„¢¡ œ¥ Ÿ¦ ‹Ž  Ÿ¢‡¢‹ „§¥ó 

 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES