dushwari

مسئلہ کشمیر کا حل عوامی امنگوں کے مطابق ہو ، ہم بامعنی مذاکرات کے خلاف نہیں : علاحدگی پسند لیڈر میرواعظ

سرینگر۔9نومبر 2017(فکروخبر/ذرائع)  حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے کہا کہ جموں وکشمیر کی علیحدگی پسند قیادت نہ امن کے خلاف ہے اور نہ بامعنی مذاکراتی عمل کے خلاف بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے ساتھ ساتھ پورے جنوبی ایشیائی خطے میں امن و سکون کا ماحول قائم ہو لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے یہاں کے امن کو جو خطرات لاحق ہیں ان کا تدارک کیا جائے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔میرواعظ نے ان باتوں کا اظہار نئی دہلی میں مقیم بوسنیا و ہرزیگویناکے سفیر سابت صباسک کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران کیا ہے۔

حریت ترجمان کے مطابق بوسنیا و ہرزیگویناکے سفیر نے جمعرات کو یہاں میرواعظ کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران سفیر موصوف نے مختلف امورات پر میرواعظ کے ساتھ تبادلہ خیالات کیا اور حریت چیئرمین نے معزز مہمان کو مسئلہ کشمیر کے تاریخی اور جغرافیائی پس منظر ، رواں جدوجہد آزادی اور کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال سے تفصیل سے آگاہ کیا ۔

میرواعظ نے بوسنیا کے سفر کو بتایا ہے کہ ایک بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکراتی عمل کی راہ میں بھارت سرکار کی ہٹ دھرمی اور انا پرستی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ہم نے بارہا اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیری عوام دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کے لئے ایک پل کا کام کرنا چاہتے ہیں اور ہم ہر ایسے عمل کی حمایت کرتے ہیں جس کا مقصد مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کا حل نکالنا مقصود ہو۔
میرواعظ نے کہا کہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی خونریز جنگیں ہو چکی ہیں اور آج بھی دونوں ممالک اس مسئلہ کے وجہ سے ہی حالت جنگ میں ہیں ۔ روزانہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے آر پار انسانی جانیں تلف ہو رہی ہیں۔میرواعظ نے دوران ملاقات کہا ہے کہ بوسنیا کے عوام بڑے صبر آزما اور مشکل دور سے گزرے ہیں اور اپنی جدوجہد آزادی میں وہاں کے عوام نے بے پناہ مصائب و آلام برداشت کئے اور آخر کار ان کی جدوجہد مکمل آزادی پر منتج ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھی گزشتہ 70 برسوں سے اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں اور آج تک لاکھوں افراد نے اس راہ میں قربانیاں پیش کی ہیں اور آج بھی یہاں کے عوام سرکاری سطح پر جاری مظالم کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تو یہاں کی چوتھی نسل بھی اس تحریک سے جڑ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کی مزاحمتی قیادت کی پر امن سرگرمیوں پر قدغنیں اور پابندیاں عائد ہیں۔ ہمارے سینکڑوں نوجوان اور کارکنان بھارت کے مختلف جیلوں میں اسیری کے ایام کاٹ رہے ہیں اور حقوق انسانی کی پامالیاں عروج پر ہیں، ہمارے جملہ سیاسی اور مذہبی حقوق طاقت کے بل پر سلب کر لئے گئے ہیں ۔حریت ترجمان کے مطابق معزز مہمان نے حریت چیرمین کو یقین دلایا کہ ہم جموں وکشمیر کے عوام کے دکھ اور درد کو سمجھتے ہیں کیونکہ ہم خود ان مراحل سے گذر چکے ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ اس دیرینہ تنازع کو پر امن ذرائع سے حل کرنے کے لئے اورمتعلقین کو نزدیک لانے کے لئے جو بھی ہم سے ہوسکتا ہے اس کی پوری کوشش کی جائے گی۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES