dushwari

کے پی ایم ای بل کے خلاف ریاست بھر میں پچاس ہزار ڈاکٹر احتجاج پر

بل سے کئی متنازعہ شرائط ہٹائے جانے کے امکانات

بیلگاوی :13؍نومبر2017(فکروخبرنیوز) کے پی ایم ای بل میں ترمیم کے معاملہ کو لے کرآج سے ہزاروں نجی اسپتال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے ریاستی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست بھر میں تقریباً پچاس ہزار ڈاکٹروں نے اپنی خدمات انجام نہیں دی اورپچیس ہزار ڈاکٹر اس معاملہ پر اپنا احتجاج درج کرنے کے لیے بیلگاوی پہنچ گئے جہاں کچھ ہی دنوں میں سرمائی سیشن شروع ہونے والا ہے۔

ڈاکٹروں نے ایمرجنسی خدمات اور اسپتال میں پہلے سے موجود مریض کے علاج ومعالجہ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں لیکن آج کسی بھی نئے مریض کا علاج نہیں کیا گیا، دوسری جانب اس بات کے اشارہ بھی مل رہے ہیں کہ طبی برادری سے تعلقات کی بحالی کے لئے سرکار اس بل سے کئی متنازعہ شرائط  ہٹا سکتی ہے ، وزیر اعلی سدارامیا نے ڈاکٹروں کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے KPME ایکٹ میں ترمیم کے متنازعہ بل کو پیش کرنے سے قبل ڈاکٹروں سے اس سلسلہ میں بحث کرنے کی یقین دہانی کی ہے ،طبی پیشہ سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے متنازعہ کے پی ایم ای بل میں ترمیم کے ریاستی حکومت کے فیصلہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بلگاوی پہونچ کر احتجاج درج کیا ، خیا ل رہے کہ کرناٹک کی ریاستی حکومت KPME ایکٹ میں کچھ ترمیمات کے بل کو بیلگاوی میں شروع ہونے والے سرمائی سیشن میں پیش کر نے والی ہے ،جس کی وجہ سے ڈاکٹروں میں شدید برہمی پائی جارہی ہے ،ترمیم میں ایک تو طے شدہ فیس سے زیادہ وصولنے پر ڈاکٹروں پر جرمانہ عائد کرنے اور مریض کے علاج کے دوران لاپرواہی برتنے کو جرم قرار دیتے ہوئے اس پر قانونی کارروائی کی جانے کی سفارشات شامل ہیں ،اسی سلسلہ میں انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن کے صدر کی قیادت میں ایک وفد سے وزیر اعلی سدا رامیا نے کہا کہ سرکار آپ کو پریشان کر نے کا ارادہ نہیں رکھتی ،انہوں نے درخواست کی کہ وہ اس احتجاج کو روک دیں ،سدارامیا نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اس متنازعہ بل کو سرمائی سیشن میں پیش کرنے سے قبل میڈیکل ایسوسی ایشن کے ذمہ داران سے اس سلسلہ میں ایک بیٹھک کریں گے ،جس میں اس معاملہ پرمزید غور کیا جائے گا ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES