dushwari

زعفرانی تنظیموں کے احتجاج کے باوجودکرناٹکا میں ٹیپو جینتی منائی گئی

بنگلور:10؍نومبر2017(فکروخبر/ذرائع)کرناٹک میں سخت ترین حفاظتی انتظامات میں ٹیپوسلطان کی یوم پیدائش تقاریب منائی گئی جبکہ بی جے پی اور دیگر زعفرانی جماعتوں نے اس کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج کیا۔ ریاست میسور کے 18ویں صدی کے حکمراں ٹیپوسلطان کی یوم پیدائش منائے جانے پر جہاں سیاسی ماحول گرم رہا وہیں لوگوں میں بھی رائے منقسم نظر آئی۔ اپوزیشن بی جے پی اور کئی ہندو تنظیموں اور افراد نے حکومت کرناٹک کی جانب سے ٹیپو جینتی منائے جانے کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج کیا۔حکومت نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے پولیس ریزرو پولیس ریاپڈ ایکشن فورس کے 54ہزار جوانوں کو متعین کیا تھا جنہوں نے صورتحال پر سخت نظر رکھی۔

ضلع مستقروں پر تقاریب کا اہتمام کیا گیا جہاں انچارج وزراء اور دوسروں نے ٹیپوسلطان کی خدمات کو سراہا۔اطلاع ہے کہ ایک ریاستی ٹرانسپورٹ کی بس سمیت کئی گاڑیوں پر سنگباری کی گئی جس کی وجہ سے اُنہیں نقصان پہنچا۔ پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے تشدد کرنے والے 200 سے زیادہ بی جے پی کارکنوں بشمول بی جے پی رکن اسمبلی اے رنجن کو کڈاگو ضلع میں گرفتار کرلیا گیا۔اطلاعات کے مطابق احتجاجیوں نے درخت کاٹ کر راستے روکنے کی کوشش کی۔ ضلع میں 2 سال پہلے بھی ٹیپو جینتی کے موقع پر احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات میں وشواہندو پریشد کا ایک مقامی لیڈر ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے تھے جن میں پولیس جوان بھی شامل ہے۔ ضلع میں امتناعی احکامات نافذ کئے گئے ہیں جو کل تک برقرار رہیں گے,حکومت نے ضلع مستقروں پر منائی گئی تقاریب کے مقام پر 20ہزار ہوم گارڈس کرناٹک اسٹیٹ ریزرو پولیس کے 212 پلاٹون ریاپڈ ایکشن فورس کے 15 پلاٹون متعین کئے تھے۔ صدرمقام بنگلور پر سرکاری تقاریب کے مقام پر 11ہزار پولیس جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ریاستی دارالحکومت میں مسلمانوں نے بھی مختلف علاقوں میں ٹیپوسلطان کا یوم پیدائش منایا اور چند مقامات پر اشرار کی جانب سے گاڑیوں اور دکانوں پر پتھر پھینکنے کے واقعات پیش آئے۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES